پنجاب، پنجاب اے

پنجاب، پنجاب اے
 پنجاب، پنجاب اے

  

وادئ چترال کی طرف سفر کرتے ہوئے ضلع دیربالا میں لواری ٹاپ ٹنل سے پہلے سڑک کے بائیں طرف ’’ریورٹچ‘‘ کے نام سے ایک خوبصورت ریستوران ہے جہاں پاکستان کے تقریباً تمام دیسی کھانے دستیاب ہیں۔

اتنے دور دراز مقام پر لذیذ کھانے حیرت زدہ کر دیتے ہیں، مگر پہاڑی نالے کے اوپر بنائے جانے والے اس ریستوران کی سب سے اہم بات لینڈ سکیپ ہے۔ اس ریستوران کو ایک تفریحی سپاٹ کی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے۔

لذیذ کھانے کھاتے ہوئے آپ قدرت کے حسن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کوٹائلٹ جانے کی ضرورت محسوس ہو تو خاصی بدمزگی محسوس ہوتی ہے۔ اس ریستوران کے مالک سے جب ہم نے یہ کہا کہ آپ نے ایک جنت نظیر سپاٹ بنایا ہے، مگر جنت کے تذکروں میں چونکہ ٹائیلٹ کا تذکرہ نہیں ملتا اس لئے ٹائیلٹ بنانے پر بھی زیادہ توجہ نہیں دی ۔ترکی میں خاصا وقت گزارنے والے ہمارے ایک دوست کا خیال ہے کہ پاکستان کی سیاحت کی ترقی میں گندے ٹائلٹ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اکثر سیاح دہشت گردوں سے اتنے خوفزدہ نہیں ہوتے جتنے وہ گندے ٹائلٹ کے استعمال سے ڈرتے ہیں۔

ٹائلٹ صاف ستھرے بھی ہوں تو انہیں گندے کرنے والے کم نہیں ہوتے۔ مغرب میں ٹائلٹ کا استعمال سکھانا بچے کی تربیت کا بنیادی حصہ ہوتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں ایسی تربیت کو بچے کے بنیادی حقوق میں ’’مداخلت‘‘ تصور کیا جاتا ہے ۔ ہمارے دوست کا کہنا ہے کہ ترکی میں باتھ روم کی صفائی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ سیاح جب طویل سفر کر کے کسی ہوٹل میں ٹھہرتا ہے تو اس کے قیام کو ہر طرح سے پرلطف اور یادگار بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستانی ہوٹل مالکان کو سیاح کی جیب میں روپے یا ڈالر تو نظر آ جاتے ہیں، مگر کمروں کی گندگی، چارپائیوں کے کھٹمل اور باتھ روم کی بدبو کا احساس تک نہیں ہوتا۔

گزشتہ دِنوں پنجاب کے سیاحتی ادارے ٹی ڈی سی پی کے زیر اہتمام چلنے والے دو ریزارٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا تو قدرے حیرت ہوئی۔ چھانگا مانگا اور کلر کہار کے ٹی ڈی سی پی کے ریزارٹ پر صفائی کا معیار خاصا بہتر تھا۔ باتھ روم صاف ستھرے تھے۔ عملے کے افراد کا رویہ بھی خاصا دوستانہ تھا اور یہاں بھرپور آکسیجن میں فطرت کے دلفریب نظاروں کے درمیان کھانے سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔

خاموشی، سکون اور قدرتی حسن کے درمیان کھانے کا ذائقہ دوبالا ہو جاتا ہے۔پاکستان بہت خوبصورت ملک ہے۔ قدرت نے اسے ہر طرح کے حسن سے نوازا ہے۔ بحیرہ عرب کے خوبصورت ساحل سمندر سے لے کر چولستان کے صحراؤں تک حیرت انگیز قدرتی نظاروں سے ملاقات ہوتی ہے۔ کے ٹو اور نانگا پربت کی چوٹیاں دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے غیرمعمولی کشش رکھتی ہیں۔ ہڑپہ اور موئن جو داڑو میں قدیم ترین انسانی تہذیب کے آثار موجود ہیں۔ ٹیکسلا گندھارا تہذیب کا مرکز ہے۔ مغلوں نے متعدد جگہوں پر اپنی یادگاریں تعمیر کی ہیں۔ پاکستان میں 36 ایسے مقامات ہیں جنہیں عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل ہے، مگر پاکستان میں سیاحت کی صورتحال کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔

سیاحت دنیا کی پانچویں بڑی صنعت ہے، مگر ہمارے ہاں ابھی اس کی اہمیت کو بھی پوری طرح محسوس نہیں کیا گیاہے۔ دنیا بھر سے ہر سال بے شمار سیاح پاکستان آتے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ وطن عزیز کو قدرت نے کتنی خوبصورت نعمتوں سے نوازا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک فرانسیسی خاتون پاکستان آئی اور قدرتی حسن اور لوگوں کے حسن اخلاق سے بہت زیادہ متاثر ہوئی۔ وہ اسے دُنیا کے 6ایسے عظیم ملکوں میں شامل کرتی ہے جن کی سیر کئے بغیر کوئی انسان اپنا مقصد زندگی پورا نہیں کر سکتا۔ مگر اس خاتون کو میڈیا نے بتایا تھاکہ پاکستان ایک خطرناک ملک ہے، جہاں ہر وقت جان ہتھیلی پر رکھ کر گھومنا پڑتاہے۔

فرانس میں سرکاری طور پر سیاحوں کے لئے جو ٹریول ایڈوائزری جاری کی گئی تھی اس میں بھی اسے اس خطرناک سفر سے منع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ پاکستانی سفارت خانے نے بھی اسے پاکستان آنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی ۔ اسے چار ماہ تک ویزہ نہیں دیا گیا تھا، مگر جب وہ پاکستان آئی تو یہاں کے قدرتی نظاروں اور لوگوں کے خلوص کی محبت میں گرفتار ہو گئی۔

دُنیا کے ٹوٹل جی ڈی پی کا 10.2 حصہ سیاحت سے آتا ہے اور یہ تقریبا 7.6 ٹریلین ڈالر ہے۔ پاکستان میں سیاحت سے وابستہ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ دہشت گردی کی وجہ سے لوگ یہاں نہیں آتے۔ مگر ماہرین بتاتے ہیں کہ 2000ء سے پہلے بھی یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد قابل رشک نہیں تھی۔ پاکستان میں سیاحت کو تباہ کرنے میں دہشت گردی نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو دہشت گردی کے خطرات کے تذکروں نے کیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ویزا کی پابندیوں کے حوالے سے پاکستان 136 ممالک میں 135 نمبر پر ہے، یعنی دُنیا میں صرف ایک ہی ملک ایسا ہے جہاں ویزا کی پابندیاں پاکستان سے بھی زیادہ ہیں۔ پاکستان کے ویزا کے لئے آپ کو یہاں کے کسی شہری، ٹریول ایجنٹ یا رہائشی کے دعوت نامے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد سفارت خانے پوری کوشش کرتے ہیں کہ کسی کو ویزا نہ دیں تاکہ غیر ملکی ان خطرات سے محفوظ رہیں جن کا مغربی میڈیاپراپیگنڈا کرتا رہتا ہے۔

پاکستان کی ویزا پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یورپ اور امریکہ سے سفر کرتا ہوا کوئی شخص اگر دبئی آ جائے اور اس کے دل میں نانگا پربت، کے ٹو یا موئن جو داڑو دیکھنے کی خواہش پیدا ہو جائے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ آپ کو ویزا لینے کے لئے اپنے ملک جانا پڑے گا۔ یوں بے شمار سیاح پاکستان آنے کا ارادہ ترک کر دیتے ہیں اور ایشیا کے ایسے ممالک کا رخ کرتے ہیں جہاں ویزا کی اتنی سخت پابندیاں نہیں ہیں۔پاکستان میں سکھوں، ہندوؤں اور بدھوں کے متبرک مقامات بھی ہیں۔ یہاں مذہبی سیاحت کی بڑی گنجائش ہے مگر اس سلسلے میں بھی قومی سطح پر کوئی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔ ہمارے ہاں بہت سے ادارے دہشت گردی کے بہانے کو کچھ نہ کرنے کے لئے خوب استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان میں سیاحت سے 2015ء میں 328 ملین روپے حاصل ہوئے تھے جو ٹوٹل جی ڈی پی کا 2.8 فیصد ہیں۔ سرکاری پہلوان نعرے بلند کر رہے ہیں کہ 2025ء تک پاکستان سیاحت سے ایک کھرب روپے کما رہا ہو گا۔ مگر ہم سیاحت کے شعبے کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں، اس سے شبہ ہوتا ہے کہ ہم نے صرف نعرے بنانے اور بلند کرنے کے ہنر میں مہارت حاصل کی ہے۔ سیاحت کو ایسے مقامات پر پہنچانے کیلئے جن وسائل کی ضرورت ہے وہ مختص ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں۔

دہشت گردی، ویزا کی پابندیوں اور دیگر مشکلات کے باوجود پاکستان میں سیاحت ترقی کر رہی ہے۔ اس میں گزشتہ سال کی نسبت ایک فیصد بہتری کی خبر دی جا رہی ہے۔ دُنیا بھر میں پاکستان کی خوبصورتی اور تاریخی اہمیت کی خبریں پھیل رہی ہیں۔ پنجاب میں ٹی ڈی سی پی اپنی زندگی کا ثبوت دے رہا ہے۔ اس کے ڈائریکٹر آپریشنز اسجد غنی طاہر دیرینہ رفیق ہیں۔ وہ پنجاب پروٹوکول کے سربراہ رہے ہیں۔

ہم نے ان جیسی جانفشانی، ذمہ داری اور تندہی کے ساتھ فرائض ادا کرتے ہوئے کم ہی لوگوں کو دیکھاہے۔ غیرمعمولی دباؤمیں بھی مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ چیلنجوں کا سامنا کرنا اسجد غنی طاہر کی شخصیت کا حصہ ہے۔ ان سے پنجاب میں سیاحت کے حوالے سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ہم پنجاب میں سیاحت کے کلچرکو بہتر بنا رہے ہیں۔ نئے ریزارٹ تعمیر کئے جا رہے ہیں۔سیاحوں کے لئے دلچسپیاں پیدا کی جا رہی ہے۔

اسجد غنی صاحب ایم ڈی ٹورازم احمر ملک سے خاصے متاثر دکھائی دے رہے تھے۔ وہ انہیں ایک ایسا صاحب بصیرت لیڈر قرار دے رہے تھے جن سے اچھی توقعات وابستہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ٹورسٹ بس کا اجراء، پتریاٹہ چیئر لفٹ کی اپ گریڈیشن اور متعدد ترقیاتی منصوبے ملک صاحب کی شبانہ روز محنت اور لگن کی خبر دے رہے ہیں۔ ہم نے ان کے اس یقین پر بھی یقین کر لیا کہ پنجاب میں سیاحت خوب ترقی کرے گی اور کراچی کی جو کڑی ’’میں پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘ پر اصرار کر رہی ہے، پنجاب کے نئے حسن کی خبر اسے بھی پنجاب آنے کی ضد کرنے پر مجبور کر دے گی۔۔۔ریسرچ سے ثابت ہو چکا ہے کہ ہر 30 نئے سیاح اپنے ساتھ ملازمت کی ایک نئی اسامی کی گنجائش لے کر آتے ہیں۔

سیاحت کے شعبہ میں قومی ترقی کے نئے امکانات موجود ہیں۔ ہمیں منیلا ڈیکلریشن آف ورلڈ ٹورازم کے الفاظ یاد آ رہے ہیں جس میں بتایا گیا تھا کہ قوموں کی زندگی میں سیاحت کو ایک لازمی ایکٹویٹی کی حیثیت حاصل ہے۔ کلچر، تعلیم، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات پر اس کے براہِ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہمیں امید کرنی چاہئے کہ ہم سیاحت کے شعبے کو عالمی تقاضوں کے مطابق اتنی ترقی دینے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ سیاح ’’لہور لہور اے‘‘ کے بعد ’’پنجاب پنجاب اے‘‘ کے نعرے بلند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

مزید :

کالم -