مظفر آباد ، پی اے سی 1ارب 5کروڑ55لاکھ روپے کی سیٹلمنٹ ریکوری کرانے میں کامیاب

مظفر آباد ، پی اے سی 1ارب 5کروڑ55لاکھ روپے کی سیٹلمنٹ ریکوری کرانے میں کامیاب

  

مظفرآباد(بیورورپورٹ)آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایک سال میں ایک ارب پانچ کروڑ 55لاکھ 3 ہزار 6 سو 44 روپے کی سیٹلمنٹ ریکوری کرانے میں کامیاب رہی ‘ جس میں چالیس کروڑ پچاس لاکھ 43 ہزار آٹھ سو ستاون روپے وصول کرتے ہوئے خزانہ سرکار میں جمع کرا دیئے ہیں ‘ جن محکموں سے رقومات کی یکسوئی و صولی کی گئی ان میں پولیس پبلک سروس کمیشن ‘ انٹی کرپشن ‘ کشمیر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ ‘ سٹیٹ گیسٹ ہاؤس ‘ صنعت و تجارت ‘ اُمور حیوانات ‘ زراعت آبپاشی ‘ اسماء اکیڈمی ‘ بلدیات و دیہی ترقی ‘ سٹیٹ ڈیزاسٹر اتھارٹی ‘ سول ڈیفنس ‘ جیل خانہ جات ‘ صحت ‘ خوراک ‘ تعلیم ‘ برقیات ‘ داخلہ ‘ بلدیہ ‘ ضلع کونسل ‘ ترقیاتی ادارہ میرپور شامل ہیں ‘ محکموں میں کرپشن سے زیادہ مسئلہ تربیت کا نہ ہونا ہے ‘ کام کس طرح کیا جائے جس کے باعث بدانتظامی اور خرابیاں زیادہ ہوئی ہیں ‘اچھی کارکردگی میں تعلقات اثرو رسوخ کا غلبہ رہا ہے سب سے زیادہ خرابیاں ‘ بدانتظامی محکمہ خوراک اور برقیات میں ہے جبکہ پولیس اور محکمہ زراعت کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے کار گزاری اطمینان بخش رہی ہے ‘ محکموں کو زیادہ سے زیادہ اچھی ٹیموں اور تربیت کی ضرورت ہے ‘ دیانتداری ‘ فرص شناسی اور محنت سے کام کرنے والے آفیسران ملازمین کو فوقیت دیکر بہت سے مسائل پر قابو پا یا جا سکتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چوہدری اسحاق نے میڈ یا سے بات چیت کر تے ہو ئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ محکموں ‘ اداروں میں پری پی اے سی نہیں ہے یہ ہو جائے تو آدھا کام سیدھا ہو جائے گا جس کے لیے تمام محکموں کو مکتوب ارسال کیا ‘ پری پی اے سی کر کے آیا کریں ‘ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی صرف اجلاس ہی نہیں کر رہی بلکہ احکامات ‘ ہدایات پر مسلسل پہرے بھی دیئے ہیں ‘ اور فالو اپ سے مسلسل ریکوری کی اطلاع ملتی ہے ۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی اطمینان بخش کارگزاری ٹیم ورک کا نتیجہ ہے سب ممبران تیاری کر کے آتے ہیں اور جواب دیہی کے عمل کو بامقصد بنایا ہے جس نے وزیراعظم فاروق حیدر کی سرپرستی ‘ شفقت ‘ دلچسپی بھی شامل ہے جو ہم سے پوچھتے ہیں ‘ کیا ہو رہا ہے ‘کیا رکاوٹیں ہیں ‘ اس حوالے سے رپورٹ دینے کا بھی کہا ہے جو آئندہ چند ایام میں دینگے اور تجاویز بھی شامل کریں گے ۔ سب سرکاری ‘ نیم سرکاری محکموں کے بجٹ آفیسرز عملہ کی تربیت ناگزیر ہے ‘ ان سب کی کشمیر انسٹیٹیوٹ مینجمنٹ میں کورس کا اہتمام کیا جائے یا پھر پاکستان کے اداروں میں تربیت کرا کر تربیت یافتہ افراد سے دیگر کی تربیت کرائی جائے اس طرح سب محکموں کی اپنے اپنے اُمور ‘ شعبوں کے حوالے سے تربیت کے کورس ضروری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماضی کی ایک مثال ہے محکمہ خوراک کے گودام پنڈی سے گندم کی سو بوری آئی ہے ‘ سٹور کیپر نے ٹرک سے وصول ہی نہیں کی ۔ انٹی کرپشن میں نو مقدمات ہوئے مگر جن کو معطل کیا گیا ان کو ناصرف بحال کیا بلکہ اس عرصے کے واجبات بھی ادا کیے اور گندم کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ‘ بغیر ٹینڈر کے پانچ کروڑ کی ادائیگی کر دی ‘ ایسا امیر ترین ملک کے بادشاہ بھی نہیں کرتے ‘ محکمہ برقیات کے اوپر سے نیچے تک تمام آفیسران کوناصرف مفت بجلی دی جاتی ہے بلکہ بجلی کتنی استعمال کر سکتے ہیں اس کی کوئی حد مقرر نہیں ہے ‘ لائن لاسز نقصانات ایک ارب 67 کروڑ کا نقصان ہو گیا ہے جسے کم کرنے کا پتہ ہی نہیں ہے ‘ اور بلات دینے والے سزا بھگتنے ہیں ‘ یہاں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح عمومی استعمال اور صنعت وغیرہ کے استعمال کے اوقات کار طے کر دیئے جائیں تو لوڈشیڈنگ میں بڑا فرق پڑ سکتا ہے ‘ بلب کے بجائے انرجی سیور پر لوگوں کو آمادہ کیا جائے ‘ برقیات والے صرف 60 لاکھ میٹر خرید کر نئے لوگوں کو لگا دیں تو بلات میٹر ریڈنگ و چوری کی شکایات بڑے پیمانے پر ختم ہو جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کی طرح آبی حیات خصوصاً مچھلی کی افزائش نسل کی بڑی مارکیٹ کاروبار کو فروغ پا سکتا ہے جبکہ زراعت کی سکیموں سے بغیر سود کے مال مویشی زراعت کی طرف لوگوں کو دوبارہ راغب کر کے معاشی خود انحصاری ممکن ہے ‘ انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری ‘ آئی جی ‘ سیکرٹری مالیات اجلاسوں میں شریک ہوکے ‘ وقت کی پابندی اور جواب دینا شروع ہو تو نیچے تک اثرات ہوتے ہیں ‘ وزیراعظم نے ایوان وزیراعظم سے اصلاح کا آغاز کیا جس کے مثبت اثرات سارے محکموں میں آ رہے ہیں مگر سب کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہو گا ‘ ہمارے کمیٹی ممبران ڈاکٹرمصطفی بشیر ‘ کرنل (ر) وقار نور ‘ اپوزیشن ممبران ماجد خان ‘ صغیر خان ‘ حکومت اپوزیشن کے بجائے اجتماعی بہتری کے نقطہ نظر سے ٹیم ورک کے طو رپر کام کرتے ہیں ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -