پنجاب میں جگر کی پیوند کاری

پنجاب میں جگر کی پیوند کاری
پنجاب میں جگر کی پیوند کاری

  

حکومت پنجاب گزشتہ ساڑھے آٹھ برسوں سے دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر صوبے کے عوام کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں مہیا کرنے کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔عوام کو صحت کی بہترین سہولتو ں کی فراہمی کے سلسلے میں صوبے بھر کے تمام ہسپتالوں کو جدید آلات سے آراستہ کیاگیا ہے۔ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کرنا اور غریبوں کی خدمت کرنا وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کا مشن رہاہے جسے وہ آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ خیال ہے کہ وہ کسی پر احسان نہیں کر رہے، بلکہ ان کا یہ ایمان ہے کہ قومی وسائل پر غریبوں کا حق ہے یہ وسائل عوام پر ، ضرورت مندوں پر خرچ ہونے چاہئیں تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات میں احساس محرومی پیدا نہ ہو۔مفت ادویات کی فراہمی، فری ڈائلسسز، ینگ ڈاکٹرز کی مستقلی ، ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافہ، ڈاکٹروں کے سروس سٹرکچر کی منظوری، ہسپتالوں میں ائرکنڈیشنزز کی تنصیب ، نرسز کی ریگولرائزیشن ، راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا قیام جیسے اہم اقدامات شامل ہیں۔صوبے کے دو ر دراز علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر مہیا کرنے کے لئے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ موبائل ہیلتھ یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔صوبائی دارالحکومت لاہور میں واقعہ شیخ زید ہسپتال میں پنجاب حکومت کی جانب سے جگر کی پیوند کاری کا بھی آغاز کیا جا چکا ہے، جو نہایت کامیابی سے جاری ہے۔

گزشتہ روز شیخ زید ہسپتال لاہور کے لیور ٹرانسپلانٹیشن یونٹ میں پاکستان کے ایک تاریخ ساز مسیحا، ڈاکٹر طارق بنگش سے ملاقات ہوئی تو احساس ہوا کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ ڈاکٹر بنگش کا تعلق خیبر پختون خوا سے، لیکن وہ پنجاب میں بیٹھ کر ہسپتال کے اس نہایت ہی اہم شعبہ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

شیخ زید ہسپتال کے لیور ٹرانسپلانٹیشن یونٹ نے اپنی عملی زندگی کی شروعات اگست 2011 ء میں کیں جب سید عامر رضا نامی ایک مریض جگر کے ناکارہ پن کی وجہ سے کاتبِ تقدیر کے آگے دست بَدْعا تھا۔ انہی دِنوں لاہور کا میٹرک کا ایک طالبِ علم 16 سالہ ارسلان شدید زخمی حالت میں شیخ زید ہسپتال میں داخل ہوا۔ ارسلان نے اپنے والدین کو وصیت کی کہ اگر وہ مر جائے تو اس کا جگر Donate کردیا جائے۔ پھر وہی ہوا کہ ارسلان تو داعئی اجل کو لبیک کہہ گیا ،لیکن سید عامر رضا کو ایک نئی زندگی عطا کر گیا۔کم و بیش 12 گھنٹے کی اعصاب شکن، لیکن انہماک سے بھرپور جدوجہد کے بعد ڈاکٹر طارق علی بنگش کی ٹیم نے ارسلان کے جگر کی عامر رضا کو پیوند کاری کرکے پاکستان میں ایک تاریخ رقم کر دی۔ ڈاکٹر عامر لطیف ، ڈاکٹر عمر علی اور ڈاکٹر خاور شہزاد نے ڈاکٹر بنگش کی ٹیم میں شمولیت کرکے اپنے ناموں کو احترام اور مہارت کی علامت کے طور پر محفوظ کر لیا۔

قارئین کی دلچسپی کے لئے یہ بتانا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر بنگش نے 1996 ء میں ایم بی بی ایس کیا اور پھر مزید تعلیم کے لئے انگلستان چلے گئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے لیڈز میں جگر کی پیوند کاری کے 9 مختلف مراکز میں کام کرکے اپنے شعبہ میں مہارت حاصل کی۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان تشریف لائے تو ہمیشہ بھارت کی طرف اْٹھنے والی آنکھوں نے انہیں اپنا مسیحا و ملجا سمجھنا شروع کر دیا اور ڈاکٹر بنگش نے اپنے محدود وسائل کے باوجود اْن کی امیدوں پر پورا اْترنے کی کوشش کی۔

24 فروری 2012 ء کو جگر کی پیوند کاری کے میدان میں ایک اور بڑا قدم اْٹھا، جب کسی غیر ملکی ڈاکٹر کی مدد اور رہنمائی کے بغیر ڈاکٹر بنگش نے کامیاب پیوند کاری کرکے یہ ثابت کر دیا کہ ہم کسی سے کم نہیں۔ 2015 ء کے اوائل تک جب شیخ زید ہسپتال کے جگر کی پیوند کاری کے شعبہ میں ڈاکٹر بنگش 47 کامیاب پیوند کاریا ں کر چکے تھے تو48 ویں سرجری میں پہلی بار ناکامی کا مْنہ دیکھنا پڑا۔ نتائج کی اِس شرح کو دیکھا جائے تو یہ حیران کْن منطر نامہ پیش کرتی ہے اور اہلِ وطن سے سجدہ شکر بجالانے کا تقاضا کر تی ہے۔ گزشتہ روز کی ملا قات میں ڈاکٹر بنگش نے بتایا کہ وہ اِس یونٹ میں 88 پیوند کاریاں کرچکے ہیں۔ ان مریضوں میں الحمد للہ 79 بقیدِ حیات ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ لوگوں کو 90 فیصد کامیابی کو مرکزِ نگاہ بنانا ہوگااور اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ راقم نے جب اْن سے یہ سوال کیا کہ گْردہ عطیہ کرنے والے لوگوں میں شرح موت کیا رہی تو اْن کا جواب سْن کر اْن کے ہاتھ چومنے کو جی چاہا۔ فرمانے لگے کہ ریکارڈ کی بات ہے کہ اِس ہسپتال میں گردے کا ایک Donor بھی موت کے مْنہ میں نہیں گیااور ہم اِس بات پر ربِ ذوالجلال کے بے حد شکر گزار ہیں۔

مزید :

کالم -