سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ڈی جی نیب سندھ کو جرم کا مرتکب قرار دیدیا

سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ڈی جی نیب سندھ کو جرم کا مرتکب قرار دیدیا

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ڈی جی نیب سندھ الطاف باوانی کی جانب سے نیب قانون پر اراکین سندھ اسمبلی کے نیتوں پر شک کے متعلق نجی ٹی وی پر ریمارکس دینے کا معاملہ ۔سندھ اسمبلی کی استحقاق ، قوائد و ضوابط کے متعلق قائمہ کمیٹی نے ڈی جی نیب سندھ کو نوٹسز کے باوجود کمیٹی کے سامنے مسلسل وضاحت کے لیے پیش نہ ہونے اور بطور سرکاری ملازم نجی ڈی وی پر اراکین اسمبلی کے متعلق ریمارکس دینے پر جرم کا مرتکب قرار دے دیا ہے اور ڈی جی نیب سندھ کے خلاف کاروائی کے لیے رولز کے تحت سز اتجویز کر کے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ مرتب کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔یہ فیصلہ جمعرات کو سندھ اسمبلی کی استحقاق ، قوائد و ضوابط کے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین نثاراحمد کھوڑو نے کی۔اجلاس میں سید سردار احمد ، خورشید احمد جونیجو ، غلام قادر چانڈیو سمیت کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی ۔اجلاس میں ڈی جی نیب سندھ الطاف باوانی کی جانب سے نیب قانون کے متعلق سندھ اسمبلی کے اراکین کے حوالے سے نجی ٹی وی پر ریمارکس دینے کی فوٹیجزکا جائزہ لیا گیا ۔اجلاس میں کمیٹی کے اراکین نے اتفاق رائے سے تجویز دی کہ ڈی جی نیب نے سندھ اسمبلی کے اراکین کے متعلق نیتوں پر شک ہونے کے ریمارکس دیئے ہیں جس سے پورے ایوان کی توہین ہوئی ہے اسلیئے ڈی جی نیب سندھ کے خلاف رولز کے تحت کاروائی ہونی چایئے ۔اس موقع پر کمیٹی کے چیئرمین نثاراحمد کھوڑو نے کہا کہ ڈی جی نیب کو قائمہ کمیٹی کے سامنے وضاحت پیش کرنے کے لیے متعدد بار موقع دیئے اور انھیں نوٹس بھی بھیجا گیا مگر ڈی جی نیب نوٹس وصول کرنے کے باوجود نہ ہی کمیٹی کے سامنے پیش ہورہے نہ ہی اپنے ریمارکس کے متعلق وضاحت کررہے ہیں اور ڈی جی نیب کو کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر وضاحت کرنے کی کوئی پروا نہیں ہے ۔انھوں نے کہاکہ ڈی جی نیب کو بھیجے گئے نوٹس میں یہ بتایا گیا تھا کہ اگر وہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہونگے کمیٹی رولز کے تحت سزاد ینے کے متعلق کوئی یکطرفہ فیصلہ بھی کرسکتی ہے مگر پھر بھی ڈی جی نیب کمیٹی میں پیش نہیں ہورہے اسلیئے کمیٹی نے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ڈی جی نیب سندھ الطاف باوانی کے خلاف رولز کے تحت سزا تجویز کرکے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ مرتب کی جائیگی جو کہ منظوری کے لیے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی جائیگی۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -