مشہور ترک ضرب الامثال

مشہور ترک ضرب الامثال
مشہور ترک ضرب الامثال

  

ترکی زبان بھی دُنیا کی اُن بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے، جن کی تاریخ بہت قدیم ہے اور جو اپنے اندر بے پناہ اور وسیع علمی و ادبی ذخیرہ لئے ہوئے ہے۔ دراصل عربی اور فارسی کے بعد ترکی زبان اسلام کی تیسری بڑی زبان ہے اور چودھویں صدی سے بیسویں صدی تک ترکوں کی زبان رہی ہے، جو سلطنت عثمانیہ کی سرکاری زبان کا درجہ رکھتی تھی۔ اس کی ترویح و اشاعت ہراس جگہ ہوئی جہاں جہاں ترک فاتح پہنچے جس کے نشانات آج بھی افریقہ، ایشیاءو یورپ پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر وسطی ایشیا اور برصغیر پر ترک زبان کا بڑا گہرا اثر اب بھی موجود ہے۔ ہماری قومی زبان اُردو کا تو مآخذ ہی ترک زبان ہے جس کے معنی ”لشکر“ یا ”فوج“ کے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اُردو اور ترکی زبان کے دس ہزار سے زیادہ الفاظ مشترک ہیں جس کے معنی ملتے جلتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں زبانوں کی گرامر، جملے کی بناوٹ، ادبی سرمایہ اور ضرب المثال بھی ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ کہاوتوں کا مطلب ومنبع بھی ایک ہے۔ کیوں نہ ہو، پاکستان اور ترکی کی دوستی کی طرح ہماری باہمی زبانیں بھی ہمارے گہرے تعلقات کا پتہ دیتی ہیں اور اِس بات کی دلیل اور بنیاد فراہم کرتی ہے کہ ہماری دوستی کی چڑیں بہت گہری ہیں۔ آئیں آپ کو ترکی زبان کی مشہور ضرب المثالی اور کہاوتیں سناتے ہیں:

٭....ایک مصیبت ہزار نصیحتوں سے بہتر ہے۔

٭.... عجلت میں منزل نہیں ملتی۔

٭.... ایک آنکھ روئے تو دوسری مسکرا نہیں سکتی۔

٭.... پاﺅں کو ہمیشہ گرم اور سر کو ہمیشہ ٹھنڈا رکھو۔

٭.... جس شاخ پر بیٹھو اُسے مٹ کاٹو۔

٭.... کھیل ختم، پیسہ ہضم۔

٭.... صرف باتوں سے پیٹ نہیں بھرتا۔

٭.... جہاں آگ ہوتی ہے دُھواں وہیں سے اُٹھتا ہے۔

٭.... ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی۔

٭.... عقل پیسے سے نہیں خریدی جا سکتی۔

٭.... موم تلے اندھیرا۔

٭.... بے عمل عالم بے ثمر درخت کی مانند ہوتا ہے۔

٭.... نہ جاننا عیب نہیں ہے،بلکہ نہ پوچھنا عیب والی بات ہے۔

٭.... جو بوﺅ گے، وہی کاٹو گے۔

٭.... صرف باتوں سے پلاﺅ نہیں پکتا۔

٭.... خاموش آدمی اور ٹھہرئے ہوئے پانی سے ڈرو۔

٭.... حکیم کے پاس مت جا، تجربہ کار کے پاس جا۔

٭.... پوچھتے پوچھتے انسان کعبہ پہنچ جاتا ہے۔

٭.... جتنی دولت اتنی مصیبت۔

٭.... آئینہ دیکھو، اپنے آپ کو پہچانو۔

٭.... وقت ہر درد کی دوا ہے۔

٭.... ماں کو دیکھ کر بیٹی سے شادی کرو۔ جب شیطان خود عاجز آ جاتا ہے تو وہ عورت کو اپنا سفیر بنا کر بھیجتا ہے۔

٭.... چادر دیکھ کر پاﺅں پھیلاﺅ۔

٭.... ایک کشتی کے دو ملاح اس کو ڈبو دیتے ہیں۔

٭.... قطرہ قطرہ بن کر جھیل بن جاتی ہے۔

٭.... ہزار بار سوچو، ایک بار بولو۔

٭.... دوست کا پتہ بُرے وقتوں میں لگتا ہے۔

٭.... اگر گھر میں امن ہے تو باہر بھی امن ہو گا۔

٭.... غصے سے کھڑا ہونے والا نقصان کے ساتھ بیٹھتا ہے۔

٭.... نیکی کر سمندر میں ڈال۔

٭.... ہر کوئی دوسرے کو اپنے جیسا سمجھتا ہے۔

٭.... جمعرات کی پیش رفت بدھ کو معلوم ہو جاتی ہے۔

٭.... گفتگو اگر چاندی ہے تو خاموشی سونا ہے۔

٭.... شیریں زبانی سے سانپ کو بھی بل سے نکالا جا سکتا ہے۔

٭.... بھونکنے والے کُتے کاٹتے نہیں۔

٭.... ایک پتھر سے دو پرندوں کا شکار کرنا۔

٭.... پرانا دوست کبھی دشمن نہیں ہو سکتا۔

٭.... دل کا راستہ زبان اور معدے سے ہو کر جاتا ہے۔

٭.... کھانا محض ملاقات کا بہانہ ہے۔

٭.... خوبصورت چہرے والوں کی گفتگو بھی حسین معلوم ہوتی ہے۔

٭.... صبح سویرے اُٹھنے والے منزل کو پا لیتے ہیں۔

٭.... بچہ جیسا سات سال میں ہے، ستر سال کی عمر میں بھی ویسا ہی ہو گا۔

٭.... عقل عمر سے نہیں تجربے سے آتی ہے۔

٭.... علم زندگی کا حقیقی مرشد ہے۔

٭.... جیسے زندہ رہو گے ویسے ہی موت آئے گی اور جیسے مرو گے ویسا ہی حشر ہو گا۔

٭.... انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے۔

٭.... جلدی کام شیطان کا ہوتا ہے۔

٭.... پانچوں انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔

٭.... چھری کا زخم مندمل ہو جاتا ہے لیکن زبان کا زخم مندمل نہیں ہوتا۔

٭.... اتفاق میں قوت و برکت ہے۔

٭.... جاہل ڈھول کی طرح ہوتا ہے، بولتا بہت ہے، لیکن اندر سے خالی ہوتا ہے۔

٭.... گرنے والے کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔

٭.... گدھے کو سونے کی کاٹھی بھی پہنا دیں تو وہ گدھا ہی رہے گا۔

٭.... اُستاد جو کہتا ہے وہ کرو، جو کرتا ہے اُس پر عمل مت کرو۔

٭.... انسان کی قیمت انسان ہی جان سکتا ہے۔

٭.... جیسے نظر آتے ہو ویسے بنو یا جیسے بنتے ہو ویسے نظر آﺅ۔

٭.... بے وقت بھونکنے والا کُتا ریوڑ کو بھیڑیوں تک پہنچا دیتا ہے۔

٭.... نیم حکیم خطرہ¿ جان، نیم قاضی خطرہ¿ مال اور نیم ملاں خطرہ¿ ایمان۔

٭.... جب تک حیات ہے، تب تک آس ہے۔

٭.... پھولوں سے پیار کرنے والوں کے راستوں میں کانٹے تو آتے ہی ہیں۔

٭.... صبر کرنا تلخ کام ہے، لیکن اس کا ثمر بہت میٹھا ہوتا ہے۔

٭.... مکھی چھوٹی ہے، لیکن معدے کو خراب کر دیتی ہے۔

مزید :

کالم -