چودھری نثار ،کوئی بڑاسوالیہ نشان نہیں ہیں؟

چودھری نثار ،کوئی بڑاسوالیہ نشان نہیں ہیں؟
 چودھری نثار ،کوئی بڑاسوالیہ نشان نہیں ہیں؟

  

’’عمر گزری اسی دشت کی سیاحی میں‘‘ کے مطابق پیشۂ صحافت میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہو چکا، اس دوران گزشتہ چند برسوں کے سوا باقی سارے برس رپورٹنگ کرتے گزارے۔ یوں مجموعی طور پر یہی تجربہ اب بھی کام آتا ہے اور خبر سونگھنے کی حس موجود ہے۔ آج کے حالات دیکھیں تو احساس ہوتا ہے کہ مُلک کی سیاست میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں ہوئی، ماسوا اِس امر کے کہ اب بجٹ کھربوں کے بنتے ہیں اور کرپشن اربوں میں ہوتی ہے، ایک دور تھا کہ ہزاروں کی خوردبرد بہت بڑی خبر ہوتی تھی۔

انسداد رشوت ستانی والے پولیس کانسٹیبل کو رنگے ہاتھوں رشوت پکڑ لیتے تو اس کے قبضے سے20 سے 50روپے تک کی’’بھاری بھر کم‘‘ رقم برآمد ہوتی تھی۔ ہزار سے زیادہ برآمدگی چونکا دینے والی ہوتی۔اب تو بلوچستان کے بیورو کریٹ پکڑے جائیں تو بات اربوں سے بھی آگے نکل جاتی ہے۔

ہمارے دور رپورٹنگ میں اشاعتی اداروں کی تعداد کم ہوتی تھی، دورِ جدید جیسی سہولتیں بھی نہیں تھیں، حتیٰ کہ موبائل فون بھی نہیں تھا، اس کے باوجود مقابلہ سخت ہوتا، تب خبر کی تلاش میں سائیکل یا سکوٹر دوڑاتے دوڑاتے تنگ آ جاتے تھے، پھر دورِ جدید میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور اب تو الیکٹرونک میڈیا نے بھی اودھم مچا رکھا ہے،لیکن دُکھ اِس بات کا ہے کہ صحافت میں ترقی نہیں تنزل ہے اور آج صورتِ حال یہ ہے کہ خبر کی تصدیق کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور افواہ تک خبر بن جاتی ہے،پھر الیکٹرونک میڈیا کے حوالے سے ’’پہلے ٹِکر‘‘ نے پریشان کر رکھا ہے۔

اکثر اوقات تو کسی حادثے کی خبر کے حوالے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے، حتیٰ کہ کئی بار مسافروں سے بھی زیادہ اللہ کو پیارے ہونے والے ہو جاتے ہیں۔ اسی دورِ صحافت میں ایک نیا مسئلہ پیدا ہوا کہ صحافی خانوں میں بٹ گئے ہم کسی ‘‘لفافہ جرنلزم‘‘ کی بات نہیں کرتے اور نہ ہی کوئی الزام دھرتے ہیں،لیکن یہ مشاہدہ ضرور ہے کہ اچھے بھلے تجربہ کار صحافی بھی نظریاتی وابستگی سے بھی زیادہ بڑھ کر وفادار ہو گئے ہیں۔ یہ درست کہ ہر انسان کے اپنے نظریات ہوتے ہیں اور اسے یہ حق بھی حاصل ہے، لیکن پیشہ صحافت تقاضہ کرتا ہے کہ آپ خبر میں قطعی غیر جانبدار اور رائے میں آزاد ہوں اور دیانتداری سے اپنا نقطہ نظر،خیال یا تجزیہ پیش کریں اور حقائق کی بنیاد پر تبصرہ کریں یا اپنی رائے دیں،لیکن یہاں تو یہ بھی پابندی نہیں ہوتی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ اچھے بھلے حضرات غچہ کھا جاتے ہیں جیسے مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے حوالے سے ہوا ہے، چودھری کا ریکارڈ ہے کہ وہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے ناراض ہوتے اور مان جایا کرتے تھے، اس بارے میں وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا تبصرہ خوب ہے کہ محمد نواز شریف اور چودھری نثار کا تعلق عاشق و معشوق جیسا ہے اور ایسا ہی ہوا کہ صرف ایک ہی ملاقات میں معاملہ صاف بلکہ طے ہو گیا اور چوھری نثار کہتے ہیں کہ کوئی گلہ شکوہ نہیں ہوا، اور پھر یہی محترم حالیہ پریس کانفرنس میں سابق وزیراعظم کے دائیں طرف تیسری کرسی پر براجمان تھے کہ راجہ ظفر الحق کے بعد ان کو اہمیت دی گئی۔

