جس نے آسیب زدہ خضدار کی رونقیں بحال کیں

جس نے آسیب زدہ خضدار کی رونقیں بحال کیں
جس نے آسیب زدہ خضدار کی رونقیں بحال کیں

  



خضدار شہر ایک لحاظ سے کوئٹہ اور کراچی کا جنکشن، کوئٹہ کراچی کے درمیان واقع ہے یہاں ایک فوجی چھاؤنی بھی ہے سیاسی شعور کا علاقہ ہے خضدار کے بعد وڈھ کو سیاسی شہرت حاصل ہے یہاں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار عطاء اللہ مینگل کا آبائی شہر ہے اب اس شہر کو سیاسی شہرت حاصل ہے کہ سردار مینگل کے بعد ان کا صاحبزادہ اختر مینگل بھی وزیراعلیٰ رہ چکا ہے اور بی این پی کا سربراہ ہے اور شہر کو ایک اور حیثیت بھی حاصل ہے وہ یہ کہ میر نصیر مینگل نگران وزیراعلیٰ کا بھی علاقہ ہے اس علاقہ میں نواب ثناء اللہ زہری بھی رہائش پذیر ہیں مسلح مزاحمت کار علی محمد مینگل نے بھٹو کے خلاف مزاحمت کی اور بھٹو کی تشکیل کردہ فورس ایف ایس ایف کا مقابلہ کیا اور کئی گھنٹے مقابلے کے بعد مارا گیا اس کی لاش کو ہیلی کاپٹر سے لے جایا گیا ڈپٹی اسپکر آغا ظاہر کا بھی علاقہ ہے سردار دودا خان زہری ایک نامور سیاستدان تھے وہ نواب ثناء اللہ زہری کے والد تھے ان کی کشمکش سردار عطاء اللہ مینگل سے ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے نواب نوروز خان اب بلوچی تاریخ کا حصہ ہے انہوں نے ایوب خان کے خلاف اس وقت جدوجہد کی جب ایوب خان نے خان قلات میراحمدیار خان کو گرفتار کرلیاتھا تو نواب نوروز خان نے خان کے حق میں بغاوت کی اور پہاڑوں پر چلے گئے جبکہ بعد میں ان کی موت جیل میں ہوئی ان کے بیٹے اور ساتھی جیل میں پھانسی کے تختہ پر چڑھادیئے گئے ۔اب سردار عطاء اللہ مینگل کا بیٹا لشکر بلوچستان کے نام سے مسلح جدوجہد کررہا ہے سابق سینیٹر جاوید مینگل اس کی کمانڈ کررہے ہیں سردار کا ایک بیٹا پارلیمانی سیاست کررہا ہے تو دوسرا بیٹا مسلح جدوجہد کی طرف مائل ہے

بقول شاعر

دونوں گھر ہیں آپ کے

چاہے جہاں بس جائیے

نصیر مینگل کا بیٹا شفیق مینگل بھی مسلح جدوجہد کا حصہ ہے وہ پاکستان کے حق میں ہے آج کل خاموش ہے وہ افغان جہاد میں بھی سرگرم رہا ہے اور جہاد کا حامی ہے ایک لحاظ سے مردم خیز خطہ رہا ہے مولانا ہاشم مینگل جماعت اسلامی کے بانیوں میں شمار کئے جاتے ہیں اب مولانا اسلم گزگی جماعت کے قائد ہیں متحرک شخصیت ہیں اور جماعت سیاسی کردار ادا کررہی ہے مستقبل میں جماعت کا کردار زیادہ مضبوط ہوجائے گا۔

غوث بخش بزنجو مرحوم کو اس علاقہ میں نواب بگٹی کی پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر سردار محمد عارف نے شکست دی اور دوسری طرف منظور گچکی نے مرحوم کو شکست دی یہ تاریخ کا المیہ تھا کہ بزنجو مرحوم کو شکست دینے میں ان کے سیاسی شاگرد اور بی ایس او کے نوجوانوں نے بنیادی کردار ادا کیا ۔یوں بزنجو کی سیاست کو اپنے منطقی انجام تک دوستوں نے پہنچایا۔ کتنا بڑادھوکہ بالکل وہی منظر تھا۔ جو شیکسپیئرکا ڈرامہ تھا جب دوست نے مڑ کر دیکھا تو قاتلوں کی صف میں اس کا جگری دوست Brutus کھڑا تھاجب اس نے بادشاہ کو خنجر مارا تو اس نے مڑ کر دیکھا اور تاریخی جملہ کہا :

BRUTUS YOU TOO

’’بروٹس تم بھی‘‘ بالکل ایسا ہی نقشہ بزنجوکے لئے تیار تھا۔بلوچستان کی سیاسی تاریخ المیوں سے بھری پڑی ہے خضدار کے حوالے سے بات کی تو کہاں چلی گئی اس کا حوالہ بھی ضروری تھا۔

خضدار کے ڈپٹی کمشنر جناب سید عبدالوحید شاہ کو موجودہ حکومت نے بڑے مختصر عرصہ کے بعد وہاں سے ہٹادیا کیوں ہٹایا اس کے پس منظر میں کئی کہانیاں گردش کررہی ہیں میری ملاقات ان سے بڑی مختصر تھی ایک بار اسلم گزکی کے مدرسہ میں وہ مہمان تھے بس ان سے سلام دعا ہوئی اس کے بعد مولانا عبدالحق بلوچ کی برسی کی تقریب تھی تو کوئٹہ واپسی پر ان کے دفتر میں چائے پر بڑی مختصر ملاقات ہوئی ان دو برسوں میں یہ ملاقات تھی لیکن ان کے دورحکومت کو جب دیکھا تو حیرت ہوئی کہ انہوں نے بڑے مختصر عرصے میں جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ قابل تعریف اور ناقابل فراموش ہیں۔ خضدار شہر آج سے چند سال قبل ایک خوف زدہ اور دہشت زدہ شہر بن چکا تھا اور لگتا تھا کہ کوئی آسیب کا سایہ پڑگیا ہے کئی صحافی قتل ہوئے۔ مسخ شدہ لاشیں ملیں کئی لوگ اغوا ہوئے قتل ہوئے۔ لوگوں نے شہر کو چھوڑنا شروع کردیا تھا۔ پریس کلب بند ہوگیا تھا دہشت کی فضا میں شہر ویران اور آسیب زدہ لگتا تھا خوف کی فضا پورے شہر پر چھائی ہوئی تھی لوگ سرشام گھروں کو لوٹ جاتے تھے ہر طرف اداسی ہی اداسی نظر آتی تھی اس خوبصورت شہر کو دیکھتا تھا تو ذہن میں خیال آتا تھا کہ اس شہر کے حالات کیسے درست ہوں گے اور کون کرے گا جب بھی خضدار آنا ہوتا یا کراچی جاتے ہوئے گزرتا تو بس یہ خیال دل کو بے چین کردیتا تھا یہ حسن اتفاق ہے کہ ایک دن اخبار میں پڑھا تو حیرت زدہ ہوگیا کہ بلوچ خواتین نے ڈپٹی کمشنر خضدار جناب سیدعبدالوحید شاہ کی حمایت میں جلوس نکالا اور یہ جلوس احتجاج کا نہیں تھا بلکہ سپاس گزاری کا تھاکہ ڈی سی نے چند ماہ ہی میں شہر کوبدل کر رکھ دیاخوشیاں لوٹ آئی تھیں تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ بلوچ خواتین اپنی بچیوں کے ہمراہ ڈی سی وحید شاہ کے لئے سراپا شکر گزار تھیں اور ان کو خراج تحسین پیش کررہی تھیں مجھے ایک گو نہ خوشی ہوئی کہ ایک نئے ڈی سی نے خضدار کو دہشت اور خوف کی فضا سے نکال کر امن و محبت کی طرف لوٹا دیا تھا اور دل میں خواہش ہوئی کہ ان سے ملاجائے ذہن میں سوچ رہا تھا کہ یہ کون ہے اس کا تعلق کہاں سے ہے جب علم ہواکہ ان کا تعلق تو کشمیر سے ہے نہ وہ بلوچ ہے نہ پشتون تو دل بیتاب میں ان سے ملنے کی آرزو بڑھ گئی کہ ایک غیر بلوچ ڈی سی کے لئے بلوچ قوم کی عزت مآب خواتین شکریہ ادا کرنے کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں ایک غیر بلوچ آفیسر کے لئے۔ یوں میرے دل میں ان کا احترام اور عزت بڑھ گئی اور ان کی آفیسری پر رشک آیا۔

