مہران آرٹس کونسل میں پیش کیا جانیوالاسٹیج ڈرامہ ’’پاکستان کھپے‘‘

مہران آرٹس کونسل میں پیش کیا جانیوالاسٹیج ڈرامہ ’’پاکستان کھپے‘‘

  

لاہور(فلم رپورٹر) ہدایت کار اکرم نوید نے سنجیدہ موضوع پر مبنی تحریک پاکستان کے موضوع پرمہران آرٹس کونسل میں سٹیج ڈرامہ ’’پاکستان کھپے‘‘ کے نام سے پیش کیا۔ جس کی مہمان خاص پیپلز پارٹی کی خاتون رہنما صنم تالپور تھیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے موقع پر اُس وقت پاکستان نہ کھپے کے نعرے لگائے جارہے تھے تب آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر اس ملک کو ٹوٹنے سے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہر حالت میں صوبائیت کی تفریق سے بچ کر صرف اور صرف پاکستانی بننا ہوگا ۔ اسی جذبے سے ملک کی بقاء اور ترویج ممکن ہے۔ اُنہوں نے ڈرامے کے موضوع کی خصوصی تعریف کرتے ہوئے ہدایت کار اکرم نوید سمیت فنکاروں کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔ اُنہوں نے یکجہتی کے موضوع پر پیش کیے گئے ٹیبلو کی بھی تعریف کی اور اس میں حصہ لینے والے فنکاروں ثمرین فلسطینی، خالد عمران، یونس عباس، شاد خان، ناصر بونیری اور مقصود انجم کی فنی صلاحیتوں کو سراہا۔ تھیٹر والے کی جانب سے پیش کیا گیا مرحوم مصنف شاکر کمال کا قبل ازیں متعدد بار پیش کیا گیا۔

کھیل پاکستان کھپے اس بار فنکاروں کی ریہرسل سے عدم دلچسپی اور مکالمے یاد نہ ہونے کی بناء پر وہ تاثر نہ دے سکا جو اس ڈارمے کا خاصا رہا ہے۔ تاہم رفیق عیسانی نے اپنے کردار کو خاصا جم کر اور بھرپور تاثر کے ساتھ پیش کیا۔ انہوں نے ڈائیلاگ ڈلیوری میں بھی توازن کو کمال انداز سے برقرار رکھا ۔ جس سے ان کا کردار پورے اثرات کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا۔ پری مغل نے اپنے کردار کی ادائیگی ڈھنگ کے ساتھ کی جس کی بناء پر ان کی فنی صلاحتیں متاثر کرتی نظر آئیں۔ عقیل قریشی نے نواب خان بہادر کے طمطراق والے کردار کو بھونڈے انداز میں ادا کیا۔ وہ جہاں نوابوں والی نشست و برخاست ، چال ڈھال اور لب و لہجہ بنانے میں ناکام رہے وہاں ملبوسات کے معاملے میں بھی بری طرح مات کھاگئے۔ ناصربلوچ نے اداکاری کا معیار اپنے طور پر بلند آہنگ قہقہوں کو قرار دے رکھا ہے۔ ان کے قہقہوں کی تکرار دیکھنے والوں کو خاصی کھٹک رہی تھی۔ باقی فنکاروں میں اعجاز خان، ناصر بونیری، وسیم راجپوت اور سلمان ربانی نے اپنے اپنے کردار بہتر طور پر نبھائے۔ اسٹیج ڈراموں کے حوالے سے نام اور مقام رکھنے والی فنکارہ سحر پروین اس کھیل میں اپنی سابقہ اداکاری کا معیار کسی بھی طور برقرار نہ رکھ سکیں۔ انہیں کم از کم یہ تو سمجھ لینا چاہئے تھا کہ غیر منقسم ہندوستان کے مسلم گھرانوں میں لڑکیاں کیسا لباس زیب تن کرتی تھیں؟ پختہ کار جہان دیدہ اور سینئر فنکار خالد عمران نے کردار کو اس کی جزیات کے ساتھ نبھانے کی کوشش کی مگر یہ کوشش بارآور ثابت نہ ہوسکی۔ ندیم الدین کی گونج دار آواز میں کی جانے والی پراؤنڈ کی دھمک نے ہال میں بیٹھے شائقین کو خاصا الجھن میں مبتلا کیا۔ اُن کی آواز کی بدولت اُن فنکاروں کے کردار بھی متاثر ہورہے تھے جنہیں تھوڑا بہت ڈرامہ یاد تھا۔ المیہ یہ کہ ڈرامے کے وہ مناظر بھی ٹریجڈی کے بجائے کامیڈی میں تبدیل ہوگئے جس میں پے در پے خنجروں کے بعد جسم پر لگنے کے بعد بھی خون قطر ے کی صورت بھی جسم پر دکھائی نہیں دیا۔ بہر حال ہدایت کار اکرم نوید کی جانب سے ایک خوبصورت بامقصد موضوع پر لکھا گیا ڈرامہ فنکاروں کی عدم دلچسپی اور غیر معیاری اداکاری کے سبب اپنا بھرپور تاثر نہ دے سکا۔

مزید :

کلچر -