کیا مسافر تھے!

کیا مسافر تھے!
 کیا مسافر تھے!

  

پاکستانی سیاست ماضی کے منطقے سے نکلنے چلی ہے!مستقبل کے دروازے پر دستک پڑ چکی۔

یہ تبدل کے بادل ہیں اور تغیر کی دوپہر۔۔۔یہ تخم کا موسم ہے اور بس کوئی دن آتا ہے جمہوری کھیتی سے پارلیمانی فصل ہی اٹھائی جایاکرے گی۔مشکلات و مصائب اور حادثات و آفات یقینازندہ اور متحرک انسانوں کے لئے ہی ہوا کئے۔ایک بے روح جان اور ٹھنڈی لاش کے لئے تو ہرگز نہیں۔

آرام و راحت کی خواہش رکھنے والوں کے لئے تو سب سے بہتر جگہ قبر ہی ہوگی۔کہا جاتا ہے بیٹھ رہو گے تو پھرٹھوکر نہیں لگے گی،چلو گے توٹھوکریں کھانا پڑیں گی۔

پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان چارسال بعد ہی 1951ء میں قتل کر دیئے گئے۔خواجہ ناظم الدین کو محض دو سال بعدہی 1953ء میں برطرف کر دیا گیا۔محمد علی بوگرہ بھی گرتے پڑتے دو سال ہی نکال پائے اور 1955ء میں ان سے زبردستی استعفیٰ لے لیا گیا۔

چودھری محمد علی با مشکل ایک سال ہی نکال پائے کہ 1956ء میں ان سے بھی استعفیٰ طلب کر لیا گیا۔حسین سہروردی بھی ایک سال چلے اور 1957ء میں انہیں بھی استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا۔آئی آئی چندریگرچند ماہ کے بعد 1957ء میں ہی زبردستی گھر بھیج دیئے گئے۔فیروز خان نون کابھی ایک سال بعد 1958ء میں اقتدار ختم کر دیا گیا۔

اس کے بعد ذوالفقارعلی بھٹوہانکے پکارے 1973ء سے 1977ء تک دھوپ چھاؤں کے شام و سحر سے گزرے۔پھر محمد خان جونیجوکو تین سال بعد 1988ء میں زبردستی سندھڑی کا راستہ دکھایا گیا۔اس کے دو سال بعد 1990ء میں بے نظیر بھٹو کی حکو مت برطرف کر دی گئی۔

پھر عدالتی بحالی کے باوجودنواز شریف1993ء میں زبردستی استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیئے گئے۔تین سال بعد پھر1996ء میں بے نظیر برطرف کردی گئیں۔پھر 1999ء میں دوبارہ نواز شریف کی حکومت کا تخت الٹ پھینک دیا گیا۔ظفر اللہ جمالی سے بھی چار سال بعد دل اوب گیاتو2004ء میں ان سے استعفیٰ مانگ لیا گیا۔آگے چل کر محض چار سال بعد2012ء میں یوسف رضا گیلانی کو عدالت نے برطرف کر دیا۔پھر چارسال بعد اب 2017ء میں نواز شریف کو عدالت نے نااہل قرار دے دیا۔ سو سوالوں کا ایک سوال کہ یہ سب کے سب وزرائے اعظم کیا تصادم کی راہ پر گامزن تھے؟یا پھر کوئی معشوق تھااس پردہ زنگاری میں؟

حقیقت کی شہادت سے چشم پوشی سب سے بڑا کتمانِ حق ٹھہرااورظلم کو ظلم نہ کہنایا گرداننابھی سب سے بڑا جرم عظیم۔ک

سی سچے انسان یاپکے مسلمان سے یہ امید باندھناکہ وہ حق کااعلان نہ کرے یاانحراف کوانحراف نہ کہے۔۔۔یہ بعینہٖ ایسی ہی بات رہی کہ اسے کہا جائے کہ وہ اپنے مذہب سے دست بردار ہو جائے۔کائنات کیا،کہکشاؤں میں بھی کوئی کسی سے اس مطالبے کا حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنا مذہب چھوڑ دے۔۔۔تو یقیناایک آدمی سے یہ مطالبہ بھی معقول و موزوں نہیں کہ وہ ظلم کو ظلم یا انحراف کوانحراف نہ کہے کہ دونوں باتوں کا مطلب ایک ہی ہے۔کہا جاتا ہے کہ انسان کا سب سے بڑامابہ الاامتیازوصف یہی کہ وہ سچائی اور راستائی کاگواہ ہوتاہے۔ایک گواہ کا فرضِ اولیں یہی کہ وہ جو کچھ جانتا اورپہچانتا ہو۔۔۔اسے ٹھیک ٹھیک بیان کرے۔اسے جس سچائی اورحقائق کامالک ارض و سما نے علم و یقین دیا ہو۔۔۔اس کا برملااقرار واعتراف بلکہ اعلان کرے۔

پھر اس ادائے فرض کی راہ میں کسی آزمائش و مصیبت سے مت ڈرے۔خصوصاًایسی صورت میں کہ جب حقیقت پر خرافات اور عدل پر کذب کا پردہ پڑ گیا ہو۔پھر یہ فرض اور لازم و ناگزیرہوا جاتا ہے۔

مسلسل اگرنحوست جمہوریت کے تعاقب میں رہی اور بدقسمتی پیہم پنجے مارتی رہی توآخر اس کا سبب کیا ہے؟سب وزرائے اعظموں کواگر یکے بعد دیگرگھر کی راہ دکھائی جاتی رہی تواس اسرار کا راز کیا ہے؟آخر وہ کون سی جادو کی چھڑی ہے جس کے پاس طاقت و قوت تو ہے مگر سیاست وفراست نہیں؟پاکستان میں سیاسی سفینہ آخر کیوں سمندر کا سینہ چیر کر ساحل پر اتر نہ سکا؟اسی سوال کو دوسرے زاویے سے مرصع کر کے دیکھا چاہئے۔

آخر کیا وجہ ہے دستورسے انحراف پر گرفت کرنے کی کسی جری یا جانباز نے جرات نہیں جتائی؟دن کو دن اوردو جمع دو کو چار اس لئے بھی نہیں کہا گیا کہ بڑے بڑے شیردل اس خیال سے ہی کانپے جاتے رہے مبادازنجیرو تعزیر اورقیدو قفس ہی ہمارا مقدر نہ بن جائے۔سوال تو یہ بھی ہے کہ طاقت کے خوف سے مصلحت پسند سیاستدانوں نے آخر کیوں چپ کا طویل روزہ رکھے رکھا؟سکوت سے اشتعال برتنے والے شائقین بھی چیختے رہے کہ ہائے وائے تصادم نہیں تعاون کا راستہ اختیار کرو۔کہیں ایسا نہ ہوکہ جسم و جاں مصیبت میں مبتلا ہو جائے۔پھر کون تھا جو جادوگروں کے مقابل مقتل میں نکلتا۔۔۔کس کاہاتھ اتنا قوی تھا کہ ان کے آہنی پنجوں پرپڑتا؟

اف!یہ جادہ کہ جسے دیکھ کے جی ڈرتا تھا

کیامسافرتھے!جواس راہ گزر سے گزرے

جادوگروں کی فسوں سازی اور سامریوں کی موشگافی سے سیاسی حکام اور پارلیمانی نظام کے ساتھ جو کچھ ہو ا بس توبہ بھلی۔جو کچھ ہوچکااور جو کچھ ہونے چلا،ایسی خشتِ خم اورجام جم پر تو نابینا بینا ہو جاتے۔بہرے بولنے لگتے،گونگوں کی چیخوں سے دنیا دہل جاتی اوربوڑھوں کے ہاتھ شیروں کے پنجوں کی طرح طاقتور ہو جاتے۔ آئین کی طاقت ان کے دلوں کو تقویت عنایت کرتی ،عشق ان کی رہبری کرتااور شوق ان کارفیق ہوتا۔

عزم قدم قدم پر ان کی ہمت بڑھاتااور ہمت آگے بڑھ کر ان کی راہ صاف کیا کئے دیتی۔اب کون شہباز شریف اور چودھری نثار کوسمجھائے کہ طاقت کے خوف سے تو سچائی اور حقیقت ہمیشہ کے لئے خطرے میں پڑ جائے گی۔پھر دستور کے دائم قائم اور سر بلند رہنے کی کوئی راہ باقی و برقرار نہ رہے گی۔

آئینی طاقت کی حقیقت کا کلیہ نہ تو کسی قوت کی تصدیق کا محتاج ہے،نہ ہی اسے اس لئے بدلا جا سکتا ہے کہ ہمارے جسم یا حکومت پر کیا گزرتی ہے!یہ تو حقیقت ہے اور اس وقت بھی حقیقت ہے کہ ہمیں جاں کے عذاب یا جلا وطنی ہی میں کیوں نہ جھونک دیا جائے۔صرف اس لئے کہ خاکم بدہن ہم پر برا وقت نہ آ جائے۔۔۔آگ میں ٹھنڈک اور برف میں حدت پیدا ہو نہیں سکتی۔

مزید :

کالم -