ہائی وے افسروں اور ٹھیکیداروں کی ملکی بھگت، ہیڈ محمد والا تا تونسہ موڑ سڑک تباہ

ہائی وے افسروں اور ٹھیکیداروں کی ملکی بھگت، ہیڈ محمد والا تا تونسہ موڑ سڑک ...

  

ملتان(ملک اعظم سے) ہیڈ محمد والا سے تونسہ موڑ سڑک توسیع منصوبہ محکمہ ہائی وے مظفر گڑھ کے آفیسرز اور کنٹریکٹرز کی نا اہلی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ٹی پی لنک کے کنارے بننے والا 16کلو میٹر کا ٹکڑا فعال ہونے سے پہلے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا۔ ناقص ڈیزائننگ اور میٹریل پر کنسلٹنٹ و انجینئرز (بقیہ نمبر45صفحہ12پر )

بھی اپنا حصہ لیکر خاموش رہا۔ ڈائریکٹر انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ ڈیرہ غازیخان انجینئر امجد شعیب ترین نے کروڑوں روپے کے منصوبے میں نا اہلی اور غفلت کے مرتکب محکمہ ہائی وے مظفر گڑھ کے ایک ایکسین محمد طارق خان ملغانی، 4ایس ڈی اوز محمد بابر یزدانی، توقیر احمد طارق، غلام شبیر، 2سب انجینئرز سید ارشاد حسین کاظمی،نور محمد قریشی، کنسلٹنٹ جواد حسنین اور پیکج ون کے کنٹریکٹر محمد افضل کیخلاف اندراج مقدمہ کی سفارش کردی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے 2014-15میں ہیڈ محمد والا سے تونسہ موڑ تک 47.10کلومیٹر طویل سڑک ٹی پی لنک کے کنارے بنانے کی منظوری دی ۔ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ 27جون 2014ء کو اس منصوبہ کی 86کروڑ 75لاکھ روپے سے زائد کاسٹ کی منظوری دی 13اپریل 2015میں اس پروجیکٹ کی کاسٹ ریوائز کرکے 94کروڑ 44لاکھ روپے کردی گئی ۔ محکمہ ہائی وے ملتان نے اس پروجیکٹ کو 3مختلف پکیجز میں تقسیم کرکے گروپ ون ، گروپ 2، گروپ 3کا نام دیا۔ گروپ ون 16کلو میٹر کے فاصلہ پر مشتمل ہے، گروپ 2بھی 16کلو میٹر پر مشتمل ہے جبکہ گروپ 3 15.10کلومیٹر پر مشتمل ہے محکمہ ہائی مظفر گڑھ نے گروپ ون کا کنٹریکٹ محمد افضل کو دیا۔ اس گروپ کی ٹکنیکل کاسٹ 33کروڑ 45لاکھ روپے سے زائد مقرر کی گئی ۔ 25اگست کو شروع ہونے والا یہ منصوبہ مقررہ عائم میں کنٹریکٹر نے مکمل تو کرلیا اور محکمہ ہائی وے نے اس کو مکمل قرار دیکر کنٹریکٹر محمد افضل کو 32کروڑ 36لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی بھی کردی ۔ معلوم ہواہے سڑک کی تعمیر کے دوران محکمہ ہائی وے کے انجینئرز اور کنسلٹنٹ کمپنی کے نمائندے نے ملی بھگت سے کنٹریکٹر کو ریلیف دیا۔ کنسٹرکشن کمپنی نے سڑک کی تعمیر میں بھرت کا مقررہ معیار کے مطابق نہیں کیا۔ پیکج ون میں روڈ کو ٹی پی لنک کے کٹاؤ سے بچانے کیلئے جو سی برئیر لگائے گئے ۔ ہائی وے مظفر گڑھ نے ان برئیرز کو اوکے کرکے کنٹریکٹر کو ادائیگی بھی کردی لیکن نہری پانی کے کٹاؤ اور ناقص میٹریل سے بنے برئیر ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ ہائی وے جوسی برئیر کے کیرج اخراجات کی مد میں کنٹریکٹر محمد افضل کو 27لاکھ روپے ادا کیے۔ معاہدے کے مطابق بھرت نہ ہونے کیوجہ سے بارشی پانی مٹی بہا کر لے گیا۔ ہائی وے مظفر گڑھ نے پیکج نمبر 2کنٹریکٹر کمپنی عبدالوحید خان اینڈ کو دیا۔ اس کنٹریکٹ کی کاسٹ 30کروڑ 53لاکھ روپے مقر کی گئی۔ پیکج نمبر 2پر کام 2جون 2015ء کو شروع ہوا ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود کام جاری ہے۔ پیکج نمبر 3کا کنٹریکٹ محمد رمضان اینڈ کو الاٹ کیا گیا۔ اس کی کاسٹ 30کروڑ 80لاکھ روپے مقرر کی گئی۔27اگست کو اس فیز پر کام شروع ہوا۔ ایک سال کا وقت گزرنے کے باوجود اس فیز پر کام جاری ہے۔ جب وزیر اعلیٰ پنجاب کو ایک ارب روپے مالیت کے اس پروجیکٹ کی حالت زار کے بارے میں علم ہوا تو انہوں نے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سے ٹیکنیکل رپورٹ طلب کی۔ ڈی جی انسداد رشوت ستانی کے ادارے کی ہدایات پر ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ ڈیرہ غازیخان ریجن انجینئر امجد شعیب ترین نے ایک ٹیکنیکل رپورٹ تیار کی اور نقائص کے ذمہ داروں کا تعین کیا گیا۔ اس رپورٹ میں سنگین بے قاعد گیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ابتدائی طور پر ڈیڑھ کروڑ کے نقصان کی نشاندہی کرتے ہوئے اندراج مقدمہ کی سفارش کردی۔ منظوری دینے والے نا اہل چیف انجینئیر محمد ناصر کان، سپرئنڈنگ انجینئر چوہدری خالد صدیق کیخلاف محکمانہ کارروائی کی شفارشات مرتب کی گئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ریجنل ڈائریکٹر کی مرتب کردہ رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کردی گئی ہے۔ دوسری جانب سیاسی اثرو رسوخ کے حامل کنٹریکٹر کے سرپرست ان کو بچانے کیلئے سر گرم ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -