سسلین مافیا جسٹس اور عالم ارواح کا حلف

    سسلین مافیا جسٹس اور عالم ارواح کا حلف
    سسلین مافیا جسٹس اور عالم ارواح کا حلف

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 جسٹس ڈاکٹر غزالی استاد مکرم کی ڈانٹ الحمدللہ کبھی کبھی عطا ہو ہی جاتی ہے ۔ میری تحریر میں انہیں خود ستائشی ملے تو توجہ دلا دیتے ہیں۔ ادھر برادران خورد متقاضی رہتے ہیں کہ اسلامی یونیورسٹی کے سابقون اولون میں سے ہونے کے باعث میں اپنے تجربات لکھا کروں کہ اگر کبھی جامعہ کی تاریخ مرتب ہوئی تو یہ تحریریں کام آئیں گی۔ یہ خورد و کلاں ہیں تو بہت لیکن حالیہ یاددہانی عزیزم ڈاکٹر عابد مسعود نے کرائی: "تھوڑا ہی سہی لیکن لکھتے رہا کریں، یہی تاریخ کہلائے گی"۔ لیکن مسئلہ یہ پیش آیا کہ ایسا کیا لکھوں کہ عام قاری کو اسلامی یونیورسٹی پر میری تحریر میں جاذبیت ملے ۔

جنرل مشرف کے کلہاڑے سے جب کوئی اور ادارہ نہ بچا تو عدلیہ کیسے محفوظ رہتی۔ کبھی جسٹس منیر کا فیصلہ پڑھا تھا جس کے متنازع ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں، پر سچ پوچھیں تو جس قانونی مہارت سے انہوں نے فیصلہ لکھا،جی ہاں اس فیصلے کی گنجائش موجود تھی۔ قانونی باریکیاں پِتہ ماری مانگتی ہیں۔ عام آدمی تو اخباری چٹخارے کا اسیر ہوتا ہے ،صحافت جدھر چاہے اسے بہا لے جاتی ہے کہ فیصلہ کس نے پڑھنا ہے اور کون اسے سمجھتا ہے ۔ جسٹس منیر پر علاوہ ازیں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ، ان کے جھوٹ ثابت ہو چکے ہیں، ان کا سازشی ذہن لوہا منوا چکا ہے ، لیکن جہاں تک مولوی تمیز الدین کیس کا تعلق ہے تو اس کے ہر لفظ میں قانونی ذہن کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے ۔

1999 سے قبل کی عدلیہ پر بھی گفتگو ممکن ہے . مانا کہ عدلیہ نے فوجی آمروں کو ہمیشہ دوام دیا، تاہم اس عدلیہ کا عمومی ناک نقشہ ہمیشہ ایک ترقی پذیر جمہوری ملک کے حسب حال ہی رہا۔ لیکن جس ورثتہ الجرنیل عدلیہ کا بھگتان آج چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے ہیں اسے دیکھ کر ہول سا اٹھتا ہے ۔ غزہ کے کھنڈرات تو اینٹ، سیمنٹ، سریے سے شاید کبھی پھر پلازوں میں ڈھل جائیں لیکن 24 کروڑ عوام کے نمائندے کو سپریم کورٹ کا جج بدون ثبوت سسلین مافیا کہہ کر ملک نادیدہ کھنڈر میں بدل دے تو آج کے چیف جسٹس کھنڈر پر پلازا کیونکر کھڑا کریں۔ ایک اور دریدہ دہن جج کی جسارت پڑھیے جو جسٹس منیر کی طرح قانونی دلائل و نکات کا سہارا لینے کی بجائے معمولی ناول نگار ماریو پوزو کے اس جملے سے فیصلہ شروع کرتا ہے : " ہر عظیم کامیابی کے پیچھے ایک جرم چھپا ہوتا ہے ". پھر وہ جج ملک کو یوں نادیدہ کھنڈر بنا دیتا ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں۔ جج کے اس جملے کی ظلمت میں جسٹس منیر کا فیصلہ پڑھتا ہوں تو اختلاف کے باوجود جسٹس منیر مجھے ولی اللہ لگتا ہے ۔ تاہم میری اگلی عبارت کو نسل نو کی تربیت پر محمول کرلیجیے ، پروفیسر عابد مسعود کے فرمان کے اکرام سے موسوم کر لیجئے ، لیکن براہ کرم اسے خود ستائشی کبھی نہ سمجھیے ۔

1985 میں انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں دعوہ اکیڈمی قائم ہوئی تو ڈاکٹر انیس (آج رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وی سی) ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے ۔ ساتھیوں٬ ماتحتوں پر وہ اندھا اعتماد کرتے ہیں. نتیجتاً دو با اختیار معززین نے اپنے نسلی اور وطنی ہم جلیسوں کو چن چن کر بھرتی کیا۔ میں جولائی 86 میں ملازم ہوا تو لگا کہ میں ہی نہیں، ڈاکٹر صاحب بھی مگرمچھوں میں گھرے ہیں۔ 70 فیصد ملازمین کو مخصوص علاقے اور دو تین خاندانوں کی ملت واحدہ سے پایا۔ کام نہ کاج لیکن سازشی امور نمٹاتے وقت مکمل یکجہتی اور اتفاق رائے ۔ کسی کو کچھ کہا نہیں کہ سب کے سب کوﺅں کی مانند یک جان۔ سوشل میڈیا اور موبائل نہ ہوتے ہوئے بھی یہ لوگ یونیورسٹی کی فضا لمحوں میں مسموم کر دیتے ۔

انہی میں سے ایک ڈرائیور بھی تھا۔ بدتمیزی اور بد زبانی کے اعتبار سے اس جیسا کوئی اور کبھی نہ دیکھا۔ ڈاکٹر انیس سے قربت کے باعث میں اس کا خاص نشانہ رہتا تھا۔ دامن بچا کر رکھتا تو بھی گزرتے دیکھتے اس کی شعلہ بار نگاہوں سے نہ بچ پاتا۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ایک حادثے میں وہ نئی گاڑی تباہ کر بیٹھا۔ چنانچہ ڈرائیور گزیدہ افسران نے شتر غمزوں کے ساتھ مطالبہ کیا: "حادثے کی تفتیش قانونی مہارت والے کسی افسر سے کرائی جائے تاکہ انصاف ہو اور وہ "ماہر افسر" ایک ہی ہے : شہزاد اقبال شام". میری تقرری پر اس ڈرائیور کے ڈسے ہوئے لوگ دفعتاً یوں شادمان ہو گئے : "ڈرائیور گیا کہ گیا۔ شہزاد صاحب اپنے پرائے کو تو ایک لاٹھی سے ہانکتے ہی ہیں، ارے وہ تو خود اس کے ڈسے ہوئے ہیں"۔

انکوائری افسر مقرر ہوتے ہی میں نے محکمانہ انکوائری پر دستیاب مواد جم کر پڑھا، جائے حادثہ کا نقشہ بنایا، فیتے سے وہاں کی پیمائشیں لیں، اطراف کے لوگوں دکانداروں سے پوچھا۔ چنانچہ شواہد کے مطابق ڈرائیور کو کلیتاً بے گناہ پایا۔ کوئی آئینی حلف تو نہیں اٹھایا تھا لیکن میرے سمیت ہر انسان نے عالم ارواح میں ایک اور حلف ضرور اٹھایا تھا، حلف جو ہر انسان کے ہر خلیے ، جینز، ڈی این اے وغیرہ میں دھرا پڑا ہے ۔ سوال "الست بربِکُم" پر ہمارے جواب "بلیٰ" کی پروگرامنگ ہر پروسیسر٬ ہر پکسل (Pixel) ہر بائٹ (Byte ) اور ہر اوکٹیٹ (Octect) میں موجود ہے ۔

رپورٹ لکھنے لگا تو سامنے ڈرائیور کی بد اعمالیوں کے ترمرے سے جھلملانے لگے ۔ یہ ترمرے رپورٹ لکھتے قلم کی طرف لپکے ہی تھے کہ میرے وجود کا ہر پکسل کڑاں کڑاں کرنے لگا۔ ہر بائٹ نے ہاہا کار مچار دی۔ ہر اوکٹیٹ کی دھاڑ کانوں میں پگھلا سیسہ انڈیلنے لگی۔ چنگھاڑتے پروسیسر سے سہم کر قلم یہ یقین لیے بائیں سے دائیں ہاتھ میں آگیا کہ میدان محشر میں محرم راز خالق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دلا دیں گے ۔ رپورٹ لکھی کہ ڈرائیور بے گناہ ہے ، خود ٹائپ کی، ڈاکٹر انیس کو تفصیل بتاکر منظوری لی، متعلقہ افسر کے سر پر کھڑے ہو کر اسے نوٹیفائی کرایا: "ہمارا ڈرائیور بے گناہ ہے "۔ قصور باہر والے دوسرے ڈرائیور کا تھا۔

عالم ارواح کے اس حلف کی پوچھ تاچھ تو میدان محشر میں ہوگی لیکن یہاں اپنے آئینی حلف کے برعکس گارڈ فادر اور سسلین مافیا کا ورد کرنے والوں کے غیر آئینی فیصلے کی درستی تو خود عدلیہ کے ذمے ہے ۔ ایک ادارہ 2018 میں ہمیں درد دے کر آج پچھتاوے کی دوا دے رہا ہے تو عدلیہ آئینی حلف سے انحراف کرنے والے اپنوں کو کیوں کٹہرے میں کھڑا نہ کرے ؟ آئینی و قانونی لحاظ سے جرات مند عدلیہ کے لیے سب ممکن ہے ۔ بہت سوں سے سنا ہے کہ دونوں بااختیار چیف تیر کی طرح سیدھے ہیں، صراط مستقیم ہی پر چلتے ہیں۔ آئینی حلف سے کہیں زیادہ عالم ارواح والے حلف کے اسیر ہیں۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ پر اس داعیے کے ثبوت درکار ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -