عدالت عالیہ اور مسئلہ بلوچستان

عدالت عالیہ اور مسئلہ بلوچستان

  

چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جاری تمام کھلے اور خفیہ آپریشن بند ہونے چاہئیں۔لا پتہ افراد کیس کے سلسلے میں انہوں نے خفیہ ایجنسیوں کو اپنے ڈیتھ سکواڈ ختم کرنے کا حکم دیا اور صدر ، آرمی چیف، آئی، ایس ، آئی اور ملٹری انٹیلی جنس سربراہان سے عدالت میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اختر مینگل کے بیان پر ان کا رد عمل مانگ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہوا تو وہ کیس ٹو کیس سماعت کریں گے۔ عدالت میں تین سال تک ازخود ملک بدر رہنے والے بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اختر مینگل نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کیس میں اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ 65 سا لہ ناامیدی ختم ہونے کی امید پر سپریم کورٹ آئے ہیں۔ تاہم اِس سلسلے میں حکومت یا ایجنسیز سے کوئی توقع کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ اِس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کے لئے قوم دیکھے گی کہ عدالت کس حد تک جاتی ہے۔

 اختر مینگل بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہے ہیں ، جن کے اپنے بھائی کو1972ءمیں اغوا کیا گیا تھا جس کا ابھی تک کچھ علم نہیں ہوسکا۔ ان کے بقول اپریل 2006ءمیں ان کے بچوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی جس کی مزاحمت کرنے پر انہیں تین سال تک جیل کی کوٹھری میں بند رہنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ معافی مانگنے ، پیکیج دینے یا نعشوں کے ذریعے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اُن کے عدالت میں پیش ہونے کا مقصد ناانصافیوں کا ازالہ ہے، لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کے بعداس کے ذمہ داروں کے خلاف بھی اقدامات ہونے چاہئیں۔ مذاکرات ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ۔ گزشتہ دس سال میں ہونے والے آپریشنز کے ذریعے دربدر ہونے والے افراد کو آباد کیا جاناچاہئے۔

اختر مینگل کو بلوچستان کے ناراض گروہوں کا رہنما سمجھا جاتا ہے ، ان کی عدالت میں حاضری کے پیش نظر جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ اُن کی یہاں موجودگی ثابت کرتی ہے کہ انہیںپاکستان مخالف کہنے والے غلط ہیں۔ اختر مینگل نے اِس موقع پر یہ کہہ کر معاملے کی سنگینی واضح کرنے کی کوشش کی کہ بلوچستان کے حالات کشمیر اور فلسطین سے بھی زیادہ سنگین ہیں۔    

اختر مینگل کے مو¿قف سے کلی اتفاق ممکن نہیں ، نہ ہی اُن کے یا اُن کے ساتھیوں کی طرف سے اغوا کئے جانے والے افراد کی تعداد اور اس کی وجوہ کو مبالغے سے پاک قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن ماضی کی حکومتوں اور موجودہ حکومت کی طرف سے بلوچستان کے مسئلے کو سنگین بنانے کے سلسلے میں کی جانے والی غلطیاں اور مجرمانہ حد تک بڑھی ہوئی غفلت اپنی جگہ موجود ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے یہ کہنا کہ اس کی68 سماعتوں میں60 احکامات جاری کئے گئے، مگر کسی پر عمل نہیں ہوا ، اپنی جگہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اِس وقت صورت حال یہ ہے کہ ناراض بلوچوں کی قیادت سپریم کورٹ سے انصاف کی توقع کر رہی ہے اور حکومت کی طرف سے بعض اقدامات کرنے کی شرط کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہے۔ اِس صورت حال میں حکومت کو فوری طور پر مثبت جواب دیتے ہوئے مذاکرات کی طرف بڑھنا چاہئے ۔ بلوچستان کے لوگ ہمارے مسلمان بھائی ہیں ، مشرقی پاکستان کی طرح نہ تو ان کی جغرافیائی حیثیت ایسی ہے کہ سینے میں اپنے لوگوں کا درد رکھنے والے کسی گروہ کی قیادت علیحدگی کے متعلق سوچے، نہ ہی وہاں تعینات فوج کی حیثیت مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہندو فوج کی سی ہے، جو مسلمانوں پر محض اُن کے مسلمان ہونے کے ناطے مظالم توڑ رہی ہے۔ بنیادی مسئلہ حکومتی سطح پر بعض زیادتیوں کا ہے ۔ اس کے علاوہ حکومتی اداروں میں موجود بعض افراد کے مظالم ہیں جن کے سلسلے میں حکومتی اداروں نے واضح ثبوت سامنے آ جانے کے بعد بھی ان اناپرست حکومتی کارندوں کے خلاف ( رٹ آف گورنمنٹ قائم کرنے جیسے بہانوںکی آڑمیں) بروقت کارروائی نہیں کی، اپنے شعبہ جاتی تعصب کی بناءپر قومی یکجہتی اور ملکی سالمیت کے تقاضوں کو بھی نظر انداز کئے رکھا۔ جب دشمن بھی ہم پر چاروں طرف سے وار کرنے پر مستعد ہو تو ایسے حالات میں کرپشن اورظلم و زیادتی کے سلسلے میں (زیرو ٹالرینس اور) ا نتہائی ا حتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بعض حکام کی ناانصافیوں،بالخصوص وہاں کے مو¿ثرلوگوں کی اہم شکایات کی طرف سے طویل عرصہ تک کان بند رکھنے کے نتیجے میں عوام میں بھی احساس محرومی پیدا ہوا اور نانصافی اور زیادتی کے واقعات میں انتہائی مبالعہ آمیزی اور ملک دشمن پراپیگنڈہ سے صورت حال بہت بگاڑ دی گئی ۔ اِس بگاڑ میں لوٹ مار کرنے والے قاتل گروہوں نے اضافہ کیا اور صورت حال پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی چلی گئی۔اب قوم اِس معاملے کے سدھار کے سلسلے میں مزید التواءاور غفلت کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ تمام ذمہ دار اداروں کو اپنے اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے ایک دوسرے پر الزام دینے کے بجائے نہایت خلوص نیت اور مستعدی کے ساتھ کام کرنا او ر سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔

یہ سب کچھ اِس لئے بھی بے حد ضروری ہے کہ اس وقت بلوچستان میں لاقانوینیت اور دہشت گردی کا راج ہے ، نہ صرف یہ کہ عام لوگ اپنے جان و مال کو محفوظ نہیں سمجھتے، بلکہ ہر طرح کی پیداواری سرگرمیاں معطل ہوجانے سے صوبے کی معیشت بھی تباہ ہو کر رہ گئی ہے۔ اُدھر اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت جمعرات کو ہونے والے سیاسی جماعتوں کے انتخابات سے متعلق مشاورتی اجلاس میں جمہوری وطن پارٹی نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں حالات بہتر نہ ہوئے اور پہاڑوں پر جانے والے ناراض افراد کو واپس نہ لایا گیا تو بلوچستان کی جماعتیں آئندہ انتخابات کا بائیکاٹ کر دیں گی۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں کی طرف سے خیبر پختونخوا اور کراچی میں بھی سیکیورٹی کی صورت حال پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور پولنگ سٹیشنوں پر قبضے اور ووٹ ڈالنے کے وقت مسلح افراد کی مداخلت کے واقعات سے الیکشن کمیشن کو آگا ہ کیا گیا۔ بلوچستان کے موجودہ حالات میں اگروہاں کی سیاسی جماعتوں میں پولنگ میں جانے کا حوصلہ بھی باتی نہ رہے ان کا بائیکاٹ ہو جائے تو بلوچستان کے علاوہ ملک کے باقی علاقوں میں انتخابات سے قومی اسمبلی آخر کس طرح مکمل ہو گی ؟ حکومتی مشینری کے ساتھ ساتھ یہ وقت ساری سیاسی جماعتوں کے لئے بھی متحرک ہونے اور بلوچستان کے مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرنے کا ہے۔حکومتوں کی بدعنوانیوں اور اپنے خطے میں موجود خوف و ہراس کے باوجود بلوچستان کے90 فیصد عوام آج بھی دل و جان سے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے خواہاں ہیں ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت بوجوہ اس صوبے کے عوام پاکستان کے سب سے زیادہ غیر مطمئن عوام ہیں۔ ان کو مطمئن کرنے کے لئے پاکستان بھر کے ہر ادارے اور ہرجماعت کو اپنا فرض پورا کرنا ہوگا ۔ ہم تاریخ کا یہ سبق نہیں بھول سکتے کہ جب بھی کو ئی ملک اپنے اندرونی خلفشار اورتنازعات سے کمزورہوا ہے اس کے ارد گرد کی طاقتیں چیلوں گدھوں کی طرح اِس پرجھپٹ پڑی ہیں ۔ بلوچستان کا ایک ایک فرد پاکستان کے لئے اہم ہے اور اس کاایک ایک انچ ہمارے وجود کا حصہ ہے ۔ تاہم اِس سے ہٹ کر ہمیں یہ بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ ملک کایہ حصہ قیمتی معدنی وسائل اور گیس اور تیل کی دولت سے مالا مال ہے اور جانے کس کس کی للچائی ہوئی نظریں اس پر جمی ہیں۔ اِس مسئلے پر اگر اس وقت ہم نے اس کی نوعیت اور اہمیت کے مطابق توجہ نہ دی تو تمام متعلقہ افراد اوربالخصوص ڈھٹائی اور بے شرمی سے اپنی ضد پر اڑے ہوئے لوگ پوری طرح قوم کی نظروں میں ہیں۔ انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو وہ ہمارے قومی مجرم قرار دئیے جائیں گے۔

مزید :

اداریہ -