ان پاکستانیوں کو سعودی عرب سے واپس ملک اس حال میں بھیجا جارہا ہے کہ جان کر آپ کو شدید غصہ آئے گا

ان پاکستانیوں کو سعودی عرب سے واپس ملک اس حال میں بھیجا جارہا ہے کہ جان کر آپ ...
ان پاکستانیوں کو سعودی عرب سے واپس ملک اس حال میں بھیجا جارہا ہے کہ جان کر آپ کو شدید غصہ آئے گا

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باعث سعودی عرب شدید مالی بحران کا شکار ہو چکا ہے اور وہاں کمپنیاں اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں ناکام ہو چکی ہیں جس کے باعث بہترروزگار کی امید لیے سعودی عرب پہنچنے والے تارکین وطن اب واپسی کے لیے رختِ سفر باندھ رہے ہیں۔ پاکستانی سفارتخانے کے حوالے سے عرب نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 405پاکستانی مزدور رواں ہفتے وطن واپس چلے جائیں گے، لیکن تنخواہوں کے بغیر۔ پاکستانی سفارتخانے کے کمیونٹی ویلفیئر اتاشی عبدالشکور شیخ کا کہنا تھا کہ ”اوجر میں کام کرنے والے ان مزدوروں کی بدھ سے پاکستانی واپسی شروع ہو جائے گی۔ یہ مزدور بھی ان ساڑھے 6ہزار پاکستانی مزدوروں میں شامل ہیں جنہیں اوگر 9ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کر رہی۔ “

سعودی عرب میں کھیلا جانے والا وہ ’کھیل‘جس میں ایک دوست نے دوسرے دوست کی جان لے لی

رپورٹ کے مطابق اوجر میں کام کرنے والی فلپائنی اور بھارتی مزدوروں کی بھی بڑی تعداد مہینوں سے تنخواہوں سے محروم ہے۔ اوجر سعودی عرب کی ایک بہت بڑی تعمیراتی کمپنی ہے جو لبنان کے سابق کھرب پتی وزیراعظم سعد ہریری کی ملکیت ہے۔ مجموعی طور پر اوجر کے 30ہزار ملازمین اس مالی بحران سے متاثر ہوئے ہیں۔ اوجر اور دیگر تعمیراتی کمپنیاں زیادہ تر ریاستی منصوبوں پر انحصار کرتی ہیں۔ تیل کی قیمتوں کے باعث سعودی حکومت ان کمپنیوں کو ادائیگی کرنے میں ناکام ہو چکی ہے جس کے باعث یہ کمپنیاں بھی اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں۔ عبدالشکور شیخ کا کہنا تھا کہ”275پاکستانی مزدور اس سے قبل ہی پاکستان واپس جا چکے ہیں۔ ان مزدوروں کو شاہ سلمان کی طرف سے اعلان کردہ امدادی منصوبے کے تحت امدادی رقم دی گئی تھی۔ سعودی وزارت محنت بھی بے روزگار ہونے والے مزدوروں کو سہولیات دے رہی ہے اور انہیں اوجر کے خلاف مقدمات دائر کروانے میں بھی مدد دے رہی ہے۔“

مزید :

عرب دنیا -