نقاد حضرات خوش نہ ہوں روسی صدر پیوٹن کا دورہ ملتوی ہواہے،منسوخ نہیں

نقاد حضرات خوش نہ ہوں روسی صدر پیوٹن کا دورہ ملتوی ہواہے،منسوخ نہیں
نقاد حضرات خوش نہ ہوں روسی صدر پیوٹن کا دورہ ملتوی ہواہے،منسوخ نہیں

  

روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا دورہ موخر ہونے کے حوالے سے مختلف تجزیے کئے جارہے ہیں اور زیادہ تر یہ خیال ظاہر کیاگیا ہے کہ امریکہ نے پس پردہ ڈپلومیسی سے کام لیتے ہوئے بھارتی حکومت کو استعمال کیا جس کے دباﺅ پر یہ دورہ اور چار ملکی سربراہی کانفرنس نہیں ہوسکی۔ ہمارے دفتر خارجہ کے مطابق دورہ ملتوی ہوا، اسے ختم نہیں کیا گیا، نئی تاریخ اور کانفرنس کے انعقاد کا اعلان بعد میں ہوگا۔ یہ تاثر اپنی جگہ درست ہوگا تاہم غور کیاجائے تو حال ہی میں ناموس رسالت کے حوالے سے احتجاج کے دنوں میں اسلام آباد میں جو صورتحال پید اہوئی، اسے بھی دورے کو موخر کرنے کا سبب کہا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد سے روسی سفارت خانہ نے جو رپورٹ بھیجی، سیکورٹی کے حوالے سے مثبت نہیں تھی۔ روسی سفارت خانے کے مطابق پاکستان میں طالبان کا بہت اثر ہے اور دینی جماعتوں کا بہت بڑا گروہ آج بھی اپنے نظریات پر قائم ہے اور روس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا حالانکہ اس گروہ میں دفاعی ماہرین بھی ہیں جو روس سے تعلقات کو بہتر سمجھتے ہیں کہ اس سے امریکی اثر و نفوذ کم ہوگا، اس کے باوجود سفارت خانہ موجودہ حالات میں اپنے صدر کے دورہ کو مناسب نہیں سمجھتا اور اہانت رسول کے مسئلہ کے حل تک دورہ ملتوی رکھنا چاہتا ہے۔ یہ وجوہات اپنی جگہ ممکن ہوسکتی ہیں تاہم اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ خود روس کے اندرونی حالات کی وجہ سے بھی یہ التوا ہوا ہو۔ اگرچہ ولادی میر پیوٹن بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوئے تھے تاہم ان کی مخالفت بھی ہے اور دھاندلی کا الزام بھی لگایاگیا ہے، گزشتہ دنوں ایک بڑا مظاہرہ بھی ہوا تھا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم سے بھی ان کے اختلافات ہیں، ممکن ہے کہ وہ اس صورتحال کو بھی بہتر بنانا چاہتے ہوں۔ بعض حلقوں کی طرف سے تشویش اور چند حلقوں کی طرف سے خوشی کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کا دورہ ملتوی ہواتھا تو اب پیوٹن بھی نہیں آرہے۔ حکومت نے 2نومبر کے حوالے سے بڑی تیاریاں کیں اور بہت توقعات وابستہ کرلی تھیں جو پوری نہیں ہوئیں۔ لیکن نقاد حضرات کو پہلے تو ملکی مفاد کی روشنی میں تنقید یا تجویز پیش کرنا چاہیے اور پھر یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہے کہ التوا کی درخواست کے ساتھ صدر ولادی میر پیوٹن کا خط بھی صدر زرداری کے نام آیا جس میں ان کو ملتوی شدہ دورہ روس کرنے کی دعوت دی گئی اور کہاگیا ہے کہ وہ (روسی صدر) پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے لئے بے چین اور منتظر ہیں۔ یوں دونوں رہنماﺅں کے باہمی تعاون اور مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھاگیا ہے۔ دوسری طرف دفتر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ چار ملکی سربراہی کانفرنس اور ولادی میر پیوٹن کا دورہ موخر ہونے سے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا دورہ روس متاثر نہیں ہوا، وہ پروگرام کے مطابق مقررہ تاریخ پر روس جائیں گے۔ روس اور پاکستان کے تعلقات کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ افغانستان میں روسی شکست اور پھر سوویت یونین کا ٹوٹنا، اس کے بعد رشین فیڈریشن کا قیام بھی ایک نئی تاریخ رقم کرنے والا ہے۔ تاہم گوربا چوف کی ”حکمت عملی“ سے روس کا اپنی حد میں آجانا اپنی جگہ، بعدازاں ولادی میر پیوٹن اور روسی قیادت نے سنبھالا لیا اور نہ صرف معیشت کو بہتر بنایا بلکہ پھر سے عالمی امور میں اپنے اثر کا مظاہرہ بھی کیا۔ چین سے تعلقات بہتر بنائے دنیا میں اپنا تشخص پھر سے اجاگر کیا۔ روس سلامتی کونسل کا مستقل ممبر ہے جسے ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد روس اور امریکہ کے دعوت نامے پاکستان کے وزیراعظم کی میز پر تھے، وزیراعظم پاکستان شہید ملت لیاقت علی کا فیصلہ امریکہ کے حق میں اور سوویت یونین کے خلاف ہوا۔ وہ امریکہ چلے گئے بھارت نے مختلف رویہ اختیا کیا اور سوویت یونین کے ساتھ مراسم گہرے کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ اور مغربی لابی کو بھی خوش رکھا۔ یوں ہماری نسبت بھارت کو عالمی پلیٹ فارم پر زیادہ حمایت حاصل رہی ۔ اب اگر پاکستان نے قومی نقطہ نظر سے رشین فیڈریشن کے ساتھ مراسم استوار کرنا شروع کئے ہیں تو انداز اور عمل بھی محتاط ہونا ضروری ہے۔ ویسے بھی یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ کراچی کی سٹیل مل روسی تعاون کا شاہکار ہے جو ذوالفقار بھٹو کی کاوش تھی، اب بھی روس اس سٹیل مل کو مزید ترقی دینے کے لئے تیار ہے۔ علاوہ ازیں کئی اور شعبوں میں بھی تعاون ہوگا اور یہ سب سفارتی سطح پر بھی ہوسکتا ہے ۔ ممکن ہے کہ صدر زرداری نیویارک سے واپس آئیں تو صدر پیوٹن کی دعوت قبول کرتے ہوئے اثبات میں جواب دیاجائے اور پھر صدر زرداری کا دورہ ہوجائے اور اس کے بعد پیوٹن بھی آجائیں۔ بہرحال 2 نومبر والے پروگرام تو فی الحال اپنی جگہ رہ گئے ہیں ، آئندہ جو ہوگا محتاط انداز سے ہوگا۔

مزید :

تجزیہ -