ایک نگاہ بلوچ اور پشتون ڈپٹی کمشنروں کی کارکردگی پر ڈالیں تو شرمندگی ہوتی ہے جب ان کا تبادلہ ہوتا ہے تو لوگ خوشی کا اظہارکرتے ہیں کہ اس ڈی سی سے جان چھوٹ گئی اور پھر ان کی بے اصولی اور کرپشن کی کہانیاں گلی کوچوں اور ہوٹلوں میں سنائی جاتی ہیں سید عبدالوحید شاہ ایک ماڈل کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں آج تک کسی مقامی ڈی سی کے لئے خواتین نے سپاس گزاری کا جلوس نہیں نکالا اور وہ بھی بلوچ علاقے میں اور بلوچ خواتین کا جلوس۔ اس مختصر عرصہ میں خضدار کی حالت بدل کر رکھ دی اور کچھ لوگوں کی نگاہ میں وہ کھٹکنے لگا حکمران پارٹی کے بعض لوگوں کو وحید شاہ کا یہ انداز بے نیازی پسند نہیںآیا وہ کرپشن اور نااہلی کی راہ میں رکاوٹ تھے ان کے پاس کروڑوں روپوں کا فنڈ آیا تو انہوں نے اس کو خضدارضلع کے مستحق اور قابل طالب علموں میں تقسیم کا فارمولہ ترتیب دیا مگر حکمران پارٹی کی ایک معتبر شخصیت کو یہ ناگوار گزرا کہ اس فنڈ کو ان کی مرضی کے بغیر تقسیم کیا جائے گا اس شخصیت نے اپنا پورا دباؤ استعمال کیا لیکن وحیدشاہ نے اس کے مطالبہ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور پھر اس فنڈ کو اپنے ذریعے تقسیم کرنے کے لئے کہلاکر پروانہ چیف سیکرٹری کے ذریعے حاصل کرلیا لیکن وحیدشاہ نے اس کے آگے جھکنے سے انکار کردیا یوں یہ کروڑوں کا فنڈ مستحق نوجوانوں اور طالب علموں سے نکال کر کسی اور طرف پھیر دیا گیا ڈی سی خضدار کرپشن کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ تھے اس لئے ان کا راستے سے ہٹانا ضروری ہوگیا تھا وہ کالی گاڑیوں اور مسلح گروہوں کے خلاف بھی سرگرم تھا اس کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں کھڑی کی گئیں بعض مقتدر حکمران اشخاص کو خضدار کا پرامن ہونا پسند نہیں آیا اور انہیں راستے سے ہٹانے کامنصوبہ بنایا گیا ہٹانے کی خبر پر خضدار کی تمام سیاسی پارٹیاں سراپااحتجاج ہوگئیں لیکن عوامی وزیراعلیٰ بھی اپنے لوگوں کے سامنے بے بس ہوگیا اور ان کا تبادلہ کردیا گیا ان کی پرخلوص کوششوں کا اعتراف نہیں کیا گیا اب مافیا کی راہ میں بڑی رکاوٹ دور ہوگئی اور جناب سید عبدالوحید شاہ کے خوبصورت خواب کہ خضدار پورے بلوچستان کا مثالی ضلع بن کر ابھر جائے ادھورا رہ گیا ہے اس موقع پر فارسی کا ایک خوبصورت شعر یاد آگیا ہے جو وحید شاہ کے دل کی ترجمانی کرے گا۔

یارب ایں خاک پریشاں از کجا برداشتم

ہر کجا رفتم غبار زندگی درپیش بود

اس شعر کا ترجمہ تو نہیں ترجمانی یوں ہوگی

’’اے رب تو نے مجھے کس خاک سے وجود بخشا ہے کہ میں جہاں بھی گیا میرے راستے میں بے شمار مشکلات کھڑی کردی گئیں‘‘

عبدالوحید شاہ سے میری ملاقات کا لمحہ چند منٹوں پر محیط تھا لیکن ان مختصر لمحات کی یادیں طویل لگتی ہیں اور میرا دل ان کے احترام میں ڈوبا ہوا نظر آیا خضدار جیسے خوف زدہ اور آسیب زدہ شہر کو جگمگاتا بنا گیا تھا خضدار کے باسی سیدعبدالوحید شاہ کو مدتوںیاد رکھیں گے۔

مزید : کالم