سیاسی بحران اور حکومتی حکمت عملی

سیاسی بحران اور حکومتی حکمت عملی
 سیاسی بحران اور حکومتی حکمت عملی
کیپشن:   1 سورس:   

  

ملک میں سیاسی بحران کو سراٹھائے تقریباً چھ ہفتے ہونے کو ہیں۔ سیاسی قوتیں اس کے حل کے لئے مقدور بھر کوششیں بھی کررہی ہیں۔ حکومت اور احتجاجی رہنماﺅں کے درمیان گفت وشنید کے کئی دور مختلف اطراف سے ہوئے ،لیکن اس کے باوجود کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکنے کی بنا پر اس عمل سے لاتعلق ہوتے گئے۔فریقین بات چیت میں ناکامی کا ذمہ دار کسی ایک کو نہ ٹھہرا سکے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ بات چیت میں مصروف دونوں بڑے فریق اپنے اپنے غیر حقیقی نقطہ ¿ نظر کی بنا پر اس کی ناکامی کا باعث بنے۔ مستقبل قریب میں بھی ایسی کسی بات چیت کے نتیجے خیز ہونے کی کوئی امید نہیں، جب تک کہ فریقین اپنے استدلال میں جوہری تبدیلی نہیں لائیں گے۔ سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ وہ کون سی وجوہات ہیں جو اس ناکامی کی بنیاد بنیں۔ ایک بڑی وجہ اس کی فریقین کا ایک دوسرے پر اعتماد کا فقدان ہے جو کسی فیصلے پر پہنچنے کے آڑے آرہا ہے۔ احتجاجی لیڈروں کے کیمپ کی طرف سے حکومت کی کسی بات پر یقین نہ کرنا اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس بے یقینی اور بے اعتمادی کو سمجھنے کے لئے بہت زیادہ دانش کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ ہر حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ اس قسم کے بحران میں بے یقینی کی فضا پیدا ہی نہ ہونے دے، مگر لگتا ہے کہ حکومت نے ابتداءسے ہی یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ بے یقینی کی فضا نہ صرف قائم کی جائے، بلکہ اس کا تسلسل رکھا جائے اور اس ماحول سے فائدہ اٹھایا جائے۔

اگرچہ حکومت کو زیادہ تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، حالانکہ پوری قوم میڈیا کے ذریعے اس بات کا اعادہ کرتی رہی ، لیکن حکومت نے اشتعال انگیزی کو ہوادی۔ اس میں شک نہیں کہ دھرنا دینے والے لیڈروں نے بھی اشتعال انگیز زبان ہی استعمال کی ، لیکن بہتری اسی میں تھی کہ جواب میں حکومت چہار سو لگی ہوئی آگ کوٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتی ،لیکن اس نے اس کے برخلاف حکمت عملی اپنائی۔ ملک کے دارالحکومت میں ڈیڑھ ماہ سے لگی ہوئی آگ سے کاروبار زندگی کے تعطل کو ختم کرنا کسی اور کی نہیں حکومت کی ذمہ داری تھی ،لیکن اس ذمہ داری سے جان بوجھ کر راہ فرار اختیار کی گئی۔

یہ حقیقت بھی تسلیم کی جانی چاہئے کہ حکومت نے طاقت کا کم سے کم استعمال کیا۔،لیکن اشتعال انگیزی سے پرہیز نہ کیا گیا، حالانکہ ایسا کرنا اس کی حکمت عملی کا ایک بہت بڑا ہتھیار ہونا چاہئے تھا۔ اس کے برعکس نہ صرف ایسا نہیں کیا گیا بلکہ وقت گزاری کی حکمت عملی بروئے عمل لائی گئی۔ وقت کے ضیاع جیسے ہتھیار کے استعمال کا نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ قضیہ ابھی تک حل طلب ہے۔ حکومت کے سامنے سابقہ حکومت کی ایک مثال موجود تھی، جب زرداری حکومت کے خلاف طاہر القادری نے دھرنا دیا تھا تو اس وقت کی حکومت کو بھی ایسی ہی خطرناک صورت حال سے دوچار کردیا گیا تھا، لیکن انہوں نے فوری طورپر اس سے نمٹنے کے لئے بات چیت شروع کی اور ایسی حکمت، جس کی بنا پر تین دن کے اندر معاملات طے پا گئے۔ اگر اسی طرح سنجیدگی سے کوشش کی جاتی تو معاملات کسی اور نہج پر ہوتے۔ موجودہ صورت حال تو کسی فوری ردعمل کا بھی نتیجہ نہیں تھی، کیونکہ عمران خان نے درجنوں مرتبہ ایسی صورت حال پیدا کرنے کی دھمکی دی تھی۔ دانش مندی کا تقاضہ تھا کہ بروقت معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرلیا جاتا۔

اگر حکومت دھرنے دینے والوں کے ساتھ آگے بڑھ کر بات چیت کرتی تو کیا اس کا نتیجہ مثبت نہ نکلتا ؟ اب صورت حال کافی پیچیدہ نظر آرہی ہے۔ حکومت کو وقت گزاری کی پالیسی ترک کرکے سنجیدگی سے بات چیت کا آغاز کرنا ہوگا۔وزیراعظم کو اپنی سرکردگی میں کمیٹی تشکیل دے کر سنجیدگی سے بات چیت کرنا ہوگی۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ کسی بھی جنگ سے نمٹنے کے لئے ایک حکمت عملی بروئے کار نہیں لائی جاتی ،کیونکہ اگر پلان اے کام نہ دے تو پلان بی اور پلان سی سے آگے بڑھا جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ حکومت کے پاس اس بحرانی صورت حال سے نمٹنے کے لئے سرے سے کوئی پلان ہی موجود نہیں ہے، بلکہ وقت گزاری پر انحصار کیا جارہا ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا انعقاد اور اس کی غیرضروری طوالت اسی پالیسی کی غمازی کرتا ہے۔ پارلیمنٹ کے ایسے اجلاس ہمیشہ غیر معمولی حالات میں ہوتے ہیں، لیکن کیا اس حقیقت سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ اس غیر معمولی اجلاس سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا ،بلکہ اس کا منفی اثر یہ ہوا کہ اتنے طویل اجلاس میں عوامی اہمیت کے کسی معاملے پر بحث نہیں کی گئی۔ اس اجلاس سے حکومت نے بہت کچھ کھویا۔ اس طویل اجلاس کو دھرنے کے خلاف وقت گزاری کے ہتھیار کے طورپر استعمال کیا گیا۔

حکومت کے نقطہ ءنظر سے اسے یہ کامیابی نظر آتی ہے کہ اس اجلاس سے حکومت کو اپوزیشن عناصر کی غیر مشروط حمایت حاصل ہوئی اور اس کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر بھی اس اعتماد کا فائدہ حکومت کو اٹھانا چاہئے تھااور دھرنا دینے والوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کا دروازہ کھول کر بحران کے حل کی طرف بڑھنا چاہئے تھا لیکن افسوس ہے کہ ایسا نہیں کیا گیا۔ اسے حکومت کی ناکامی کے سوا کسی اور بات پر محمول نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمنٹ کے اندر غیر مشروط حمایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دانش مندی سے آگے بڑھنا چاہئے تھا۔

انتخابی قوانین میں تبدیلی وقت کی ایک بڑی ضرورت ہے اور حکومت کے پاس ایک سنہری موقعہ ہے جسے ضد اور انا کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہئے۔ دھاندلی کی تعریف کے غیرضروری چکر میں پڑے رہنے کی بجائے آئندہ ہونے والے انتخابات کو دھاندلی سے ہمیشہ کے لئے پاک کرنے کا موقعہ نہیں کھو دینا چاہئے اور ایسی ترامیم ان قوانین میں کرلینی چاہئیں جس پر ساری قوم متحد ہے تاکہ الیکشن کے نتیجے میں بننے والی آئندہ حکومتیں یکسوئی کے ساتھ اپنے منشور پر عمل پیرا ہوکر جمہوری اقدار کو فروغ دے سکیں، وگرنہ ملک میں جمہوریت کی بقا کے لئے دیکھے گئے خواب سہانے سپنے کے سوا کچھ نہیں رہیں گے۔ جمہوریت مضبوط کرنے کا یہ بہت ہی قیمتی موقعہ ہے` جسے گنوانا نہیں چاہئے ۔ موجودہ بحران اگر وقتی طورپر ٹل بھی جائے گا تو انتخابی قوانین کو موجودہ ضرورت سے ہم آہنگ نہ کرکے آئندہ بڑے طوفانوں کے آگے بند نہیں باندھے جاسکتے۔ اس لئے آج کے اس موقعہ سے فائدہ اٹھانا موجودہ حکومت کا فرض ہے تاکہ قوم کی اجتماعی بہتری اور جمہوریت کے فروغ کے لئے قدم آگے بڑھائے جاسکیں۔

انا اور ضد کی موجودہ روش ترک کرنا ہی حکومت کا فرض ہے، کیونکہ اس کے کاندھوں پر قوم نے مستقبل کی بھاری ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔ ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے حکومت کو ذاتیات سے اٹھ کر فیصلے کرنے پڑیں گے۔ ایک جماعت کی انا اور ایک شخص کی ضد سے ملک کو نقصان ہوا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی، اس وقت وزیراعظم کے لئے ایک سنہری موقعہ ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا نام رقم کروائیں، وگرنہ مورخ تو سچ لکھنے پر مجبور ہوگا۔

مزید :

کالم -