صدرکا حلف اور ڈاکٹر عارف علوی

     صدرکا حلف اور ڈاکٹر عارف علوی
     صدرکا حلف اور ڈاکٹر عارف علوی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 صدر ڈاکٹر عارف علوی کو صرف ایک آئینی استحقاق حاصل ہے کہ جب تک وہ ایوان صدر میں ہیں، ان کے خلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی نہیں کی جا سکتی کیونکہ انہیں آئینی تحفظ حاصل ہے، لیکن جب وہ اس عہدے پر فائز نہیں رہیں گے تو یقینا انہیں اپنے کئے کا حساب دینا ہوگا۔ دراصل پی ٹی آئی کی شکل میں ناتجربہ کاروں کی ایک ایسی فوج ظفر موج کو ملک پر مسلط کیا گیا، جس کے سبب آج ہر پاکستانی کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، لیکن آفرین ہے پی ٹی آئی کے حامیوں پر جو کہتے پائے جاتے ہیں کہ عمران خان کو دو دن کے لئے آزاد کریں تو نواز شریف سے بڑا جلسہ کرکے دکھادیں گے ۔ کیا کہنے!.... یعنی جن سے عمران خان کی گرفتاری پر ڈھنگ کا احتجاج نہیں ہوسکا وہ اس کی رہائی پر کیا جشن منائیں گے،مگر اس کے باوجود سوشل میڈیا پر چلے جایئے اور پی ٹی آئی کی طرف سے جاری پراپیگنڈے پر ایک نظر ڈالئے تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے کس طرح پاکستان کی نوجوان نسل اور خواتین کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیا ہوا ہے ۔

ڈاکٹر عارف علوی کے بیانات، ٹی وی انٹرویو اور طرزِ عمل کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے آفس میں ایک چھوٹا انسان بیٹھا ہوا ہے جو ریاست کے سب سے بڑے عہدے پر فائز ہو کر بھی اپنے آپ کو ذاتی مفادات اور سیاسی وابستگی سے علیحدہ نہیں کر سکا ، جس کا خود ڈاکٹر عارف علوی کو نقصان ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، صدرِ مملکت کے عہدے کی توقیر و تعظیم کو بہت ہوا ہے ۔ کیا اگلے عام انتخابات تک صدرِ مملکت کے آفس سے اسی طرح آئین و قانون کی دھجیاں اڑتی رہیں گی ؟ کیاایک پارٹی ورکر اسی طرح ریاستی اداروں پر پی ٹی آئی کے حملوں کا دفاع کرتا رہے گا اور آئین کا مذاق اڑاتا رہے گا ؟ کوئی ہے جو نوٹس کرے!!!

آئین کے تیسرے شیڈول میں صدرِ مملکت کے لئے دیئے گئے حلف نامے میں درج ہے کہ وہ اپنے کار منصبی میں ذاتی مفاد یا اثر کو حائل نہیں ہونے دیں گے، آئین پاکستان کی پاسداری، تحفظ اور دفاع کو یقینی بنائیں گے اور ہر طرح کے حالات میں راست سوچ اپنائے رکھیں گے اور کسی خوف، عنائت و رغبت کو آڑے نہ آنے دیں گے۔ 

حلف کی درج بالا تحریر کی روشنی میں اگر ان کی جانب سے معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کو دیئے گئے انٹرویو کو جانچیں تو ساری قوم کا سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ کیونکر صدر ڈاکٹر عارف علوی اپنے حلف کو فراموش کرکے جذبات کی رو میں بہہ کر پاکستان تحریک انصاف کے ایک کارکن جیسا رویہ اپنائے رکھیں گے۔ خاص طور پر اب جبکہ عام انتخابات کے حوالے سے 28جنوری کی تاریخ کا بالواسطہ اعلان ہو گیا ہے، صدرِ مملکت کا انٹرویو ان کے لئے مزید خجالت کا باعث بنتا رہے گا۔ مرحوم عارف نظامی نے ایک ٹی وی شو میں کہا تھا کہ ڈاکٹر علوی بھی سوائے دانت نکالنے کے کچھ نہیں کرتے !

