ہائیکورٹ: چیف ایگزیکٹو پنجاب صاف پانی کمپنی اور افسران طلبی پر حاضر،نامکمل جواب مسترد

ہائیکورٹ: چیف ایگزیکٹو پنجاب صاف پانی کمپنی اور افسران طلبی پر حاضر،نامکمل ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہرعلی اکبر نقوی نے پنجاب صاف پانی کمپنی میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے لئے دائر درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ منظور نظر افسروں کو بھاری تنخواہوں کے عوض نواز کر سرکاری خزانہ لوٹاجا رہا ہے، ایسے منصوبوں کی آڑ میں کرپشن کا بازار گرم ہے،یہ درخواست ثانیہ کنول ایڈووکیٹ نے دائر کررکھی ہے ۔درخواست گزار کی طرف موقف اختیار کیا گیا کہ صاف پانی کے منصوبے میں کرپشن کی جا رہی ہے، عوام کو صاف پانی کی فراہمی کی بجائے سارا بجٹ افسروں کی بیرون ملک دوروں اور بھاری تنخواہوں پر لٹایا جا رہا ہے، عدالت صاف پانی کمپنی کے منصوبے میں کرپشن کی تحقیقات کا حکم دے، عدالتی نوٹسز کی تعمیل میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نبیل جاوید ماتحت افسروں کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ کمپنی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ روڈ شوز، دبئی اورکمپنی کے افسروں کے دبئی دوروں کا تمام ریکارڈ عدالت میں جمع کرا دیا گیاہے، عدالت نے صاف پانی کمپنی کا نامکمل جواب مسترد کر تے ہوئے استفسار کیا کہ ایسی کمپنیوں میں سرکاری اور پرائیویٹ افسران کی تعداد کتنی ہے ؟ چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے اعتراف کیا کہ وہ گریڈ 20کے افسر ہیں اوراس عہدے سے 14لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں، جس پر عدالت نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کب تک پاکستان کو ایسے حربوں سے لوٹا جاتا رہے گا، عدالت لوٹ مار کے ایسے حربے نہیں چلنے دے گی ، عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ یہ کہاں کا قانون ہے کہ پنجاب میں گریڈ 20 کا ایک افسر ڈیڑھ لاکھ روپے اور دوسرا افسر 14لاکھ روپے تنخواہ لے رہا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -