ایران نیو کلیئر معاہدے پر جنرل ڈنفورڈ کے مثبت خیالات

ایران نیو کلیئر معاہدے پر جنرل ڈنفورڈ کے مثبت خیالات

  

امریکہ کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ نے ٹرمپ انتظامیہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ منسوخ نہ کرے،کیونکہ وہ اس پر پوری طرح عملدرآمد کر رہا ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حکومت نے معاہدہ ختم کیا تو پھر امریکہ کا اعتبار ختم ہو جائے گا اور کوئی دوسرا مُلک بھی ایسا معاہدہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔ جوزف ڈنفورڈ نے کہا کہ اگر ایران معاہدے کی شقوں پر عملدرآمد کر رہا ہے تو اسے ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں، ایران نے جن شعبوں میں اپنی جوہری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے وہ معاہدے کے دائرے سے باہر ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ معاہدے سے ہٹ کر جو بات (ہمارے نزدیک) قابلِ اعتراض ہے وہ یہ ہے کہ ایران پورے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لئے کام کر رہا ہے، اور سمندری حدود میں نقل و حرکت کے لئے خطرے کا باعث ہے۔انہوں نے کہا مناسب بات یہ ہے کہ اگر ایران کی جانب سے معاہدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی تو ہم اس معاہدے کو قائم رکھیں، کیونکہ اِس طرح دوسرے معاہدے طے کرنے کے بارے میں ہماری آمادگی کا عملی مظاہرہ ہو گا وہ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو اپنی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے بیان دے رہے تھے۔

امریکی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ امریکہ اور پانچ دوسرے یورپی ممالک(5+1) کے شروع ہی سے ناقد ہیں اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی وہ یہ کہتے رہے کہ اگر وہ صدر بن گئے تو وہ یہ معاہدہ ختم کر دیں گے،چنانچہ وہ صدر بننے کے بعد حیلوں بہانوں سے اِس معاہدے کو ہدفِ تنقید ،بلکہ ملامت بناتے رہتے ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ وہ اس معاہدے کو ختم کرنے کے در پے ہیں اور چند روز قبل جب ایسی اطلاعات آئیں کہ ایران نے کوئی نیا میزائل تجربہ کیا ہے تو انہوں نے اعلان کر دیا کہ ایران کے ساتھ نیو کلیئر معاہدہ عملاً ختم ہو گیا،معاہدے کے خاتمے کے سلسلے میں امریکی صدر کی بے تابی اِس لئے ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے اندر اسرائیلی لابی نے یہ معاہدہ شروع ہی سے تسلیم نہیں کیا،جن دِنوں معاہدے کے لئے کوششیں جاری تھیں اور یہ امید ہو چلی تھی کہ یہ معاہدہ ہو جائے گا اس وقت بھی ری پبلکن کارکن بیان دے رہے تھے کہ وہ کانگرس سے اس معاہدے کی منظوری نہیں ہونے دیں گے تاہم صدر اوباما اس کے لئے بڑے پُرجوش تھے اور انہوں نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ اگر کانگرس نے معاہدے کے راستے میں روڑے اٹکائے تو وہ صدارتی ویٹو کا استعمال کریں گے، کانگرس کے57 ارکان نے ایرانی صدر حسن روحانی کو خط بھی لکھا جس میں اُن سے کہا کہ وہ خود ہی اس معاہدے سے دستبردار ہو جائیں ورنہ اگلا امریکی صدر اسے منسوخ کر دے گا۔

امریکی صدر وہی کچھ کر رہے ہیں جو اسرائیل اور اسرائیلی لابی چاہتی تھی اور اب تک اس کی یہی خواہش ہے،اور صدر ٹرمپ یہ خواہش پوری کرنے میں پیش پیش ہیں،لیکن اب امریکہ کے ٹاپ جنرل نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ ایران تو معاہدے پر پوری طرح عمل کر رہا ہے اِس لئے اسے ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں اور اگر ایسا کیا گیا تو امریکہ کا اعتبار ختم ہو گا اور آئندہ ایسے معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔ امریکہ کو اِس وقت پیانگ یانگ کی ’’ایٹمی دھمکیوں‘‘ کا سامنا ہے اِس لئے بعض عالمی طاقتیں کوشش کر رہی ہیں کہ اِس معاملے میں جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے۔ اگرچہ شمالی کوریا کی قیادت بھی ہوا کے گھوڑے پر سوار ہے اور صدر ٹرمپ کے سکّوں میں ہی نقد ادائیگی کر رہی ہے،لیکن اگر کوئی ایٹمی معاہدے وغیرہ کی بات ہو گی تو پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ امریکہ پہلے ایسے معاہدے کے ساتھ کیا سلوک کر رہا ہے اِس لئے جوزف ڈنفورڈ نے بروقت خبردار کر دیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ ختم کیا گیا تو دوسرے مُلک امریکہ پر اعتبار نہیں کریں گے۔

امریکہ کا ٹریک ریکارڈ تو اس سلسلے میں زیادہ اچھا نہیں ہے تاہم بعید نہیں کہ صدر ٹرمپ اِس ضمن میں امریکی جرنیل کی رائے کو وزن دیں،کیونکہ انہوں نے تو بھرپور طریقے سے یہ شہادت دے دی ہے کہ ایران معاہدے پر عمل کر رہا ہے اور اگر وہ بعض شعبوں میں اپنی تحقیق اور کاوشوں کو آگے بڑھا رہا ہے تو وہ معاہدے کے دائرے سے باہر ہیں ایرانی قیادت بھی یہ بات کہہ چکی ہے کہ ایران جوہری معاہدے پر عملدرآمد کر رہا ہے اور میزائل پروگرام پر جو پیشرفت کی جا رہی ہے اس سے معاہدے کا کوئی سرو کار نہیں اور نہ ہی اس سے معاہدے کی کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے۔یہ درست ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو ایران کا میزائل پروگرام بُری طرح کھٹکتا ہو گا،لیکن جب یہ معاہدے کا حصہ ہی نہیں تو اس بنیاد پر تو نہ معاہدہ ختم ہو سکتا ہے اور نہ ہی ایران کو خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا جا سکتا ہے،لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ ایران نے چند روز قبل جس میزائل کا تجربہ کیا تھا اس کی ابتدائی اطلاع پر ہی صدر ٹرمپ آپے سے باہر ہو گئے تھے اور اعلان کر دیا تھا کہ اب یہ معاہدہ ختم سمجھیں،بعد میں یہ اطلاع آئی کہ میزائل کا یہ تجربہ کوئی نیا نہیں تھا اور سات ماہ پرانے تجربے کو نیا ظاہر کر کے ایران نے ’’تراہ‘‘ نکال دیا اور صدر ٹرمپ اس ٹریپ میں آ کر جذباتی ہو گئے۔

جوہری معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ایران اور امریکہ کے علاوہ بھی پانچ دوسرے ممالک فریق ہیں،لگتا ہے صدر ٹرمپ نے ان ممالک سے بھی کوئی مشاورت نہیں کی،کیونکہ یہ مُلک بھی ایران کو قصور وار نہیں سمجھتے اور معاہدہ جاری رکھنا چاہتے ہیں،اب فرض کریں اگر امریکہ یہ معاہدہ ختم بھی کر دے تو کیا ضروری ہے باقی یورپی ممالک بھی ایسا کریں ایسی صورت میں امریکہ تنہا رہ جائے گا اور اگر پابندیاں وغیرہ لگانے کا کوئی تازہ منصوبہ بنا رہا ہے تویہ ممالک امریکہ کا ساتھ نہیں دیں گے اِس لئے بہتر یہی ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے جرنیل کی بات کو وزن دیں،جن کی رائے اِس لحاظ سے بھی وزنی ہے کہ وہ مسلح افواج کی قیادت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہیں اور ٹرمپ کی طرح جذباتی باتیں نہیں کرتے۔صدر ٹرمپ کا مزاج ایسا ہے کہ وہ بات پہلے کرتے ہیں اور اس پر غور بعد میں کرتے ہیں جیسا کہ کئی دیگر معاملات میں بھی ثابت ہو چکا ہے ،لیکن ایران کے ساتھ نیو کلیئر معاہدہ ایک ایسا معاہدہ ہے جو دُنیا کے دوسرے خطوں میں بھی ایسے ہی معاہدوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے اور نیو کلیئر عدم پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے،لیکن اگر پہلا ہی تاریخی معاہدہ ناکامی سے دوچار ہو گیا تو آئندہ اس معاملے میں کوئی بہتر پیشرفت نہیں ہو سکے گی اِس لئے جوزف ڈنفورڈ نے نے بہت بروقت اپنی حکومت کو خبردار کر دیا ہے امید ہے یہ بات سُنی جائے گی۔

مزید :

اداریہ -