زرداری کا قریبی افسر ایان کا سہولت کار تھا ، ڈپٹی ڈائریکٹر اے ایس ایف

زرداری کا قریبی افسر ایان کا سہولت کار تھا ، ڈپٹی ڈائریکٹر اے ایس ایف

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ڈپٹی ڈائریکٹراے ایس ایف بریگیڈئیرعمران نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ میں سابق صدرآصف زرداری کا قریبی سرکاری افسر ماڈل گرل ایان علی کی سہولت کاری کررہا تھا۔ایان علی کو گرفتار کیا گیا تو سب سے زیادہ واویلا سابق صدر کے اہم افسر نے کیا۔ سیکورٹی اداروں کو اکثر مواقع پر سیاسی اثر رسوخ تلے دبایا جاتا ہے۔پی آئی اے کے جہازوں میں ملنے والی منشیات کے پیچھے بین الاقوامی مافیا سرگرم ہے، طیاروں میں منشیات کی برآمدگی اے ایس ایف اور دیگر اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اجلاس کے دوران اے این ایف، کسٹمز، پی آئی اے اوراے ایس ایف کے افسران نے منشیات اسمگلنگ کے حوالے سے بریفنگ دی تاہم کمیٹی نے اس پرعدم اعتماد کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔جمعرات کو کراچی میں اے ایس ایف ہیڈ کوارٹر میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کیبنٹ سیکریٹریٹ کااجلاس چیئرمین رانا حیات کی صدارت میں ہوا۔ڈپٹی ڈائریکٹر اے ایس ایف بریگیڈیئرعمران نے اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ سیکیورٹی اداروں کو اکثر مواقع پر سیاسی اثر روسوخ تلے دبایا جاتا ہے، ماڈل ایان علی کے کیس میں ہمارے پاس باقاعدہ ویڈیو موجود ہے، وڈیو میں سابقہ حکومت کا ایک اہم افسر ایان علی کی سہولت کاری کرتا دیکھا جاسکتا ہے، اس بااثر شخصیت کا کہنا تھا کہ ایان علی کے پاس سے جو رقم بر آمد ہوئی وہ مسجد کے لیے بھیجی جا رہی تھی۔واضح رہے کہ ایان علی کانام 14مارچ سال 2015سے اس وقت اخباروں میں سامنے آیا جب وہ اسلام آباد سے دبئی جاتے ہوئے بینظیر بھٹو ایئرپورٹ پر سیکورٹی فورس کے ہاتھوں 5لاکھ ڈالرز غیر قانونی طورپر لے جاتے ہوئے گرفتار ہوئیں۔ایان علی کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تاہم لاہور ہائی کورٹ نے جولائی 2015 میں ان کی ضمانت پر رہائی کا حکم جاری کردیا۔فروری 2017 میں ماڈل ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکلتے ہی بیرون ملک منتقل ہوگئی تھیں۔کمیٹی کے استفسار پر اینٹی نارکوٹکس فورس کے بریگیڈیئر صغیر نے بتایا کہ پی آئی اے کے طیاروں سے منشیات اسمگلنگ کے 4 کیسز رپورٹ ہوئے، ہیروئن کی بھاری مقدار ہیتھرو ایئر پورٹ پر برطانوی بارڈر سیکیورٹی ایجنسی نے طیارے سے بر آمد کی، ہیروئن کی اسمگلنگ کے الزام میں 16 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے 7 کا تعلق سندھ جبکہ 9 کا پنجاب سے ہے، مرکزی ملزم کا تعلق کراچی سے ہے جبکہ 2 مزید ملزمان کو پچھلے ہفتے گرفتار کیا گیا۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر ویجیلنس پی آئی اے بریگیڈیر آصف نے کہا کہ پی آئی اے کے جہازوں میں ملنے والی منشیات کے پیچھے بین الاقوامی مافیا سرگرم ہے، طیاروں میں منشیات کی برآمدگی اے ایس ایف اور دیگر اداروں کی ذمہ داری ہے۔کمیٹی کے چیرمین رانا حیات نے پی آئی اے کے سی ای او مشرف رسول کو بولنے سے روکتے ہوئے کہا کہ ہم سے آج کی بات نہ کریں پچھلا حساب بتائیں ذمہ داروں کے ساتھ کیا کیا، کسی نئے کیس سے پہلے پرانے کیسز میں پی آئی اے سمیت دیگر محکموں کے ملوث افسران کو سزا دی جائے، 27 کلو ہیروئن تو سر پر بھی رکھ کر نہیں لائی جا سکتی طیارے تک کیسے پہنچی، پی آئی اے کے طیاروں اور ائیرپورٹس پرملنے والی منشیات میں ملوث ملزمان کون ہیں، ایئرپورٹس پرتعینات ایجنسیوں میں سے کون ذمہ دار ہے، ہیروئن اسمگلنگ کے پے در پے واقعات ہونا باعث شرم ہے، ہم آپ کی دی ہوئی بریفنگ کو مسترد کرتے ہیں، ہماری اطلاع ہے کہ صرف سوئپرکو گرفتار کیا گیا ہے کیا کوئی افسر بھی گرفت میں آیا، کمیٹی نے پی آئی اے کے طیاروں سے منشیات کی برآمدگی کے کیسز کی مکمل فہرست طلب کرتے ہوئے بریگیڈئیر آصف کی معطلی کی سفارش کردی ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -