سیاحت کا فروغ۔۔۔ مگر کیسے؟

سیاحت کا فروغ۔۔۔ مگر کیسے؟

  

سیاحت کے عالمی دن کے موقع پر صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر رانا مشہور احمد نے کہا ہے کہ ٹورازم کا شعبہ باقاعدہ انڈسٹری کی شکل اختیار کر گیا ہے اور کئی ممالک کی معیشت کا دارو مدار سیاحت پر ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔سیاحت کی اہمیت کے حوالے سے صوبائی وزیر کی باتیں درست ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ وطنِ عزیز میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے موثر اور ضروری اقدامات پر پوری توجہ نہیں دی گئی۔اگر صرف پنجاب میں سیاحت کی بات ہو تو ہڑپہ، ٹیکسلا، مہر گڑھ، لاہور، ملتان اور دیگر مقامات سیاحت کی دولت سے مالا مال ہیں،جبکہ دیگر صوبوں خصوصاً خیبرپختونخوا،گلگت بلتستان میں سیاحت کے بے شمار مواقع ہیں،لیکن سیاحت کو فروغ دینے کے معاملے میں حکومتی کوششیں ہر دور میں خانہ پُری ثابت ہوئی ہیں۔سیاحت کو فروغ دینے کے محکموں میں سفارش اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے بھرتی تو بہت ہوتی رہی ،افسروں کی تنخواہوں اور مراعات بھی شاہانہ،لیکن سیاحت کو فروغ نہیں دیا جا سکا۔بنیادی وجہ یہی ہے کہ حکمرانوں کو ایسے کاموں پر توجہ دینے کی فرصت نہیں اور محکمہ میں جو ذمے داران ہیں، وہ کاغذی کارروائیوں سے اپنی کارکردگی کی فائلوں کا پیٹ بھرتے رہتے ہیں۔ایسا بھی نہیں کہ سیاحت کو فروغ دینے کے لئے کوششیں نہیں کی گئیں۔بھٹو دور میں کوششیں تو ہوئیں،لیکن تسلسل سے کام نہیں ہُوا۔وطنِ عزیز میں جب تک دہشت گردی پوری طرح نہیں پھیلی تھی، تو غیر ملکی سیاحوں کے لئے چاندنی راتوں میں سپیشل سفاری فلائٹ کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا تاہم بہت جلد یہ سفاری فلائٹس بند کر دی گئیں۔ اس میں شک نہیں کہ دہشت گردی کی وجہ سے سیاحت کو نقصان پہنچا۔کبھی سیاحوں کو اغوا کیا جاتا رہا تو کبھی ان پر فائرنگ کر کے دہشت گرد اپنا مقصد حاصل کرتے رہے۔ الحمد للہ کہ ہماری مسلح افواج نے مقامی سیکورٹی فورسز کے تعاون سے دہشت گردی کے خاتمے میں اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ آپریشن ردّالفساد جاری ہے، جس کے ذریعے مختلف مقامات پر چھپے ہوئے دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کا بھی صفایا ہو رہا ہے، ہمارا دشمن بھارت افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے گاہے بگاہے دہشت گردوں کو بھجواتا رہتا ہے۔تاہم صورتِ حال اتنی تو بہتر ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لئے کوششیں ممکن ہیں اللہ نے ہمیں بہترین اور اعلیٰ سیاحتی مقامات سے نوازا ہے۔کیا ہی اچھا ہو کہ سیاحت کو وطنِ عزیز کی خوشحالی قرار دیتے ہوئے اس شعبے پر بھرپور توجہ دی جائے،پاکستان کے مثبت امیج سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور ذمے داران کو کارکردگی دکھانے کے لئے تیار کیا جائے۔ٹورازم ڈیپارٹمنٹ میں وہی لوگ تنخواہیں اور مراعات حاصل کریں جو سیاحت کو خوشحالی کا ضامن بنانے کے لئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور اِس شعبے سے وابستہ امیدوں کو پورا کرنے کے لئے جدوجہد کریں۔

مزید :

اداریہ -