چودھری نثار علی خان کا انداز سیاست ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ ’’حملہ آور‘‘ ہوتے ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ پہل کرتے ہیں تو کچھ غلط نہیں،اس بار بھی انہوں نے وزیر داخلہ ہوتے ہوئے اس وقت کابینہ میں اختلاف کیا جب محمد نواز شریف وزیراعظم کی حیثیت سے صدارت کر رہے تھے اور پھر حال ہی میں صاحبزادی مریم نواز کے بارے میں سیاسی تجربے کی بات کر دی ، جن کے بارے میں ’’سیاسی جانشین‘‘ کے طور پر راہ ہموار کی جا رہی اور لکھنے، بولنے والے تعریفوں کے پُل باندھ رہے تھے اور یہی وہ موقع ہے جب ہمارے بھائی لوگوں نے اپنے اپنے قلم تلوار اور خنجر بنا لئے اور پھر وہ کیا کہ اللہ دے اور بندہ لے، لیکن جب اچانک صورتِ حال میں ڈرامائی تبدیلی آئی تو سب کو چُب لگ گئی، اب ہر کوئی اپنے اپنے طور پر وضاحتوں کی کوشش میں ہے، حالانکہ کمان سے نکلے تیر اور قلم سے نکلے لفظ کو کوئی واپس نہیں لا سکتا۔ہمارے خیال میں تو اس کی ضرورت بھی نہیں کہ آپ نے جو درست سمجھا وہ عمل کر ڈالا،اگرچہ اب یہ سب جلد بازی محسوس ہوتی ہے کہ بہرحال نشتر چلاتے وقت چودھری نثار کے ماضی کو دیکھنا ضروری تھا، اس طرح شاید اتنی شدت پیدا نہ ہوتی جس سے یہ احساس ہونے لگا کہ یا تو چودھری نثار خود جماعت چھوڑ جائیں گے اور یا پھر ان کو فارغ کر دیا جائے گا،حالانکہ تاریخ شاہد تھی کہ یہ سب نہیں ہو گا نہ تو چودھری خود مسلم لیگ(ن) سے علیحدہ ہونا برداشت کر سکتے ہیں اور نہ ہی سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی سیاسی حکمت عملی میں ان کو الگ کرنا شامل ہے۔یوں عاشق معشوق والا سلسلہ قائم تھا اور یہ جاری رہنا تھا اس سلسلے میں احتیاط کی ضرورت تھی۔

ہم خود اپنا تجربہ بتاتے ہیں کہ 2008ء کے عام انتخابات کے بعد حالات نے واضح اکثریت نہ ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دے دیا، اس وقت وزیراعظم کے عہدے کی ریس لگی، مخدوم امین فہیم سمیت کئی امیدوار میدان میں تھے،ہم رپورٹر حضرات روز ہی وزیراعظم تلاش کرتے۔

اس سلسلے میں پلڑا مخدوم امین فہیم کی طرف جھکتا تھا، ہم پھر بھی محتاط تھے، خبر تلاش کرتے تو اگر مگر کر کے بیان کرتے،کیونکہ مخدوم امین فہیم کے مزاج سے واقف تھے۔ کئی ان کے پارٹی چھوڑنے یا پیپلزپارٹی(پارلیمنٹیرین) کے صدر کی حیثیت سے اختیارات استعمال کرنے کی بات کرتے تھے،لیکن ہمارا ذہن اور دِل نہیں مانتا تھا کہ مخدوم تو محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے محترمہ اور محمد نواز شریف کو الیکشن سے باہر رکھنے والی ترمیم کے بعد سے صدر چلے آ رہے تھے اور ٹکٹ بھی ان کے دستخطوں سے جاری ہوتے،لیکن تقسیم محترمہ کرتی تھیں،حتیٰ کہ مخدوم امین فہیم کو اپنی خاندانی ٹکٹوں کے حوالے سے شکایت ہو جاتی تھی اور وہ برداشت کرتے تھے، چنانچہ اسی تجربے کی بناء پر ہم اپنی خبروں میں ان کو وزیراعظم کے عہدے کی دوڑ میں تو شامل رکھتے تھے،لیکن ان کی ناراضی کو قطع تعلق تک نہیں لے جاتے تھے اور پھر وہی ہوا کہ مخدوم یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بن گئے تو مخدوم امین فہیم نے کابینہ میں وزیر بننا قبول کر لیا۔ اس سلسلے میں جب ہم نے مخدوم امین فہیم سے ذاتی سطح پر بات کی تو انہوں نے واضح طور پر کہا پیپلزپارٹی تو دراصل ہالا (سندھ) میں ان کے گھر پر ان کے والد کی وساطت سے بنی۔

اگرچہ تاسیس لاہور میں ہوئی، اس لئے وہ پارٹی تو چھوڑ نہیں سکتے۔البتہ اپنے حق کے لئے آواز ضرور بلند کی تاہم پہلے ہی سے خیال تھا کہ قرعہ میرے نام نہیں نکلے گا کہ عہدۂ صدارت (ملکی) زرداری صاحب کے پاس گیا، چنانچہ وزیراعظم دوسرے صوبے ہی سے لیا جانا تھا۔

ہم نے انہی دِنوں اپنی خبروں میں تجزیاتی طور پر لکھا تھا کہ مخدوم امین فہیم کو وزارتِ عظمیٰ وارا نہیں کھاتی کہ مخدوم سائیں رات کو اپنی مرضی سے سوتے اور صبح کو جاگتے بھی اپنی ہی مرضی سے ہیں اِس لئے ان کو وزارتِ عظمیٰ کی بجائے ایسی وزارت منظور ہو گی جو ان کے معمول کو زیادہ متاثر نہ کرے اور پھر ایسا ہی ہوا، کابینہ بن گئی، مخدوم وزیر بھی بن گئے اور اپنے معمولات میں مگن ہو گئے سو ضروری ہے کہ شخصیات کی عادات اور مفادات کے حوالے سے بھی غور کیا جائے اور انہی امور کی روشنی میں خبر بھی بنائی جائے تو شاید زیادہ پریشانی نہ ہو، اللہ سب کی مدد فرمائے۔

مزید :

کالم -