صدرِ مملکت کا عہدہ ملکی اتحاد کی علامت سمجھاجاتا ہے۔ چونکہ صدر سربرارہ مملکت ہوتا ہے اور وفاق کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے اس لئے حلف اٹھالینے کے بعد ان کے بارے میں سمجھاجاتا ہے کہ وہ انتخابات میں کسی امیدوار یا کسی سیاسی جماعت کی طرفداری یا حمائت نہیں کریں گے، کیونکہ ان کی حیثیت باپ کی سی ہوتی ہے جس کی نظر میں ہر کوئی برابر ہوتا ہے اور جو ریاست کی علامت ہوتا ہے اور پارلیمانی نظام حکومت میں سنٹرل پیس کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی بھی پارلیمانی نظام مملکت میں صدر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ غیر سیاسی، جماعتی وابستگی سے بالاتراور بالارادہ کسی بھی سیاسی، نسلی، لسانی، علاقائی نوعیت کی وابستگی سے ہٹ کر اپنا تشخص قائم رکھتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ صدر قومی وحدت کی علامت ہوتا ہے اس لئے اس سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد کسی بھی شخص یا سیاسی جماعت کا طرفدار نظر آئے ، کسی کو اپنے عہدے کی بنا پر فائدہ یا نقصان پہنچائے، انتخابات میں ایک فریق بنا نظر آئے اور کسی کی حمائت یا مخالفت کرے۔ 

صدرِ مملکت کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں غیر جانبداری اور نیوٹریلٹی کو ملحوظ خاطر رکھے اور لحظہ بھر کو بھی سیاست کا حصہ بنتا ہوا محسوس نہ ہو۔ ان کے کسی بھی عمل سے بدنیتی کا شائبہ نہیں گزرنا چاہئے ۔ امریکہ کے صدارتی نظام میں صدر اپنے عہدے کا حلف اٹھانے سے قبل بھی انتظامی امور سرانجام دے سکتا ہے، لیکن پارلیمانی نظام میں جب تک صدر اپنے عہدے کا حلف نہیں اٹھالیتا تب تک وہ اپنے آفس میں بھی داخل نہیں ہوسکتا۔ 

یہ تمام باتیں آئین اور قانون کی کتابوں میں درج ہیں اور اس کے علاوہ کئی ایک عدالتی نظائر میں وضاحت سے درج کی گئی ہیں۔ ان کی روشنی میں اگر صدر ڈاکٹر عارف علوی کے حالیہ انٹرویو کا جائزہ لیا جائے تو وہ بات بات پر اپنے حلف کی خلاف ورزی اور نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے قبل بھی جب عمران خان نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس انہیں بھیجی ، صدر ڈاکٹر عارف علوی نے بلاچوں و چراں اس پر عمل کرکے اپنی ریاستی حیثیت پر سیاسی وابستگی کو ترجیح دی تھی جو سراسر ان کے حلف کی خلاف ورزی تھی۔اس سے بھی پہلے جب انہیں وزیر اعظم ہاﺅس سے موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس موصول ہوا تھا تو انہوں نے اپنی دانش کا استعمال کرنے کی بجائے ڈاکخانے کا کردار ادا کیا تھا ، جو ان کے عہدے کے تقاضوں کے برعکس عمل تھا اور آج اس سارے عمل سے اپنے آپ کو لاتعلق ثابت کرتے نظر آتے ہیں، حالانکہ جس لاتعلقی کا اظہار وہ اس وقت کررہے ہیں، ایسا تب کرتے تو صدرِ مملکت کے عہدے کی توقیر میں اضافے کا سبب بنتے۔ 

مزید :

رائے -کالم -