محرم الحرام باہمی رواداری اور اخوت و محبت کا مہینہ

محرم الحرام باہمی رواداری اور اخوت و محبت کا مہینہ

  

محرم الحرام ایثار، قربانی، اتحاد امت، باہمی رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا درس دیتا ہے۔ مدینہ طیبہ سے میدان کربلا تک اسلام کے لیئے عظیم قربانیوں کی تاریخ اسی ماہ مبارک سے وابستہ ہے اور اس ماہ مبارک نے ان قربانیوں کی عظمت و فضیلت کو چار چاند لگادیئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ماہ محرم کو اُس دن سے عزت و احترام اور حرمت و فضیلت کا مہینہ قرار دیا ہے جب سے قرآن مجید کے الفاظ میں ’’جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا) اور سال کے بارہ مہینوں میں سے جن چار کو محترم قرار دیااُن میں محرم سرفہرست ہے۔ قبل ازاسلام زمانہ جاہلیت میں بھی ان مہینوں کا احترام کیا جاتا تھا۔ اسلام نے قرآن مجید کی تصدیق اور شہادت سے اس ازلی حرمت کو ابدی حرمت بنادیا ہے۔ اسلامی تقویم کا پہلا اور رسول اللہ ﷺ کی ہجرت مدینہ کے لیئے فیصلوں اور تیاریوں کے لیئے اہم مہینہ ہونے کی وجہ سے محرم الحرام ممتاز ہے اور پھر جس طرح قبل از اسلام تاریخ کے ایسے عظیم واقعات اس ماہ مبارک میں پیش آئے جنہوں نے انسانیت کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اسی طرح دورنبوت و رسالت اور اسلام کے صدر اوّل میں ایسے واقعات پیش آئے کہ امت مسلمہ انہیں فراموش نہیں کرسکتی ۔ خاص طور پر یکم محرم الحرام کوخلیفہ دوم مراد رسولﷺ سیدنا حضرت عمر فاروقؓ اور دس محرم الحرام کو نواسۂ رسول سیدنا حضرت حسینؓ کی اپنے قافلہ اور خاندان نبوت کے افراد کے ساتھ شہادت کے واقعات نہ صرف مسلمان بلکہ انسانیت اور تاریخ انسانیت ان سے متأثرہ ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ ان اہم واقعات کی وجہ سے امت نے اسلام کی سربلندی کی لیئے جدوجہد کے سفر کو مدینہ و کربلا سے وابستہ کر لیا ہے کہ خون شہادت سے اسلامی تاریخ سرخ رو ہے اور مسلمان کا ایمانی جذبہ اپنے اندر مسلسل حرارت محسوس کرتا ہے۔

ایک طرف اسلام کی ایک بنیاد عدل اجتماعی ہے اور اس کے لیئے حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ کا اسوۂ قابل اتباع ہے تو دوسری طرف ایک بنیاد اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا ہے اور اس کے لیئے خاندان نبوت اور سیدناحضرت حسینؓ کا صبر و رضا۔ اعلائے کلمۃ اللہ، جرأت و استقامت اور جس مؤقف کو حق سمجھتے تھے اس کے لیئے ہر مخالف کے ساتھ ٹکرا جانا ایک ایسا کردار ہے جس نے تاریخ کو ، کربلا کو، امتِ مسلمہ کو اور ایمانی جذبوں کو زندہ و جاوید کر دیا ہے۔

ان قربانیوں کا سب سے بڑا سبق ہے ذاتی جذبات و خواہشات اور مفادات کی قربانی دینا کسی عظیم مقصد کے لیئے۔ آج کے حالات میں جب اسلامی جمہوریہ پاکستان بیرونی دباؤ کا شکار ہے اور چاروں طرف سے پاکستان کو دشمن طاقتوں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ ان حالات میں داخلی طور پر رواداری اور پر امن بقائے باہمی کے اصول پر عمل کیا جائے اور داخلی انتشار کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے۔ یہ وقت کی ضرورت، محرم الحرام کا پیغام ہے اور امت کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی سب سے بڑی تدبیر ہے۔ اور اس سلسلہ میں علماء کرام کے ساتھ ساتھ قومی اداروں کی بھی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -