سچ .... یہ کس چڑیا کا نام ہے؟

سچ .... یہ کس چڑیا کا نام ہے؟
سچ .... یہ کس چڑیا کا نام ہے؟

  

جب سچ سامنے لانے کا کوئی قانون قاعدہ یا اخلاقیات نہ ہو تو پھر ہر کوئی پارسا بن جاتاہے۔ 65سال میں ہم نے کتنے سچ دریا برد کئے ہیں، گنتی کریں تو شاید ہند سے ہی ختم ہو جائیں۔ یہ آج کی بات نہیں، کراچی میں 300 انسان زندہ جل جاتے ہیں، مگر سچ سامنے نہیں آتا۔ یہاں تو ملک کی سب سے بڑی جماعت کی چیئرپرسن کے قتل کا راز بھی نہیں کھلتا۔ 12 مئی کا دن بھی ہماری تاریخ میں جھوٹ کی بکل مارے ہمارا منہ چڑا رہا ہے۔ جب کراچی میں ایک عجیب طرح کی بے رحمانہ فضا کو جنم دیا گیا۔ کہنے کو کتنے ہی کمیشن بنتے ہیں، کتنی ہی انکوائری کمیٹیاں قائم کی جاتی ہیں اور وعدے پہ وعدہ ہوتا ہے، مگر سچ ہے کہ سامنے آکر نہیں دیتا۔

چند روز پہلے ایک معروف ادیب احمد فرید ہاشمی نے فون کیا اور پوچھا کہ سچ سامنے لانے کا فارمولا کیا ہے؟ مَیں نے کہا محترم کاش اِس کا کوئی فارمولا ہوتا تو ہم سچ کے معاملے میں اتنے تہی دست نہ ہوتے۔ کہنے لگے، مَیں سمجھا نہیں، مَیں نے کہا دیکھئے محترم جب ہم جھوٹ کو پہچاننے سے قاصر ہو چکے ہیں، تو سچ کو کیسے پہچان سکتے ہیں۔ ہاشمی صاحب کہنے لگے : ”مگر سچ تو بندے کے دل میں ہوتا ہے، اسے باہر کیسے لایا جائے“.... پھر انہوں نے ایک واقعہ سنایا.... ایک بار اُن کا ایک جاننے والا ثقافتی وفد لے کر کینیڈا گیا۔ ثقافتی دورہ مکمل ہوا تو واپسی کے وقت وفد کے دو ارکان غائب ہو گئے، اس پر کینیڈا کے امیگریشن حکام نے اسے پکڑ لیا اور الزام لگایا کہ وہ انسانوں کی سمگلنگ کرتا ہے، اِس نے اس الزام کو جھوٹ قرار دیا۔ معاملہ عدالت تک پہنچا، اس کے کینیڈین وکیل نے عدالت سے سوال کیا کہ کیا دُنیا میں کوئی ایسا آلہ ایجاد ہوا ہے کہ جو یہ جان سکے کہ انسان کے دل میں کیا ہے؟ جج نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر وکیل نے کہا کہ غائب ہونے والے دونوں افراد کو میرا مو¿کل صرف پرفارمنس کے لئے کینیڈا لایا تھا، اسے اُن کے دل کا حال معلوم نہیں تھا کہ وہ واپسی نہیں جائیں گے۔عدالت نے اس دلیل سے اتفاق کیا اور پروموٹر کو جانے کی اجازت دے دی۔ احمد فرید ہاشمی کا کہنا تھا کہ سچ تو ہر شخص کے دل میں ہوتا ہے، اگر وہ اسے سامنے لانا ہی نہ چاہے، تو وہ کیسے سامنے آ سکتا ہے؟ مَیں نے کہا: ”آپ درست کہتے ہیں، ہمارا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ ہم سچ کو سامنے لانے کی جرات سے محروم ہو چکے ہیں“۔

آج کل عوام ہر روز ٹی وی ٹاک شوز، خبر نامے اور اخبارات کے صفحات میں سچ تلاش کرتے نظر آتے ہیں، مگر سچ ہے کہ کہیں دکھائی نہیں دیتا، بلکہ اُلٹا جھوٹ کا گردوغبار اس شدت کے ساتھ اُڑتا ہے کہ ہر منظر دھندلا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس معاشرے میں چھوٹے چھوٹے سچ سامنے نہ آتے ہوں، وہاں بڑے سچ کیسے سامنے آسکتے ہیں اور جب تک سچ سامنے نہ آئے، ہم کسی کا کیا احتساب کر سکتے ہیں اور اصلاح کا عمل کیسے اور کہاں سے شروع ہو سکتا ہے؟

جب مَیں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں ایم اے اُردو کا طالب علم تھا تو ملک جنرل ضیاءالحق کے مارشل کی چھتری تلے چل رہا تھا۔ میرا کلاس فیلو اور دوست سلیم حیدرانی جو یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کا صدر بھی تھا اور آج کل لندن میں اُردو پڑھا رہا ہے، ایک اچھا افسانہ نگار بھی تھا۔ ترقی پسندانہ نظریات رکھنے کی وجہ سے اُس کی مجبوری تھی کہ وہ ظلم و جبر اور آمریت کے خلاف لکھے، مگر سخت سنسر شپ اور مارشل لاءکی وجہ سے ایسی تحریریں منظر عام پر لانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ اِس کا حل اُس نے یہ نکالا کہ پرندوں کو مختلف کردار بنا دیا اور وہ صحیح معنوں میں طوطا مینا کی کہانیاں لکھنے لگا۔ یہ افسانے علامتی ہوا کرتے تھے،لیکن رفتہ رفتہ یہ افسانے لوگوں کی سمجھ میں آنا شروع ہو گئے۔ یوں اُس نے اپنے عہد کے سچ کو سامنے لانے کے لئے ایک راستہ ڈھونڈ نکالا۔ ایسا صرف اس وجہ سے ہوا کہ وہ سچ سامنے لانا چاہتا تھا۔ کچھ عرصے بعد اُس کے اِس ملفوف سچ کی بھی حکومت کو خبر ہو گئی اور اُس کی گرفتاری کے لئے چھاپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وہ جان بچا کر لندن چلا گیا اور تب سے اب تک وہیں ہے۔ سلیم حیدرانی سے جب فون یا ای میل پر تبادلہ ¿ خیالات ہوتا ہے۔ تو وہ حیران کن بات کرتا ہے، وہ بتاتا ہے کہ جب تک اُس پر حالت جبر طاری رہی، وہ سچ کے علامتی اظہار پر قادر رہا، علامتی افسانے لکھ کر اپنی بھڑاس نکالتا اور خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا، مگر جونہی وہ لندن آیا اور اسے آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع ملا، تو اس کے علامتی اظہار کی سب صورتیں ختم ہو گئیں اور پھر اس سے ایسے افسانے تخلیق نہیں ہو سکے۔

پچھلے ڈیڑھ عشرے سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ جبر اور گھٹن کی فضا کے باوجود ہمارے ہاں اب علامتی پیرائے میں بھی سچ کوبیان کرنے کی روایت دم توڑ رہی ہے۔ شاعری ہو یا نثر، فکشن ہو یا تنقید، ادب سچ کی آبیاری سے بہت دُور کھڑا نظر آتا ہے۔ میڈیا کی بات کچھ اور ہے۔ بظاہر اس کے اندر سچ کو سامنے لانے کی ایک تڑپ موجود ہے، لیکن کچھ دیدہ و نادیدہ رکاوٹیں دیوار بن جاتی ہیں۔ کہیں اینکر پرسن کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے اور کہیں چینل کو مجبور کر دیا جاتا ہے۔ میڈیا کو جب سچ کا سرا ملتا ہے، تو وہ اسے مضبوطی سے پکڑتا نہیں اور نہیں ملتا تو اس کی تلاش میں سر گرداں رہتا ہے۔ میڈیا ایک حد تک جا سکتا ہے، جس کے بعد اس کے پر جلنے لگتے ہیں۔ کچھ یہ بھی ہے کہ جھوٹ کا دفاع کرنے والی قوتوں کے منفی حربے بھی پورے سچ کو سامنے نہیں آنے دیتے۔ مَیں سمجھتا ہوں یہ ایک دل شکن صورت حال ہے، سچ کا سامنے نہ آنا در حقیقت ان طاقتوں کو مضبوط کر رہا ہے، جو پاکستانی معاشرے کو کمزور کرنے کے درپے ہیں۔ کراچی اور بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، کوئی اس کے اندر چھپے ہوئے سچ کو سامنے لانے کا تو کیا، دیکھنے تک کا روا دار نہیں۔ کراچی میں بھتہ مافیا کے خلاف کس قدر شور شرابا ہوا۔ ایک طوفان تھا کہ جس نے پوری ملکی فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، لیکن ہوا کچھ بھی نہیں.... بھتہ بھی جاری ہے اور قتل و غارت گری بھی ، حتی کہ فیکٹری میں 300 افراد کے زندہ جل جانے کا اندوہناک سانحہ بھی رونما ہوتاہے اور اس کے پیچھے بھی بھتہ مافیا کے ہاتھ کی نشاندہی ہوتی ہے، مگر اس ہاتھ تک قانون کا ہاتھ نہیںپہنچتا۔

ہم لمحہ ¿ موجود میں جن حالات سے دو چار ہیں اُن میں ہر طاقتور سب سے زیادہ توجہ اس بات پر دے رہا ہے کہ ہر قیمت پر سچ کو دبایا جائے۔ پروپیگنڈے کی بنیاد سچ کو جھوٹ کے پردوں میں چھپا دیا جاتاہے۔ سامنے کی سچائیاں بھی اس طرح جھٹلا دی جاتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ میرا اشارہ ان بیانات کی طرف نہیں، جن میں کرپشن کی واضح حقیقتوں پر مٹی ڈال دی جاتی ہے یا دن دیہاڑے ہونے والے واقعات کو اُلٹے سیدھے دلائل سے اپنے مطلب کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میرا اشارہ اُس رویے کی طرف ہے، جس کے ذریعے سچ کو چھپانا ایک آرٹ کا درجہ حاصل کر گیا ہے، لیکن کیا اسے ہم آرٹ کہہ سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں، یہ دھوکہ اور فراڈ تو ہو سکتا ہے، آرٹ نہیں، کیونکہ آرٹ ہمیشہ سچائی کو بنیاد بناتا ہے، یہ تو صریحاً ملمع کاری ہے۔ سچ کے عنقا ہونے کی وجہ سے ہم سیاسی و معاشرتی سطح پر بے یقینی اور بے چینی کا شکار ہیں۔ جب تک ہمارے سیاسی اکابرین اور اہل اقتدار گوئبلز کی پیروی نہیں چھوڑتے، ہماری یہ بے کلی اور بے یقینی دُور نہیں ہو سکتی، مگر جھوٹ کی گرم بازاری میںیہ رسک کون مول لے سکتا ہے؟ 

مزید :

کالم -