فتح کے حقیقی ہیروعمر اکمل اور عمر گل

فتح کے حقیقی ہیروعمر اکمل اور عمر گل
فتح کے حقیقی ہیروعمر اکمل اور عمر گل

  

کرکٹ کا حسن یہی ہے کہ اس کی آخری گیند پھینکے جانے تک کوئی بھی بات حتمی نہیں کہی جاسکتی ۔ ایسی غیر یقینی کیفیت کی وجہ سے اس کھیل کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین کھیلا جانیوالا میچ بھی یقینی طورپر کھیل کے فر وغ اور مقبولیت میں اضا فے کا باعث بنے گا۔ پا کستان نے سنسنی خیز اور دلچسپ مقابلے کے بعد اپنے سے بہتر اور منظم ٹیم کو شکست دیکرسیمی فا ئنل کی جانب پیش قدمی کرد ی ہے۔ اس میچ کا ہیرو تو عمرگل ہے جس نے اپنی جارحانہ بلے بازی سے میچ کا پانسہ پلٹ دیا اور پا کستان کو ایک ہارے ہوئے میچ میں فتح دلانے میں اہم ترین کردارادا کیا۔ باﺅلنگ میں خراب کارکردگی کا ازالہ انہوں نے بیٹنگ میں میچ وننگ اننگز کھیل کرکیا تاہم عمراکمل کا کردار کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جنہوں نے مشکل وقت اور دباﺅ میں سمجھداری اور ذمہ داری سے حالات اور ضرورت کے مطابق اپنے شاٹس روکے اور سکور بورڈ کو بھی متحرک رکھا اور ایک بار میچ کا نقشہ بدل کر ناصرف خود کو خراب کار کردگی اور تنقید سے باہر نکالا بلکہ اس کے ساتھ خراب شاٹ کھیل کر آﺅٹ ہونے والے اپنے بڑے بھائی کامران اکمل اور افتتاحی بلے بار ناصر جمشید کےلئے ایک سبق چھوڑا۔ عمراکمل ایک با صلاحیت کرکٹر اور سٹار کھلاڑی ہے۔ اسے اپنے ٹیلنٹ سے انصاف کرتے ہوئے بھر پور پرفارمنس دینا ہوگی ۔ محمد حفیظ کو اپنی کپتانی اور بیٹنگ پر تو جہ دینا ہوگی۔ رضاحسن کا اوورنہ کروا نا بےوقوفی ہے۔ سپنرز نے کمال کھیل کا مظاہرہ کیا اور جنوبی افر یقہ کو کم سکور تک محدود کیا۔ میچ کے ہیرو حقیقی معنوں میں عمراکمل اور عمر گل ہی ہیں۔

مزید :

کالم -