جماعت اسلامی کو زمین پر آنا پڑے گا

جماعت اسلامی کو زمین پر آنا پڑے گا

  

جماعت اسلامی لاہور کے امیدوار ضیاء الدین انصاری کی قومی اسمبلی حلقہ 120 سے ضمانت ضبط ہونے اور صرف 592 ووٹ پڑنے پر اپنے پرائے سب نوحہ کناں ہیں۔ محبت کرنے والے سر پکڑے بیٹھے ہیں، مخالف بغلیں بجا رہے ہیں، حالانکہ وہاں صرف جماعت اسلامی کے امیدوار کی ضمانت ضبط نہیں ہوئی، ان کے علاوہ 41 امیدواروں کا بھی یہی حال ہوا ہے۔ جماعت اسلامی سے لگاؤ، محبت یا بغض کا نتیجہ ہے۔ کالم نگار، تجزیہ نگار، اینکرز حضرات کا اس وقت تک کھانا ہضم نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے کالموں اور تجزیوں میں جماعت اسلامی کو سوئی نہ چبھو دیں۔ ہمارے دل بھی سید مودودی کی فکری و نظریاتی دعوت کے ساتھ دھڑکتے ہیں، اس لئے 10 سے زائد جماعت اسلامی کے نقاد اور تقریباً 5 جماعت اسلامی کے ہمدرد اور میرے جیسے بہت سے نالائق اور غیر فعال کارکنان کے فیس بک اور واٹس ایپ پر جاری دلائل سے عاری مباحثوں کے ذریعے جماعت اسلامی کی قیادت ٹیم دعوتی عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے آپ کو سید مودودی کا سچا سپاہی سمجھ کر جدوجہد میں مصروف ہیں۔ اپنوں اور غیروں میں جو بحث جاری ہے، اس میں کہا جا رہا ہے، جماعت اسلامی اپنی معیاد مکمل کرچکی ہے، کچھ کا کہنا ہے جماعت اسلامی کی تنظیم میں تیس تیس سال سے ذمہ داریاں ادا کرنے والے اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں، کچھ جماعت اسلامی کی مرکزی، صوبائی، ضلعی امراء کے شاہانہ ٹھاٹھ بھاٹھ اور بیوروکریٹس سٹائل سے ناخوش ہیں، بعض کو جماعت اسلامی کے سیاسی ہونے کا گلہ ہے کچھ کو کے پی کے میں جماعت اسلامی کا پی ٹی آئی سے اتحاد گراں گزر رہا ہے۔ کچھ پنجاب میں (ن) لیگ سے اتحاد نہ کرنے کا غم دل سے لگائے بیٹھے ہیں، ایک حلقہ میڈیا سے نالاں ہے کہ اس نے این اے 120 میں ہمارا ساتھ نہیں دیا جس کی وجہ سے جماعت اسلامی کو سبکی اٹھانا پڑی۔ سوشل میڈیا پر جماعت اسلامی کی حمایت اور مخالفت میں جنگ لڑنے والا گروہ گھر بیٹھے جماعت اسلامی کا اس سطح کا خیرخواہ ہے، اگر جماعت اسلامی کی حکومت بن جائے یا جماعت اسلامی شیڈو کابینہ بنا لے یا تھنک ٹینک بنائے، یہ افراد صرف اس کا حصہ ہوں گے۔

بات دوسری طرف نکل گئی، اس وقت شکست وفتح کا ذکر مقصود نہیں ہے، اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت تو ہے کہ سید مودودیؒ کی فکری، نظریاتی، دعوتی تحریک کی درگت بنانے میں کس کا کتنا کردار ہے، پھر جماعتیے یہ کہنے میں بھی حق بجانب ہوں گے، ہم کون ہوتے ہیں جماعت اسلامی کی تنظیم، دعوت اور فکر کی بات کرنے والے؟ کیوں کہ ان کا موقف ہے جماعت اسلامی واحد جمہوری جماعت ہے جس میں تسلسل کے ساتھ الیکشن ہوتے ہیں، جمہوری انداز میں امیر منتخب ہوتا ہے، مرکزی عاملہ مرکزی شوریٰ، صوبائی شوریٰ، ضلعی شوریٰ مقامی شوریٰ تک جمہوری اور مشاورتی عمل موجود ہے، جو طویل نشستوں کے ذریعے باہمی مشاورت سے فیصلے کرتی ہے۔

