حج:2016 کچھ مشاہدات اور تاثرات

29 ستمبر 2016

ناصربشیر

روزنامہ پاکستان میں میرے رفیق کار، برادر محترم اشفاق انجم صاحب حج، عمرہ اور دیگر مذہبی امور پر اتھارٹی ہیں۔ ان کا لکھا ہوا سند ہوتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ صحافی برادری میں وہ واحد آدمی ہیں جو حج اور عمرہ کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ اپنے مشاہدات اور تاثرات اپنے کالموں اور تحقیقی رپورٹس میں بیان کرتے رہے ہیں۔ دیگر لوگ جو ان معاملات پر لکھتے ہیں، وہ دراصل اشفاق انجم صاحب کے خوشہ چینیوں میں سے ہیں، مجھے بھی آپ انہی خوشہ چینیوں میں سے ایک سمجھئے۔

میں اس سال پہلی بار حج کے لئے مکہ مکرمہ آیا تو حیرتوں کے بہت سے در مجھ پر کھلے۔ تفصیلی تاثرات تو میں سنڈے میگزین میں باقاعدہ درج کروں گا۔ اس کالم میں کچھ ایسی معروضات لکھنا چاہتا ہوں جن کا تعلق حج اور حاجیوں سے ہے۔

پچھلی حکومت کے وزیر مذہبی امور سید حامد سعید کاظمی اور ڈی جی حج راؤ شکیل کو حج کے معاملات میں خرابیوں اور بد عنوانیوں پر سزا ملی تو میں سو چتا رہا کہ آخر انہوں نے ایسا کیا کیا تھا، یہاں آکر کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی تو پتا چلا کہ ان کے دور میں آنے والے حاجی صاحبان مسائل اور مشکلات کا شکار رہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حج نام ہی مشکل اور مشقت کا ہے لیکن جن مشکلات اور مشقتوں سے بچا جاسکتا ہے ان سے بہر حال بچنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ یہاں لوگ بتا رہے تھے کہ ان کے دور میں حاجیوں کو صحت کے مسائل درپیش رہے، کھانے کے معاملات میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ حاجیوں کے لئے اقامت گاہیں کرائے پر لینے کے سلسلے میں بد عنوانی کی گئی، اقامت گاہیں اتنی دور تھیں کہ حاجیوں کے لئے حرم شریف اور منی پہنچنا مشکل تھا۔ ٹرانسپورٹ کے معاملات میں بھی گھپلے تھے، مجھے حج کی دعوت اگرچہ حج آرگنائزرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے دی تھی اور طواف ٹریول کے حاجی مقبول احمد کا اس سلسلے میں ،میں ہمیشہ کے لئے ممنون رہوں گا لیکن اس کے باوجود میری نظر سرکاری سکیم کے حاجیوں پر رہی۔ میں بغور دیکھتا رہا کہ اس دفعہ انہیں کہاں کہاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سب سے پہلے میں نے صحت کے معاملات کا جائزہ لیا۔ مدینہ منورہ میں، پاکستان ہاؤس گیاجہاں فوجی اور سول ڈاکٹر بیمار ہونے والے حاجیوں کا مفت معائنہ اور علاج کررہے تھے۔ حتیٰ کہ دوائیں بھی مفت فراہم کی جارہی تھیں۔ مکہ میں پاکستان حج میڈیکل مشن قائم ہے جہاں سینکڑوں ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف تندہی سے اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے حاجیوں کی خدمت کررہے تھے۔ ایسا نہیں کہ سب کچھ ٹھیک تھا، چھوٹے موٹے مسائل تو سر اٹھاتے ہی رہتے ہیں مگر ان مسائل کا تعلق افراد سے ہے، اداروں سے نہیں۔ مثلاً حاجیوں کو شکایت تھی کہ پیرا میڈیکل سٹاف کا رویہ یہاں بھی ویسا ہی ہے جیسا پاکستان کے ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔ بعض مقامات پر بحث مباحثہ اور تلخ کلامی خود میں نے بھی دیکھی۔ حج مشن دوائیں اپنے ساتھ پاکستان سے لایا تھا۔ اس میں کیا مصلحت تھی یہ ڈاکٹر صاحبان زیادہ بہتر انداز میں بنا سکتے ہیں لیکن حاجیوں کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب میں فروخت ہونے والی دوائیں دی جائیں تو زیادہ بہتر رہے گا، کیونکہ پاکستانی دوائیں پاکستان کے موسمی حالات کو پیش نظر رکھ کر تیار کی جاتی ہیں اور یہاں فروخت ہونے والی دوائیں یہاں کے موسم کے مطابق تیار ہوتی ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے موسمی حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

