روس کی شام میں اپنے جنرل کی ہلاکت کی تصدیق

روس کی شام میں اپنے جنرل کی ہلاکت کی تصدیق

  

ماسکو( آن لائن )روسی فوج کے سربراہ نے حا ل ہی میں داعش کی گولہ باری سے ہلاک ہونے والے اپنے جنرل کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے آرمی چیف جنرل فالیری جیراسیموف نے کہا کہ مقتول جنرل شام میں روسی فوج کا کمانڈر تھا۔ اس کے علاوہ شام کے پانچویں رضاکار بریگیڈ کو بھی کمان کرچکا ہے۔واضح رہے کہ شامی فوج کے ماتحت پانچواں رضاکار بریگیڈ 2016ء4 میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کی تشکیل میں روسی عسکری ماہرین کا کلیدی کردار ہے۔ رضاکار فورس کو روس کی طرف سے اسلحہ ، جنگی ہتھیار اور عسکری تربیت مہیا کی گئی تھی۔

روسی فوج کا لیفٹننٹ جنرل 51 سالہ فالیری اسابوف گذشتہ ہفتے کو دیر الزور شہر میں داعش تنظیم کی گولہ باری کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا تھا۔

، یہ فیصلہ شناواترا کی عدم موجودگی میں سنایا گیا۔سابق وزیر اعظم نے اپنے اوپر الزام کے بعد اس تناظر میں کوئی عوامی تبصرہ یا اظہار خیال نہیں کیا تھا۔ ینگ لْک اور شناوترا خاندان کو تھائی لینڈ میں بے پناہ عوامی مقبولیت حاصل ہے۔ ان کی حمایت میں بھاری اکثریت میں عوام اس فیصلے سے ناخوش اور سراپا احتجاج ہیں۔ یِنگ لْک اپنے ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔ واضح رہے ینگ لک شناوترا پر مقدمہ سن 2014 میں ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد قائم ہونے والی فوجی حکومت نے قائم کیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق کسانوں کو چاول کی قیمتوں پر دی جانے والی رعایت کے معاملے پرخاتون وزیراعظم کی غفلت نے ملکی خزانے کو قریب آٹھ بلین ڈالر کا نقصان پہنچایا تھا۔ یِنگ لْک شناوترا اپنے اوپر عائد الزامات کی صحت سے انکار کر تی رہی تھیں۔

مزید :

عالمی منظر -