جماعت اسلامی والے یہ دعویٰ بھی کرسکتے ہیں، ان کا ہر فرد باکردار اور صالح ہے، ان کا ہر فیصلہ تنظیم کرتی ہے، ہم کسی کی تنقید کیوں برداشت کریں، اس سے بڑھ کر ہمارا ہر عمل رضائے الٰہی کا حصول ہے، اس کے باوجود ذاتی رائے سے اظہار کی معذرت کے ساتھ اجازت چاہوں گا، جماعت اسلامی ان تمام خواص کے باوجود جماعت اسلامی عوامی نظر نہیں آتی اور زمین پر بھی نہیں، اصلاح کے لئے اگر جماعت اسلامی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے ایسا لگتا ہے موجودہ حالات 1956ء کے حالات سے مختلف نہیں ہیں، ماچھی گوٹھ کی تاریخ ماچھی گوٹھ کے فیصلے سید مودودی کا تاریخی خطاب ماچھی گوٹھ کی قرار دادیں اگر امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق اس کا جائزہ لے لیں اور اپنی مرکزی ٹیم اور صوبائی ذمہ داران کو کم از کم 10 دن کے لئے کسی ٹھنڈی جگہ پر جمع کرلیں اور جماعتی پالیسی میں پائے جانے والے واضح تضاد کو دور کرلیں اور یکسو ہوکر ایک پالیسی پر اتفاق کرلیں اور پھر جواں جذبوں کے ساتھ میدان میں آئیں تو حالات یکسر مختلف نظر آئیں گے۔ جماعتی ذمہ داران کو پھر نہ معیاد پوری ہونے کے گلے سننا پڑیں گے اور نہ امیر جماعت اسلامی کو کسی فرد کو تنظیم سے علیحدہ کرنا پڑے گا۔ تاریخ کا حوالہ صرف تزکیہ کے لئے دیا ہے ورنہ مجھے ازبر ہے۔

جماعتی ذمہ داران سب اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے دستور پر عمل کرنے والے ہیں۔ ایک دفعہ پھر سوال اٹھتا ہے سب کچھ جانتے بوجھتے پھر ادراک کیوں نہیں اس کی بنیادی وجہ جماعت اسلامی کی قیادت کا ایک پیج پر نہ ہونا ہے اس بات کو جماعت کا کسی سطح کا ذمہ دار نہیں مانے گا، لیکن آنکھیں بند کرنے سے خطرات ٹل نہیں جاتے۔ حقیقت یہی ہے دو عملی کا شکار ہیں جب تک ہر سطح کی قیادت ایک پیج پر نہیں آئے گی کوئی عمل نتیجہ خیز نہیں ہوسکے گا۔ پھر سوال اٹھتا ہے پالیسی میں تضاد کہاں ہے۔ اس سوال کا جواب بھی جماعتی حلقوں میں بالعموم اور عوامی حلقوں میں بالخصوص زیر بحث ہے، کیا ووٹر اور جماعتی کارکنان جماعتی ذمہ داران کے کاروبار، رہن سہن کو نہیں دیکھتے، سپریم کورٹ میں نوازشریف کے خلاف گھن گرج کے ساتھ بیانات، احتجاجی مظاہرے، نعرے اور پھر آزاد کشمیر میں (ن) لیگ سے دو اسمبلی کی نشستوں کا حصول کیسے چھپے گا؟ عمران خان کو یہودی لابی کا ایجنٹ قرار دینا۔ مغربی تہذیب کا علمبردار قرار دینا، پھر کے پی کے کی حکومت میں حصہ دار ہونا، ووٹرز، میڈیا اور کارکنان کو نظر نہیں آتا، کارکن کی یکسوئی کیوں نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قیادت یکسو نہیں ہے۔

ماچھی گوٹھ میں منظور ہونے والی قراردادوں اور سید مودودیؒ کے تاریخی خطاب کی طرف آتے ہیں۔ اس تاریخ موقع پر شاید 4 قراردادیں اور فیصلے ہوئے تھے۔ دعوت کی تنظیم، تربیت، حکومت کی اصلاح اب اگر موجودہ حالات میں جائزہ لیا جائے تو حکومت کی اصلاح کی شق پر عمل ہو رہا ہے۔ بظاہر دعوت، تنظیم، تربیت بھی ہے مگر اصل شق سب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت کی اصلاح نظر آ رہی ہے حالانکہ دعوت تنظیم تربیت پر کام جاری ہے، پھر آخری شق سب پرحاوی کیوں ہوگئی۔ غور کرنے کی ضرورت ہے ماچھی گوٹھ کی تاریخ میں بھی بڑے بڑے نامور افراد جماعتی پالیسیوں سے اختلاف کرگئے، بعد میں بہت سے افراد جماعت اسلامی چھوڑ بھی گئے، مگر ماچھی گوٹھ کے فیصلوں نے ایک تاریخ رقم ضرور کی، جماعت کو یکسوئی ملی، اس کے دوررس نتائج برآمد ہوئے۔ اس وقت فیصلہ ہوا تھا ارکان جو جماعتی پالیسی سے اختلاف کرے گا وہ کسی منصب یعنی ذمہ داری پر نہیں رہ سکے گا۔ اس وقت اگر دیکھا جائے تو مرکزی امیر سراج الحق مینار پاکستان میں حلف اٹھانے کے بعد اب تک بیٹھے نہیں۔ صبح، دوپہر، شام، رات کو دعوت، تنظیم، تربیت، جلسے ، ریلیوں میں نظر آتے ہیں۔ پھر آواز موثر کیوں نہیں ہو پا رہی، اس کی وجہ جو بظاہر نظر آ رہی ہے کہ مرکزی امیر شمال کی طرف جا رہا ہے، صوبائی امیر جنوب کی طرف جا رہا ہے۔ ضلعی امیر مشرق کی طرف جا رہا ہے تو مقامی امیر مغرب کی طرف جا رہا ہے اگر ایسا نہیں ہے تو قیادت میں یکسوئی کیوں نظر نہیں آرہی۔ امیر جماعت کے طوفانی دورے کیوں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہے، اگر کوئی امیر جماعت کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتا ہے تو وہ ذمہ داری سے کیوں علیحدہ نہیں ہو رہا۔ مصلحت کیسی؟

میرے کالم پر یقیناًبہت غم و غصہ سامنے آئے گا، یہ میری ذاتی رائے ہے، اس سے اختلاف کرنا ہر کسی کا حق ہے۔ میرا موقف ہے جماعت اسلامی کو زمین پر آنا پڑے گا، اپنے اپنے گھروں، اپنے اپنے گلی محلوں میں ہونے والی خوشی غمی میں حصہ دار بننا ہوگا۔ پسند، ناپسند سے ہٹ کر تنظیم بنانا ہوگی، من پسند افراد کو نوازنے کی وجہ سے تباہ ہوتے قیمتی اداروں کو ازسر نو ترتیب دینا ہوگا، جماعتی کارکنان، ارکان، ہمدرد حضرات کے مسائل سے آگاہی اور ان کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ اس کے لئے مرکزی امیر کو بھی زمین پہ بھی آنا پڑے گا، اپنی تنظیم اور اداروں کی صورتحال کا خود جائزہ لینا ہوگا۔

نائب امراء، سیکرٹری جنرل، ڈپٹی سیکرٹری پر چھوڑ کر جان نہ چھڑوانا ہوگی۔ دو عملی کے نظام کو یکسر ختم کرکے ہر سطح کی قیادت کو ایک پیج پرآنا ہوگا، پھر اپنے جھنڈے اپنے نشان اپنے منشور کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے فوری کامیابی کے فلسفے سے ہٹ کر جماعت اسلامی کی حقیقی دعوت کو ایک ایک گھر تک پہنچانے کا اہتمام کرنا ہوگا۔ پھر اس صبر آزما مرحلے کے بعد کامیابی آپ کا مقدر ہوگی اور یہ کامیابی ہوسکتا ہے 2018ء میں نہ ملے 2028ء میں ملے، ان کامیابیوں سے بالا بالا دعوت پھیلے گی تو ہوسکتا ہے، جلد نتائج اچھے آنا شروع ہو جائیں۔

مزید :

کالم -