میانمار حکومت کا روہنگیا مسلمانوں کے متاثرہ علاقے قبضے میں لینے کا اعلان

میانمار حکومت کا روہنگیا مسلمانوں کے متاثرہ علاقے قبضے میں لینے کا اعلان

  

ینگون(این این آئی)میانمار کی حکومت راکھین ریاست میں جاری تشدد کی وجہ سے جلائی جانے والی بستیوں اور قریب نصف ملین روہنگیا افراد کے علاقہ چھوڑنے کے بعد وہاں تعمیر نو کرے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس اعلان سے ان لاکھوں روہنگیا مہاجرین کی واپسی پر بھی سوالات آن کھڑے ہوئے ہیں، جو راکھین میں جاری تشدد کی وجہ سے سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔میانمار کے وزیر برائے سماجی ترقی، ریلیف اور تعمیر نو میات آئے نے راکھین ریاست کے مرکزی شہر سِتوے میں ایک مقامی اخبار سے بات چیت میں کہاکہ قانون کے مطابق جلایا جانے والا علاقہ حکومت کی ملکیت میں آ چکا ہے۔آئے نے ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس متاثرہ علاقے میں ترقی دیکھنے والی ہو گی۔ یہ بات اہم ہے کہ میانمار کے قانون کے مطابق قدرتی آفات یا تنازعے کے بعد علاقے کی بہبود اور ترقی کے کام کی نگرانی حکومت کرتی ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ آیا علاقہ چھوڑ کر فرار ہو جانے والے روہنگیا کو دوبارہ ان علاقوں میں بسایا جائے گا یا نہیں یا ان افراد کی واپسی کب ممکن ہو گی۔

مزید :

عالمی منظر -