سپر پاور پر تکیہ کرنے کے بجائے پاکستان اور افغانستان مسائل افہام و تفہیم سے حل کریں:میاں افتخار

سپر پاور پر تکیہ کرنے کے بجائے پاکستان اور افغانستان مسائل افہام و تفہیم سے ...

  

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی ثقافت، تاریخ،جغرافیائی صورتحال اور اقتصادیات ایک دوسرے پر منحصر ہیں اور دونوں ملکوں کو سپر پاورز پر تکیہ کرنے کی بجائے آپس کے تعلقات افہام و تفہیم سے بہتر بنانے چاہئیں ، امریکہ کے اندر بہت سے حلقے پاکستان کی قربانیوں کے معترف ہیں تاہم امریکی پالیسی میں ترجیح پاکستان اور افغانستان میں قیام امن ہونا چاہئے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں نجی ریڈیو چینل کی جانب سے شائع کردہ کتاب ’’ مشالونہ‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے خدائی خدمت گاروں کی قربانیوں کو کتابی شکل دینے پر مصنف سمیت پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس عظیم کاوش سے انہوں نے پختون قوم پر بڑا احسان کیا ہے ، انہوں نے کتاب بینی کی افادیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ کوئی بھی انسان کتاب سے دوستی کر کے نہ صرف اپنی علمی استعداد میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ اپنے علم سے دوسروں کو بھی فیضیاب کر سکتا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختون قوم اور نوجوان نسل کیلئے خدائی خدمت گاروں کی قربانیاں مشعل راہ ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل دن بہ دن کتاب بینی سے دور ہوتی جارہی ہے جس کے سبب معاشرے میں بیگاڑ پیدا ہوتا ہے اور کسی قوم کی بربادی اس کی اپنے اسلاف سے دوری کے سبب ہی وجود میں آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ لائبریریوں کا رخ کرنا چاہئے اور آنے والے درپیش چیلنج کا سامنا کرنے اور اس کے حل کے لئے عملی کام کرنا چاہئے۔بین الاقوامی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان پریکٹیکل کوآپریشن مذاکرات کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ پالیسی کمیونیکیشن، انفراسٹرکچر، ہیومن ریسورسز، معیشت کی تعمیر اور عوامی رابطوں جیسے اہم نکات پر عمل کر کے امن اور خوشحالی حاصل کی جا سکتی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد دونوں ملکوں میں امن کے قیام کیلئےء کوششیں ہونا چاہئے ،جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ، خطے میں امن کے قیام کیلئے عسکری کی بجائے مفاہمتی حل دیرپا ثابت ہو سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ اس وقت جو صورتحال بن رہی ہے اس میں سپرپاورز اور خطر کے ایٹمی طاقت ممالک کو ہوش کے ساتھ معاملات نمٹانا ہونگے ورنہ جلد بازی اور ذاتی مفادات کی تگ و دو میں ایک بڑی تباہی تیسری عالمی جنگ کی صورت میں سامنے کھڑی ہے، اور اگر یہ جنگ چھڑ گئی تو کوئی ملک اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا۔لہٰذا پاکستان اور افغانستان کا فرض بنتا ہے کہ وہ بد اعتمادی کی فضا کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں ۔انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان ضامن کا کردار ادا کرے تو صورتحال بہتری کی جانب بڑھ سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ سیاسی اور بین الاقوامی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ صبر اور تحمل و برداشت کا مظاہرہ کیا جائے ، ملک حالت جنگ میں ہے اور ایسی صورتحال میں سب سے پہلے حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہئے ، اے این پی روز اوّل سے پاکستان کے لئے ایک آزاد خارجہ پالیسی کی حامی رہی ہے۔ 1980 کی دہائی میں جب اس خطے میں جہاد کے نام پر بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لئے فساد رچایا تو ہم نے اس وقت بھی اس کی مخالفت کی تھی آج بھی ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ تمام پڑوسی ممالک بالخصوص افغانستان کے ساتھ اعتماد بحال کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دونوں ملک مل کر فیصلہ کن اقدامات اٹھائیں، انہوں نے کہا کہ خطے کے اندر محاذ آرائی کا خاتمہ کرنے سے جہاں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوگا وہاں کسی بیرونی دباؤ کے لئے گنجائش نہیں رہیگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -