ریمنڈ بیکر کی کتاب.... فراڈ کا بہترین ہدایت نامہ

ریمنڈ بیکر کی کتاب.... فراڈ کا بہترین ہدایت نامہ
ریمنڈ بیکر کی کتاب.... فراڈ کا بہترین ہدایت نامہ

  

ریمنڈ بیکر کی کتاب”کیپٹل ازم کی نازک رگ“کا حوالہ مَیں نے عمران خان کے کالم نگار خصوصی کی تحریروں میں دیکھا۔ عمران خان نے اپنے بیانات میں اس کا ذکر کیا۔ حفیظ اللہ خاں نیازی نے ایک کالم میں عمران خان کے بارے میں صفائی پیش کرتے ہوئے ریمنڈ بیکر کی کتاب کا حوالہ دیا۔ کتاب کا حوالہ شریف برادران کی کرپشن کے بارے میں ناقابل تردید ثبوت کے طور پر دیا جاتا رہا۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ ساری کتاب شریف برادران کی کرپشن پر لکھی گئی ہے۔ مَیں نے یہ کتاب چھبیس ڈالر خرچ کر کے خریدی اور اس کا گہرا مطالعہ کیا، جس میں مجھے دو ماہ لگ گئے۔ کتاب پڑھنے کے بعد مجھ پر انکشاف ہُوا کہ یہ کتاب تو فراڈ سکھانے کی بہترین ”گائیڈ بُک“ ہے۔

ریمنڈ بیکر ”گلوبل فنانس انٹیگرٹی“ کا ڈائریکٹر ہے، جو واشنگٹن ڈی سی کی ایک مشاورتی تنظیم ہے۔ وہ ”ٹاسک فورس فنانشل انٹیگرٹی“میں بھی شامل ہے۔ اُس نے ہارورڈ یونیورسٹی سے پولیٹکل سائنس میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ اُس کے تعلیمی پروفائل کے مطابق اُس نے رشیئن سٹڈیز میں ایم اے کیا ہے اور بی اے میں اُس کے میجر (اہم مضامین) فرنچ اور آرٹ ہسٹری تھے، جبکہ مائنر (دوسرے درجے کے مضامین) رشیئن، فرنچ اور آرٹ ہسٹری تھے۔ اُس نے معاشیات بالکل نہیں پڑھی۔ اُسے دنیا میں عالم عرب اور عالم اسلام کے بارے میں اتھارٹی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن اسلام کے بارے میں بھی اُس کی کوئی تعلیم نہیں ہے۔ جس طرح معاشیات کا علم نہ ہونے کے باوجود اُس نے کیپٹلزم پر کتاب لکھی ہے، اِسی طرح عالم عرب اور عالم اسلام پر بھی اُس کا سلسلہ تصنیف ہے اور 2006ءمیں اُسے کارنیگی کا سکالر برائے اسلامک سٹڈیز قرار دیا گیا۔

2006ءمیں اُس کی تازہ ترین تصنیف ....”Islam without Fear....“ہارورڈ پریس نے چھاپی ہے، جس میں اُس نے مصر میں اخوان المسلمون کے مقابلے میں لبرل اسلام کی وکالت کی۔ وہ وقتاً فوقتاً پینٹا گان، امریکی وزارت خارجہ اور امریکی وزارت دفاع کے لئے کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتا رہتا ہے۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد وہ عراق کی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے گلوبل پارٹنرز کا صدر بن گیا۔اُس نے ....International Association of contemporary Iraqi studies.... بنائی، جس کا وہ بانی ممبر ہے۔ یہ سارے کام اُس کے لئے اِس لئے آسان ہیں کہ اُس نے غریب افریقی ممالک میں (نائیجیریا وغیرہ) جا کرسرمایہ کاری کی، صنعتیں لگائیں اور وہاں کی سستی لیبر استعمال کر کے خوب منافع کمایا۔ اُس نے جن ”مقاماتِ بلند“ پر خود کو فائر کر رکھا ہے، تعلیمی اعتبار سے وہ اُن میں سے کسی ایک کا بھی اہل نہیں ہے۔

محولہ بالا کتاب یعنی ”کیپیٹل ازم کی نازک رگ“ کے پیش لفظ میں وہ ایک لمبی چوڑی رومانوی کہانی بیان کرتا ہے، جس میں افریقی ممالک کے سفر کی داستان سناتا ہے اور پھر کیپٹل ازم سے اپنا والہانہ عشق بیان کرتا ہے اور انسانیت کے تمام دُکھوں کا مداوا کیپٹل ازم اور فری مارکیٹ کو قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ جو لوگ کرپشن کر رہے ہیں، وہ اس نظام کے لئے خطرات پیدا کر رہے ہیں اور اگر ان مجرموں کو نہ روکا گیا تو یہ عظیم الشان اور انسانیت کے لئے نجات کی آخری امید نظام ناکام ہو جائے گا اور انسانیت اندھیروں میں کھو جائے گی۔ وہ اس کرپشن اور ظلم و استحصال کا سبب اس نظام کو قرار نہیں دیتا، بلکہ کرپشن اور ظلم و استحصال کے عوارض کو اس ”بہترین نظام“ کے خلاف سازش قرار دیتا ہے اور اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے اُس نے یہ کتاب تصنیف کی ہے۔

 باب اول میں مصنف کیپٹل ازم کو انسانیت کا محافظ یا نجات دہندہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ نیو یارک، لندن، میامی میں آپ اپنی جیب کو ٹٹولیں تو اس میں پڑے ہوئے نوٹ ضرور کوکین آلود ہوں گے۔ وہ اسے گندا دھن کہتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ گندا دھن کیسے گردش کرتا ہے، کہاں سے آتا ہے اور کس طرح پھلتا پھولتا ہے؟ یہ بتانے کے لئے وہ ایک عنوان جماتا ہے:

The dirty money user manual

یعنی گندے دھن کے استعمال کے عملی طریقے۔ اس عنوان کے بعد ایک ذیلی عنوان ہے:

Here is the starter kit that provides and illastraties most of the basics.

قارئین جانتے ہیںکہ مینوئل کیا ہوتا ہے اور کسی چیز کے لئے کٹ کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ اب اس ذیلی عنوان کے تحت وہ اپنی بحث کو چار حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ پہلے نمبر پر وہ بین الاقوامی تجارت میں قیمتوں کی ہیرا پھیری کے تمام ممکنہ طریقے پوری تفصیل اور مثالوں سے بیان کرتا ہے۔ نمبر 2کے تحت جعلی کارپوریشنیں بنا کر اپنی سرگرمیوں کو پوشیدہ رکھنے کے تمام طریقوں کا ذکر کرتا ہے اور ہر طریقے کی مثال بھی دیتا ہے۔ نمبر 3 کے تحت جعلی سودوں کے بارے میں بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ سودے ہوئے بغیر کیسے ظاہر کیا جاسکتا ہے کہ بہت بڑے بڑے سودے ہو رہے ہیں۔ نمبر 4 پر خصوصی مواقع سے فائدہ اٹھا کر اپنی جیب بھرنے کی ٹرکس (یہاں مصنف نے باقاعدہ Tricks کا لفظ استعمال کیا ہے) سکھاتا ہے اور آخر میں بیان کرتا ہے کہ ان جُملہ ”ٹیکنیکس“ کے استعمال سے آپ ہر قسم کے مجرمانہ، کرپٹ اور کمرشل طور پر گندے دھن کو کسی ماہر اور پیشہ ور کی طرح ادھر سے اُدھر کر سکتے ہیں۔ پھر وہ لکھتا ہے کہ اگر....Dirty Money user kit ....کی آپ کو سمجھ نہ آئے اور آپ کو کوئی اُلجھن ہو تو گھبرائیں نہیں، امریکہ میں ایسے اکاو¿نٹنٹ اور وکیل اپنے دفتر کھول کر بیٹھے ہیں، جو آپ کو ہر بات سمجھا اور پڑھا دیں گے اور آپ کی ہر اُلجھن سلجھا کر رکھ دیں گے۔ اگر ان کو معقول فیس ادا کر دیں تو یہ آپ کو سب کچھ کر کے دے دیں گے....اس باب کا خاتمہ وہ اس طرح کرتا ہے کہ اب بھی ہو رہا ہے اور آپ بھی کر سکتے ہیں، لیکن اس کی ایک بھاری قیمت ہے، وہ یہ کہ اس سے کیپٹل ازم کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ تراکیب Kindle کے تین سو چھبیس صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔

عمران خان کے شوکت خانم ہسپتال کے انڈوومنٹ فنڈز کو جیسے سمندر پار کمپنی میں لگا کر اسے ملکوں، ملکوں گھمایا گیا ہے، اس سے لگتا ہے کہ اس کتاب سے خاصی مدد لی گئی ہے۔ ریمنڈ بیکر نے آگے چل کر نائیجیریا کو اس قسم کی کرپشن کا ”اول انعام یافتہ “ قرار دیا ہے، لیکن وہ آغاز انڈونیشیا کے سہارتو سے کرتا ہے۔ وہ بعض جگہ تو کچھ حوالے بھی دیتا ہے، لیکن اکثر جگہ اور پاکستان کے سلسلے میں محض Allegedly اور reportedly کا سہارا لیتا ہے۔ رپورٹر حضرات جانتے ہیں کہ ان الفاظ کا سہارا لینے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ کتاب میں صدرآصف علی زرداری اور ان کی مرحومہ بیگم بے نظیر بھٹو کی کرپشن کا بھی ایک چارٹ دیا گیا ہے، لیکن کمال ہے کہ عمران خان اور ان کے ”شخصیت ساز“ جس کتاب کو شریف برادران کی کرپشن کا ناقابل تردید ثبوت قرار دیتے ہیں۔ اس کے ضمن میں کبھی ضمنی طور پر بھی صدر آصف علی زرداری کا ذکر نہیں کرتے۔

 شریف برادران کی کرپشن کا جو چارٹ پیش کیا گیا ہے، اُس کے ساتھ لکھا ہے یہ معلومات انہیں رحمن ملک نے فراہم کی ہیں۔ رحمن ملک کی امریکہ سے وفاداری اور سچائی کے لئے ریمنڈ بیکر لکھتا ہے کہ یہ وہ شخص ہے، جس نے رمزی یوسف کو امریکہ کے حوالے کیا تھا۔ ظاہر ہے اس کے بعد رحمن ملک کی سچائی میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی، اس لئے ان الزامات کے لئے کسی دوسرے ثبوت کی بھی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سارا پاکستان اس سے تو اچھی طرح واقف ہے کہ رحمن ملک کتنے صادق اور امین اور کتنے سچے ہیں۔ ریمنڈ بیکرجرنیلوں کی کرپشن کی بھی بات کرتے ہیں، جسے ”ملٹری انک“ (ملٹری انکارپوریشن) کا عنوان دیتے ہیں اور فوج کے تجارتی منصوبوں کا تذکرہ کرتے ہیں، جن میں بحریہ فاو¿نڈیشن، فوجی فاو¿نڈیشن، آرمی ویلفیئر ٹرسٹ اور شاہین فاو¿نڈیشن کے اثاثوں کا ذکر کسی ”عائشہ صدیقیہ“ کی کتاب کے حوالے سے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مَیں نے خود بھی مصنفہ کا انٹرویو کیا تھا۔ فوج کے یہ تجارتی منصوبے یقیناً فوج کے تجارت میں ملوث ہونے کے ثبوت تو ہیں، لیکن ان میں وہ کرپشن کہاں ہے، جس سے کیپٹل ازم کو خطرات لاحق ہیں؟

موصوف امریکی بینکوں کے کارنامے بھی بیان کرتے ہیں جو کالا دھن سفید کرنے میں بے مثال خدمات انجام دیتے ہیں، لیکن اُنہیں جرمانے کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے.... لیکن وہ ایک پاکستانی بینک کار کے بینک بی سی سی آئی کو ایک ایسا مجرم قرار دیتے ہیں، جس نے ڈاکٹر اے کیو خان کو رقم فراہم کی، جس سے ڈاکٹر نے ایک ”خفیہ“ لیبارٹری قائم کر کے ”بم“ بنا لیا، جس کی باداش میں بی سی سی آئی کو بند کرنا ضروری تھا۔ وہ ڈاکٹر اے کیو خان پر ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی معلومات اور مواد فراہم کرنے کے الزامات بھی لگاتا ہے اور اُن کی بیٹی سے پکڑے جانے والے خط کا بھی تذکرہ کرتا ہے۔ ظاہر ہے پاکستان کے اسلامی ایٹم بم سے بھی کیپٹل ازم کی رگِ نازک کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ وہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کو سخت قوانین بنانے اور اپنی حکومت کو بھی سخت ترین قوانین بنانے کا مشورہ تو دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرماتا ہے کہ بینکوں کا کہنا ہے کہ اس کے بغیر (گندے دھن) اُن کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا اور اعتراف کرتا ہے کہ امریکی سیاست دان ٹیکس ادائیگی سے بچنے کے لئے ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے کے لئے قانون سازی سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے....(موجودہ صدارتی انتخابات میں ری پبلیکن امیدوار مٹ رومنی گزشتہ دو سال سے پہلے کے ٹیکس گوشوارے ظاہر کرنے سے صاف انکاری ہیں)....تاہم مجھے ساری کتاب پر تنقید و تبصرے کی ضرورت نہیں ہے....”مشتے نمونہ از خروارے“ کافی ہے۔

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)  ٭

مزید :

کالم -