حضرت امام جعفر صادقؓ کو قتل کے ارادہ سے دربار میں بلانے پر بادشاہ کے محلات لرز اٹھے اور اسی لمحہ اس نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا اژدھا جس کے منہ کا ایک حصہ زمین پر تھا اور دوسرا حصہ اسکے محل پر،اس سے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت امام جعفر صادقؓ کو قتل کے ارادہ سے دربار میں بلانے پر بادشاہ کے محلات ...
حضرت امام جعفر صادقؓ کو قتل کے ارادہ سے دربار میں بلانے پر بادشاہ کے محلات لرز اٹھے اور اسی لمحہ اس نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا اژدھا جس کے منہ کا ایک حصہ زمین پر تھا اور دوسرا حصہ اسکے محل پر،اس سے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  

حضرت امام حسینؓ کے پڑپوتے حضرت امام جعفر صادقؓ نے مدینے میں مسجد نبوی اور کوفہ شہر میں مسجد کوفہ کو جامعات میں تبدیل کرکے ہزاروں شاگردوں کی تربیت کی اور ایک عظیم علمی و فکری تحریک کی بنیاد ڈالی۔ آپؓ کی فکری علمی اور باطنی تحریک و کمالات کی وجہ سے دربار منصور پر لرزہ رہتا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن ملا جامیؒ نے اپنی مشہور کتاب ’’ شواہد النبوت ‘‘ میں آپؓ کے جلال اور برگزیدگی کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ منصور کے ایک دربان کا بیان ہے ’’ میں نے ایک روز منصور وک غمگین و پریشان دیکھا تو کہا ’’اے بادشاہ ‘ آپ متفکر کیوں ہیں؟‘‘

منصور بولا ’’میں نے علویوں کے ایک بڑے گروہ کو مروا دیا ہے لیکن ان کے سردار کو چھوڑ دیا ہے ‘‘

میں نے کہا ’’وہ کون ہے ؟‘‘

کہنے لگا’’ وہ جعفر بن محمد ہے‘‘

میں نے کہا ’’وہ تو ایسی ہستی ہے جو اللہ تعالٰی کی عبادت میں محو رہتی ہے۔ اسے دنیا کا کوئی لالچ نہیں‘‘

خلیفہ بولا ’’مجھے معلوم ہے تم اس سے کچھ ارادت و عقیدت رکھتے ہو ۔میں نے قسم کھا لی ہے کہ جب تک میں اس کا کام تمام نہ کر لوں آرام سے نہیں بیٹھوں گا‘‘ چنانچہ منصور نے جلاد کو حکم دیا کہ جونہی جعفر بن محمدؓ آئے میں اپنے ہاتھ اپنے سر پر رکھ لوں گا تم اسے قتل کر دینا۔

حضرت جعفر صادقؓ کو دربار میں بلایاگیا۔ میں آپؓ کے ساتھ ساتھ ہو لیا ۔میں نے دیکھا کہ آپؓ زیر لب کچھ پڑ ھ رہے تھے جس کا مجھے پتہ نہ چلا لیکن میں نے اس چیز کا مشاہدہ ضرور کیا کہ منصور کے محلوں میں ارتعاش پیدا ہو گیا۔ وہ ان سے اس طرح باہر نکلا جیسے ایک کشتی سمندر کی تندو تیز لہروں سے باہر آتی ہے۔ اس کا عجیب حلیہ تھا۔ وہ لرزہ براندام برہنہ سر اور برہنہ پا حضرت جعفر صادقؓ کے استقبال کیلئے آیا اور آپؓ کے بازو پکڑ کر اپنے ساتھ تکیہ پر بٹھایا اور کہنے لگا’’ اے ابن رسول اللہﷺ آپؓ کیسے تشریف لائے ہیں ؟‘‘

آپؓ نے فرمایا’’ تو نے بلایا ، میں آ گیا‘‘

پھر کہنے لگا ’’کسی چیز کی ضرور ہو تو فرمائیں ‘‘

آپؓ نے فرمایا’’ مجھے بجز اس اس کے کسی چیز کی ضرورت نہیں کہ تم مجھے یہاں بلایا نہ کرو۔ میں جس وقت خود چاہوں آ جایا کروں گا‘‘ آپ اٹھ کر باہر تشریف لے گئے تو منصور نے اسی وقت جامہائے خواب (رات کو سونے کا لباس ) طلب کئے اور رات گئے تک سوتا رہا ۔یہاں تک کہ اس کی نما قضا ہو گئی ۔بیدار ہوا تو نماز ادا کرکے مجھے بلایا اور کہا’’ جس وقت میں نے جعفر بن محمدؓ کو بلایا تو میں نے ایک اژدھا دیکھا جس کے منہ کا ایک حصہ زمین پر تھا اور دوسرا حصہ میرے محل پر۔ وہ مجھے فصیح و بلیغ زبان میں کہہ رہا تھا مجھے اللہ تعالٰی نے بھیجا ہے ۔اگر تم سے حضرت جعفر صادقؓ کو کوئی گزند پہنچی تو تجھے تیرے محل سمیت فنا کر دوں گا۔ اس پر میری طبعیت غیر ہو گئی جو تم نے دیکھ ہی لی ہے‘‘

مزید :

روشن کرنیں -