ملتان کے 35 سال پرانے سیوریج نظام کی تبدیلی کی منظوری

ملتان کے 35 سال پرانے سیوریج نظام کی تبدیلی کی منظوری

  

ملتان(نمائندہ خصوصی) حکومت پنجاب نے ملتان مین 35سال پرانے سیوریج نظام کی تبدیلی کی منظوری دے دی۔ صوبائی حکومت نے پرانی اور بوسیدہ سیوریج لائن کی تبدیلی پر 2(بقیہ نمبر43صفحہ12پر )

ارب 16کروڑ جبکہ چونگی نمبر 9ڈسپوزل اسٹیشن اور اس سے منسلک نظام کی منتقلی کیلئے اڑھائی ارب روپے سے زائد کے منصوبے کی حتمی منظوری بی جاری کردی ہے۔ واسا ملتان اس منصوبے کو تین سال میں مکمل کرے گا۔ بتایا گیا ہے ملتان میں زیر زمین سیوریج لائن کا نظام 1774مکلو میٹر پر مشتمل ہے یہ نظام 15سے زائد ڈسپوزل اسٹیشنز سے منسلک ہے۔ آبادی بڑھنے کے ساتھ ایک طرف یہ نظام اوور لوڈ ہوگیا ہے تو دوسری جانب سیوریج لائنز بھی اپنی طبی عمر پوری کرچکیں ہیں ۔ جس کیوجہ سے یہ لائینز جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر مسئل کا باعث بن جاتیں ہیں۔ واسا ملتان نے گزشتہ 10سالوں کے دوران نئی سیوریج لائنز تو بچھاتا رہا۔ لیکن پرانی لائین کی تبدیلی پر توجہ نہ دے سکا ۔ واسا ملتان کی جانب سے صوبائی حکومت کو مختلف ادوار میں پرانے اور بوسیدہ سیوریج نظام کی تبدیلی کیلئے منصوبے پیش کیے گئے لیکن ہر دفعہ فنڈز کی قلت کا جواز دیکر یہ منصوبے مسترد کردیئے گئے۔ اب صوبائی حکومت نے ملتان کے شہریوں کو بوسیدہ سیویج سسٹم سے نجات دلانے کیلئے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے پر کل 5ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ 2ارب 16کروڑ روپے سے زائد مالیت کی رقم طبی عمر پوری کرنے والی سیوریج لائنز کی تبدیلی پر خرچ ہونگے۔ جبکہ باقی رقم میٹر کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر متاثرہ کرنے والے چونگی نمبر 9ڈسپوزل اسٹیشن اور اس سے منسلک نظام کی تبدیلی پر صرف ہوگی ۔ اس پروجیکٹ کے تحت 1ارب روپے سے زائد رقم 2018-19جبکہ باق رقم 2019-20کے دوران جاری ہوگی۔ ملتان میں برسوں پرانے اس نظام کی تبدیلی سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی اور آئے روز پیدا ہونے والی سیوریج کے مسائل میں بھی واضح کمی واقع ہوگی۔

سیوریج نظام

مزید :

ملتان صفحہ آخر -