سرکاری حاجیوں کو اس بار کھانے کے معاملات میں شکایت کرتے نہیں دیکھا۔ سب مطمئن تھے البتہ دو افراد مجھے ملے اور انہوں نے اپنی شکایت مجھے ریکارڈ کرائی جو میرے موبائل میں محفوظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مناسب اور مطلوبہ مقدار میں کھانا فراہم نہیں کیا جارہا۔ سرکاری سکیم کے حاجیوں کی اقامت گاہیں دیکھنے کے لئے میں خود عزیزیہ کے علاقے میں مقیم رہا۔ کئی ہوٹلوں میں گیا۔ کمرے نہایت شاندار تھے۔ ہر کمرہ ائر کنڈیشنڈ تھا۔ اقامت گاہیں حرم شریف سے خاصے فاصلے پر تھیں، لیکن ٹرانسپورٹ کا اہتمام نہایت فراخ دلی سے کیا گیا تھا۔ نماز کے وقت بسیں حرم شریف جانے کے لئے تیار رہتی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ اگر کسی بس میں ایک حاجی صاحب بیٹھے ہیں تو بس مقررہ وقت پر چل پڑی۔ میں خود انہی بسوں کے ذریعے حرم شریف جاتا رہا۔ اگر ٹیکسی سے جاتا اور آتا تو پچاس ساٹھ ریال سے کم خرچ نہ ہوتے، کیونکہ حج کے دنوں میں سعودی عرب کے ٹیکسی ڈرائیور کرائے بڑھا دیتے ہیں۔ سعودی حکومت ان ٹیکسی ڈرائیوروں کو نکیل ڈالنے کے بیانات تو دیتی ہے، لیکن عملاً ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔ ہوتا وہی ہے جو ٹیکسی ڈرائیور چاہتے ہیں۔

یہاں یہ بات کہے بغیر نہیں رہوں گا کہ پرائیویٹ حج سکیم کے حاجی سرکاری سکیم کے حاجیوں کی نسبت زیادہ خوش تھے۔ پرائیویٹ حج سکیم کے حاجی اگر کچھ پیسے زیادہ ادا کرتے ہیں تو اس کے عوض بہت سی اضافی سہولتیں اور آسائشیں بھی پاتے ہیں۔ پرائیویٹ سکیم کے حاجیوں کے ہوٹل نسبتاً مہنگے، لیکن عمدہ تھے۔ حرم شریف کے انتہائی نزدیک تھے جہاں سے حاجی صاحبان پیدل ہی حرم شریف پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے لئے کھانا معیاری ہوٹلوں سے آتا ہے۔ جو پرائیویٹ حاجی حرم سے کچھ فاصلے پر ٹھہرائے گئے تھے،انہیں لگثرری گاڑیوں میں حرم تک لے جایا جاتا رہا۔ سرکاری سکیم کے حاجیوں کی گاڑیاں ویسی ہی تھیں جیسی لاہور اور قصور کے درمیان چلتی ہیں۔ سرکاری سکیم کے حاجیوں کی ایک ہی کیٹگری ہوتی ہے، جبکہ پرائیویٹ سکیم کے حاجیوں کا وہ معاملہ ہے کہ جتنا آپ گُڑ ڈالیں گے، مٹھاس بڑھتی جائے گی۔ پرائیویٹ حج سکیم کا حج پیکیج چار لاکھ سے شروع ہوتا ہے اور دس بارہ لاکھ تک جاتا ہے۔

ڈائریکٹر حج ساجد یوسفانی صاحب نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ’’اس سال حج کے (پانچ) دنوں میں ساٹھ پاکستانی حاجیوں کا انتقال ہوا۔ جن کی تدفین جنت المعلیٰ میں کر دی گئی‘‘۔

ظاہر ہے کہ حاجی صاحبان سعودی عرب میں چالیس دن ضرور قیام کرتے ہیں، اس لئے ممکن ہے کہ انتقال کر جانے والوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوا ہو، لیکن اس سلسلے میں درست اعداد و شمار ڈائریکٹر حج ساجد یوسفانی صاحب ہی دے سکتے ہیں۔ پچھلے برسوں میں شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں، لیکن اس بار شیطان کی ایک نہیں چلی۔ تمام حاجی صاحبان اور صاحبات اسے کنکریاں مار کر بھی محفوظ رہے۔ کرین حادثے کے باوجود کرینیں اس سال بھی پچھلے سال کی طرح موجود تھیں، لیکن الحمدللہ فی الحال سب ٹھیک ہے۔ آخرمیں ایک معمولی، لیکن بڑی بات کہ جو حاجی صاحبان سعودی عرب میں منہ پر ماسک رکھتے ہیں وہ خود بھی بیماریوں سے بچتے ہیں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کے حاجی صاحبان اگر اپنے سامانِ سفر میں ماسک کو بھی شامل کرلیں تو ان کا بھی بھلا ہوگا اور دوسروں کو بھی فائدہ ہوگا۔

(نوٹ: میں سترہ اکتوبر تک مکہ مکرمہ ہی میں ہوں۔ احباب میرا موبائل نمبر 00966541433927 نوٹ فرمالیں۔)

مزیدخبریں