پیپسی کو کی جانب سے چینج دا گیم چیلنج کے دوسرے ایڈیشن کا انعقاد

پیپسی کو کی جانب سے چینج دا گیم چیلنج کے دوسرے ایڈیشن کا انعقاد

  

لاہور(پ ر)2016ء میں پہلی بارپیپسی کی طرف سے شروع ہونے والے چینج دا گیم چیلنج واپس آ گیا ہے. چینج دا گیم چیلنج کے ذریعے، شرکاء کی دو ٹیموں میں، اس سال کے کاروباری چیلنج کو حل کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے کھانے اور مشروبات کی جگہوں میں اپنی صحت اور غذائیت کے کاروبار کو شروع کرنے کا حل دیں اور واضح کریں کہ صحت اور غذائیت کا کاروبار کیسے شروع کیا جاسکتاہے. پچھلے سال کے مقابلہ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے، چینج دا گیم چیلنج 2017 کو پہلے سے بھی زیادہ ممالک کے لئے شروع کر دیا گیا ہے، بشمول پاکستان ، 10 ممالک میں ہزاروں لوگوں کو سائن اپ کرنے کا موقع ملے گا.پیپسی کو پاکستان کے نائب صدر اور جنرل مینیجر فرقان احمد سید نے کہا: '' چینج دا گیم چیلنج میں تبدیلی پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لئے ہمارے عزم کی عکاسی کرتی ہے ۔

جوکہ کمپنی اور اس کے ساتھ ساتھ صارفین کی بھی خدمت کرتی ہے. یہ مقابلہ ہمارے نوجوانوں کی ممکنہ تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے بارے میں ہے اور انہیں مستقبل کے بارے میں سوچنے کا ایک حصہ بنانا ہے. ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے نوجوانوں کو اس سال کے مقابلہ میں جیتنے والوں کے طور پر گلوبل مرحلے میں حصہ بنانا ہے. ''جو امیدوار مقابلے کا حصہ بننا چاہتا ہے وہ طالب علم، حالیہ گریجویٹ یا پیشہ ور جو تین سال سے کم تجربے کا حامل ہو حصہ لے سکتا ہے۔ چنی گئی ٹیمیں اپنے خیالات پیپسی کے سی ای او اندرانوئی کو پیش کرینگی. اس کے بعد فاتحین کو اپنی متعلقہ فیلڈ میں پیپسی کے ساتھ نوکری کی پیشکش کی جائیگی. اس مقابلے میں شرکاء پیپسی ماہرین کی طرف سے فراہم کردہ تعلیمی اور معلوماتی سیشن تک رسائی حاصل کریں گے۔ ان کو کمپنی کے کاموں میں غیر معمولی بصیرت فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ اپنے علم میں اضافہ کرتے ہوئے وہ اپنے مستقبل کے کیریئر اپناسکتے ہیں. کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ہونے والی کیمپس ڈرائیو کی ایک سیریز کے ذریعہ ممکنہ امیدواروں کو بھی چنا جا رہا ہے. انٹرویوز کے سوا، سب سے پہلے 5 رنر اپ ٹیموں کو PepsiCo پاکستان مینجمنٹ ٹرینی پروگرام 2018 کے لئے ملازمت کے تمام عمل سے گزرنا ہوگا.

مزید :

کامرس -