باجوڑ ایجسنی ،محکمہ تعلیم کی مایوس کن کارکردگی سے اساتذہ سمیت طلباء کو مشکلات کا سامنا

باجوڑ ایجسنی ،محکمہ تعلیم کی مایوس کن کارکردگی سے اساتذہ سمیت طلباء کو ...

  

باجوڑ ایجنسی ( نمائندہ پاکستان )باجوڑ ایجنسی محکمہ تعلیم کی مایوس کُن کارکردگی سے اساتذہ سمیت طلباء کو مشکلات کا سامنا ۔آٹھ سال بعد پرائمری اور مڈل سکولوں میں سات سو سے زائید خالی پوسٹوں پر محدود بھرتی سوالیہ نشان ہے ۔انٹرویو کیلئے بنائی گئی پانچ رکنی کمیٹی کی کارکردگی سے بے روزگار تعلیم یافتہ جوان نالاں اساتذہ کی ڈیٹیل کو ختم کرنے کی سب سے بڑی وجہ محکمے کے کلریکل سٹاف کا جیبیں گرم کرنا ہے ۔تعلیمی اقدامات نہ اُٹھانے کیوجہ سے ابھی تک ایجنسی میں ایک لاکھ سے زائیدبچے سکولوں سے باہر ہیں۔ذرائع ۔ذرائع کے مطابق باجوڑایجنسی محکمہ تعلیم کے کارکردگی مایوس کن ہے دفتر میں بیٹھے عملے کا ایجنسی میں تعلیم کیلئے کوئی خاطر خواہ کارکردگی نظر نہیں آرہی ڈیٹیل کو ختم کرکے عملہ مجبور اساتذہ کو رشوت کی طرف راغب کرتے ہیں دفتر میں اساتذہ کی کوئی بھی فائل اور سروس بک محفوظ نہیں جبکہ دوسری طرف آٹھ سال بعد محکمہ ایجوکیشن نے پرائمری اور مڈل سکولوں میں نئے اساتذہ کے تقری کیلئے انٹرویو لیا لیکن ایجنسی میں خالی سات سو پوسٹوں میں صرف سو سے ذیادہ اساتذہ بھرتی کئے گئے جس کیلئے محکمے نے ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی لیکن ذرائع کے مطابق مزکورہ کمیٹی پر بھی اعتراضات اُٹھائے گئے اور کہا جا رہا ہے کہ کمیٹی نے اقرباء پروری پر بھرتی کرائی ہے انٹرویو کے بعد محکمے کو چارر سو سے ذیادہ اعتراضات اپیلیں آئی لیکن ایک بھی درخواست گزار کی موقف کو نہیں سُنا گیا اور نہ درخواست گزار کی تشفی کی گئی عوام اس بات پر بھی اعتراضات اُٹھا رہے ہیں کہ ایجنسی کے بڑے ریاست خار میں مزکورہ پوسٹوں پر ایک بھی جوان بھرتی نہیں کیا گیا دوسری طرف اساتذہ کے ڈیٹیل کو ختم کرکے کلریکل سٹاف نے رشوت کے دروازے کھول دیئے ہیں اور دفتری لسٹوں میں سینئر اور جونیئر کا معاملہ چھیڑ کر بھاری وصولیاں کی جا رہی ہیں لوگ اس بات پر بھی نالاں ہیں کہ انٹرویو کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی نے اچھے اور بُرے کا کلیہ اپنا کر مستحق طلباء کا حق دوسروں کے حوالے کیا اور اس بات پر بھی اعتراضات اُٹھا رہے ہیں کہ محکمہ ایجوکیشن ایجنسی میں تعلیم کے فروغ کیلئے کوئی بھی قدم نہیں اُٹھا رہی جس کیوجہ سے آج بھی باجوڑ ایجنسی میں ایک لاکھ سے زائید بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ پرائمری سکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کیلئے کرسی تو درکنار ٹاٹ تک بھی میسر نہیں سکولوں میں پانی اور واش روم دستیاب نہیں جبکہ اکثر سکولوں کے پروٹکشن وال بھی موجود نہیں بیشتر سکولوں میں بارہ سو سے ذیادہ بچوں کو ایک ہی معلم کے رحم و کرم پر ثھوڑ دیا گئے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -