”بھرا جی ، اردو نہیں آتی“ 

     ”بھرا جی ، اردو نہیں آتی“ 
     ”بھرا جی ، اردو نہیں آتی“ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 پچھلی صدی کی آخری چوتھائی کے میرے شاگرد اور بعد ازاں گوجرانوالہ کے نامور ڈینٹِسٹ، ڈاکٹر ندیم عزیز بٹ نے یاد دلایا ہے کہ یہ واقعہ گورنمنٹ کالج لاہور میں پرانی بلڈنگ کی بالائی منزل پر پیش آیا تھا۔ ایف ایس سی کی کلاس میں انگریزی کے نوزائیدہ استاد کا لیکچر ختم ہوتے ہی ایک طالب علم نے ہاتھ اونچا کیا :” سر ، اگر اردو میں ’طوطا‘ ہم ’ط‘ کی بجائے ’ت‘ سے لکھیں تو کیا ہوگا ؟ ”کچھ نہیں ہوگا، بس طوطے کی ہریالی کم ہو جائے گی۔“ جواب سُن کر ساری جماعت ہنس پڑی ۔ ساتھ مَیں نے یہ بھی کہہ دیا کہ ’ط‘ کی شکل پہ غور کریں تو لگے گا کہ اِس کے اندر ایک طوطا بیٹھا ہوا ہے ۔“ لڑکوں نے پھر اثبات میں سر ہلایا ۔ میرے سامنے البتہ یہ سوال رہ گیا کہ زبان کی صحت کا معیار معروضی قواعد ہیں یا محض شخصی عادات ؟ ’توتا‘ ہندوستانی لفظ تھا جبکہ ’ط‘ عرب اور ایران کے راستے ہمارے ہاں پہنچی اور ہمیں اچھی لگی ۔ مگر کیوں؟

 تین سال گزرے تھے کہ یونیورسٹی آف ویلز میں لسانی تدریس کا کور س کرتے ہوئے انگریز اساتذہ کے زیرِ اثر میرے صحیح اور غلط کے خیالات میں نرمی پیدا ہونے لگی ۔ پتا چلا کہ برطانیہ میں لندن کی کوکنی سے نارتھ ویلز کی صوتی دائرے بناتی انگلش تک، پھر مڈلینڈز اور یارک شائر سے گزر کر آئرش اور سکاٹش لہجے ۔ کُل مِلا کر یہ بولیاں آدھ درجن سے زیادہ بنتی ہیں ۔ تو آیا صحیح اور غلط میں امتیاز کیا جائے یا مستعمل اور غیر مستعمل کے مابین ؟ جواب ملا کہ مختلف علاقائی لہجوں کے ہوتے ہوئے بھی ایک متفقہ معیاری زبان کا تصور موجود ہے ۔ اسی کو اوکسفرڈ انگلش یا بی بی سی انگلش کہتے ہیں ۔ فنی طور پر اِس کی تعریف ہے: ”وہ انگریزی جو جنوب مشرقی انگلستان میں مستقل آباد پیشہ ور متوسط طبقات کے لوگ عادتاً بولتے ہیں ، مگر جب ہوش و حواس میں ہوں!“ 

 ماہرین کے نزدیک تحریر کی بنیاد بول چال ہے۔ بہرحال ، تحریر اور گفتگو دونوں کا اسلوب معانی کا حصہ ہوتا ہے، خاص طور پر مادری زبان میں ۔ میرے والد تقسیم سے پہلے اُتر پردیش کے شہر بریلی میں ایک ہمکار کے دروازے پر ہوا یہ مکالمہ مادری زبان کی پُر تاثیر ادائیگی کی مثال کے طور پر دُہرایا کرتے تھے۔ ”افتخار بھائی کب تک گھر آئیں گے؟“ سات سالہ بچی نے جواب دیا ”چراغ جلے لوٹیں گے۔“ آزاد پاکستان میں بھی نئے پرانے بیسیوں الفاظ کے درمیان چناﺅ کی گنجائشیں موجود ہیں : باغ ، چمن ، گلستان ، پارک ہم معنی سہی، پر اِن میں کچھ نہ کچھ فرق بھی ہے ۔ اسی طرح کلیسا ، گرجا ، گرجا گھر ، چرچ ۔ کہیِں صوتی آہنگ جدا ہے، کہیِں تصویریں الگ الگ بن رہی ہیں۔ خود مجھے شاخِ شجر جیسی عالمانہ ترکیب کی جگہ درخت کی ٹہنی اچھی لگتی ہیں اور سربفلک عمارات کے مقابلے میں اونچی اونچی عمارتیں۔ 

 یہاں اسلوب و معانی کے رشتوں پر ریسرچ کا ارادہ نہیں۔ مَیں تو ایک ذاتی مشکل بیان کرنا چاہتا تھا جو دیکھنے میں بچگانہ سی لگے گی۔ اتنی بچگانہ کہ شاید آپ کی ہنسی چھوٹ جائے ۔ میرا مسئلہ ہے ۔ ۔ ۔ میرا مسئلہ ہے کہ (اب کیسے بیان کروں؟) ۔ ۔ ۔ جی مسئلہ یہ ہے کہ (اب اور شرم آ رہی ہے ) ۔ ۔ ۔ مجھے نا ، بس یوں کہہ لیں ۔ ۔ ۔ اردو کے کچھ الفاظ لکھنے نہیں آتے ۔ آپ پوچھیں گے ”اچھا اچھا ، وہ جو فیض احمد فیض نے معذرت کی تھی کہ بھئی، ہماری انگریزی کچھ آرائشی قسم کی ہوتی ہے ۔ تو کیا شاہد ملک کی اردو بھی اِتنی سجاوٹی ہے کہ وہ اپنے ہی لفظوں کے ہجے نہیں کر پاتے ؟“ عرض کروں گا ”ڈانٹیں مت ۔ مسئلہ اِسی نوعیت کا ہے ، لیکن پہلے ذرا پس منظر پہ غور کر لیں۔ “

 دس سال ہوئے جب روایتی ’قلم چھوڑ‘ ہڑتال کی طرح مَیں نے بھی ٹی وی چینلوں کے غیر مصدقہ مواد ، اینکروں اور اینکرنیوں کی مدقوق آوازوں اور فلم بندی کی ولیمہ ٹیکنالوجی کے بائیکاٹ کی خاطر اپنی یک رُکنی ’منہ موڑ‘ تحریک چلائی تھی ۔ پھر وطن کی محبت میں سوچا کہ یار، کرکٹ میں ناخوشگوار کارکردگی سے لے کر روپے کی گِرتی ہوئی قدر تک ہم ایک بار پھر ’نازک ترین دَور‘ سے گزر رہے ہیں ، سو آواز بند کرکے کم ازکم تحریری متن تو دیکھ لیا کرو۔ مسئلے کی شروعات میری اِسی آئینی ترمیم کا سوﺅ موٹو نتیجہ تھیں ۔ پہلے ہی دن تین لفظ دلچسپی کا ہدف بنے : ’کیے‘ ، ’لیے‘ اور ’دیے‘ ۔ خیر، اسپیشلسٹ ڈاکٹر سے پہلے جی پی کے پاس جانے کے عادی مریض نے زبان و ادب کے جید نباض خواجہ زکریا کو زحمت نہ دی۔ اُن کی بجائے ایک عزیزہ سے مشورہ کر لیا جو پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ میں کتابوں کی تدوین سے منسلک رہی ہیں۔

 ٹیکسٹ بُک بورڈ کی پالیسی جس حد تک سمجھ میں آئی اُس میں ہمزہ کی علامت سے گریز ایک بنیادی نکتہ تھا ۔ پھر تشویش ہوئی کہ ’آئے جائے ، چائے شائے یا آج کل کی ’بائے بائے‘ کیسے لِکھوں؟ یہ پریشانی بھی تھی کہ مُلک کی قدیم ترین درسگاہ میں بطور قومی خدمت جرنلزم پڑھانے کی میری کاوش ماضیءقریب میں اِس بنا پر تعطل کا شکار رہی ہے کہ آپ کے پاس تو مطلوبہ سطح کی ڈگری ہی نہیں ۔ اب نیب والے کہِیں یہ اعتراض نہ کر دیں کہ صرف ثانوی سطح تک اردو پڑھ کر کالم نویسی اور پرانے دَور کے ماہنامہ ’سویرا ‘ کی پیروی میں ’ادب ، آرٹ ، کلچر‘ کا نعرہ بھی ذہنی کرپشن کی ایک شکل ہے۔ چنانچہ ’چائے، شائے‘ کے مسئلے پر خواجہ زکریا صاحب سے رہنمائی کا طلب گار ہوا اور اُن کا فیصلہ حرفِ آخر لگا ۔ کہنے لگے ” کیے، لیے، دیے کی طرح جہاں ’ے‘ کی آواز ہو وہاں ’ے‘ ہی لکھیں اور جہاں واول گلائیڈ والی نیم قوس ہو وہاں ہمزہ ڈال دیں۔“

 گھر پہنچا تو کالم ٹائپ کرنے کا مُوڈ طاری ہو گیا۔ اب ذہن میں ایک نیا سوال کلبلانے لگا کہ جن الفاظ کا امالہ کرنے کا طریقہ اسکول کے استاد مولانا بشیر احمد صمصام نے سکھایا تھا ، اُن سے کیا سلوک کیا جائے ۔ صمصام صاحب نے سکھایا تھا کہ لکھیں گے ”وہ قلعہ سے نکل آیا“ مگر پڑھیں گے ”وہ قلعے سے ۔۔۔ “ اِسی طرح ”مَیں کلکتہ میں رہتا تھا“ اِسے پڑھیں گے ”مَیں کلکتے میں ۔ ۔ ۔“ ساتھ ہی ’مثلاً‘ ، ’اصلاً‘ ، ’یقناً کی دو زبر کا سوال جو کمپیوٹر کی نذر ہوتی جا رہی ہیں۔ یہی نہیں ، اشارہ ءقریب اور اشارہءبعید کے طور پر ’اِس‘ اور ’اُس‘ کا فرق بھی تو واضح کرنا ہے ۔ یہاں بھی زیر اور پیش کی علامتیں ہیں تو کارآمد ، لیکن کاغذ پر اِن کی تکرار آنکھوں کو بھلی نہیں لگتی۔ 

 اردو ہجوں پر اعلی سطحی غور و خوض جاری تھا کہ مجھے اپنے مرحوم دوست عبید اللہ خان یاد آ گئے ۔ بھلے وقتوں کے ریاضی اور فزکس میں فرسٹ کلاس ایم ایس سی اور وفاقی کالجوں کے پرنسپل ۔ عمر میں بھی مجھ سے کافی بڑے تھے۔ بس اچھی انگلش نہ جاننے کا شدید کامپلیکس لگا رہتا ۔ جب بھی مِلتے قریب آ کر کہتے ”بھرا جی، کجھ کرو ، انگریزی نئیں آﺅندی ۔“ تنگ آ کر مَیں نے مشورہ دیا کہ ہر روز ’پاکستان ٹائمز‘ کا اداریہ پڑھ کر اُس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لِکھیں اور شام کو مجھے دکھا دیں ۔ یہ سلسلہ تین دن چلا ۔ چوتھے روز کہنے لگے کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے ۔ ”وہ کیسے؟“ فرمایا ”مَیں نے ٹِیپو کی کتاب شروع کر لی ہے“ ۔ اُن کا بیٹا ٹِیپو اُس وقت انگلش میڈیم میں چوتھی کلاس کا طالب علم تھا ۔ عبید اللہ خان کی طرح مَیں اب مَیں بھی سوچ رہا ہوں کہ کیوں نہ ٹیکسٹ بُک بورڈ کی چوتھی کا قاعدہ شروع کر لوں تاکہ مجھے بھی نئے زمانے کی اردو جلد از جلد آ جائے۔

مزید :

رائے -کالم -