فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 226

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 226
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 226

  

یوں تو فلم بنانا ہر جگہ اور ہر ملک ہی میں مشکل کام ہے لیکن پاکستان میں اس کی مشکلات فزوں تر ہیں اور سب سے بڑھ کر درد سر اداکار ہوتے ہیں۔ جو اداکار باکس آفس پر جتنا بڑا ہوگا وہ فلم ساز کے لئے ا تنا ہی بڑا درد سر ہوگا۔ جب سے ہم نے فلمی دنیا میں آمدروفت شروع کی ہے اس وقت ہی سے یہ رواج دیکھ رہے ہیں۔ زمانے کی تبدیلیوں کے ساتھ فلمی دنیا میں بھی بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں مگر یہ رواج اور روایت جوں کی توں ہے۔ صرف ا داکاروں کے نام بدلتے رہتے ہیں۔ ان کے پیدا کردہ مسائل ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ آج بھی سپر سٹارز سے فلم رائٹروں کو ویسی ہی شکایات ہیں جیسی کہ 1951ء میں تھیں۔ فرق یہ ہے کہ اس وقت سنتوش کمار اور صبیحہ خانم‘ سدھیر لالہ اور مسرت نذیر تھے۔ ۔۔۔ اور یہ مسئلہ صرف پاکستان ہی تک محدود نہیں ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ وہاں بھی بڑے اداکار فلم سازوں کے لئے مسائل پیدا کرتے رہتے ہیں اور تو اور فلم سازی کے ہیڈ کوارٹر اور انتہائی منظّم اور قاعدے قرینے کے ملک امریکہ کے ہالی ووڈ میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ وہاں بھی بڑے اداکار دیر سے سیٹ پر آتے تھے۔ نخرے کرتے تھے۔ فلم سازوں کے اخراجات کا بوجھ بڑھاتے تھے۔ دنیا کی معروف ترین گلیمرس اداکا رہ مارلین منرو اتنی تاخیر سے شوٹنگ پر آیا کرتی تھی کہ ساتھی اداکار فلم ساز اور ہدایت کار اپنے بال نوچا کرتے تھے۔ مارلین منرو جب فلم ’’مس فٹ‘‘ میں ہالی ووڈ کے معروف ترین لیجنڈ کلارک گیبل کے ساتھ کام کیا تو اس کے مسلسل تاخیر سے آنے پر کلارک گیبل کو اس قدر شدید ذہنی اور روحانی کوفت ہوتی تھی کہ بالآخر وہ فلم کی تکمیل کے دوران ہی میں ہارٹ اٹیک کا شکار ہو کر اللہ کو پیارا ہوگیا۔ اس کی بیوی نے کھلم کھلا اخبارات میں بیان دیا کہ کلارک گیبل کے ہارٹ اٹیک اور موت کی ذمّہ دار مارلین منرو ہے۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 225  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہالی ووڈ کے دوسرے بڑے اداکاروں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ اگر کہیں بدقسمتی سے ایک فلم میں دو یا تین بڑے اداکار یک جا ہوگئے تو سمجھیے کہ فلم ساز کی شامت ہی آگئی۔ ایلزبتھ ٹیلر روم میں فلم ’’کلوپیٹرا‘‘ کی شوٹنگ چھوڑ کر اس لئے واپس چلی گئی تھی کہ فلم ساز اس کے بچوں ان کی آیاؤں ایلزبتھ ٹیلر کے ذاتی ملازموں اور 6کتّوں کیلئے اس کی حسب خواہش مناسب رہائش کا بندوبست نہیں کر سکا تھا۔ ایلزبتھ ٹیلر نے یہ بھی نہ سوچا کہ ہالی ووڈ کی اس فلم کا یونٹ روم جیسے مہنگے شہر میں مقیم ہے جہاں پر ہر روز لاکھوں کا خرچہ ہو رہا تھا۔

اسی طرح ’’کلو پیٹرا‘‘ کے جولیس سیزر برطانوی اداکار ریکس ہیری سن جب لندن سے روم پہنچے (کافی تاخیر سے) اور پہلے دن شوٹنگ کے لئے گئے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کیلئے ایلزبتھ ٹیلر جیسا خصوصی میک اپ روم موجود نہیں ہے۔ ریکس ہیری سن اسی وقت کار میں بیٹھ کر اپنے فائیو سٹار ہوٹل پہنچے‘ وہاں سے ائرپورٹ گئے اور سیدھے لندن واپس پہنچ گئے۔ بے چارے فلم ساز کا لاکھوں کا نقصان ہوگیا اس لئے کہ شوٹنگ رک گئی تھی۔ ان کے لئے خاطر خواہ میک اپ روم کا بندوبست کیا گیا تب وہ واپس روم تشریف لائے۔ اسی فلم کی طویل شوٹنگ کے دوران میں فلم کی ہیروئن ایلزبتھ ٹیلر کا مشہور برطانوی اداکار رچرڈ برٹن کے ساتھ معاشقہ زور و شور سے جاری تھا۔ یہ دونوں ہی شادی شدہ تھے مگر نہ تو ایلزبتھ ٹیلر کے شوہر سنگر اداکار ایڈی فشر روم میں تھے اور نہ ہی رچرڈ برٹن کی بیگم سیبل۔ چنانچہ دونوں کو کھلی چھٹی تھی۔ اس معاشقے میں ان کی مصروفیات کے باعث کئی بار شوٹنگ میں تعطل ہوتا رہا اور فلم ساز کو مالی چپت پڑتی رہی۔ اس قسم کے حالات کے نتیجے میں اس فلم کی لاگت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ کئی بینک اور انشورنس کمپنیوں کا دیوالیہ نکل گیا تھا۔ اس قسم کی بے شمار داستانیں سنائی جا سکتی ہیں۔

اس تذکرے سے مقصود یہ بتانا تھا کہ فلمی دنیا میں ممتاز اور بڑے اداکار ہمیشہ درد سر بن جاتے ہیں۔ مگر ہماری خوش قسمتی یہ تھی کہ جب ہم نے پہلی فلم ’’کنیز‘‘ بنائی تو کسی اداکار کی طرف سے کوئی مشکل پیش نہیں آئی بلکہ ہر ایک نے حد سے زیادہ تعاون کیا۔

سنتوش اور صبیحہ تو اس وقت بھی سُپرسٹار تھے۔ محمد علی‘ زیبا اور وحید مراد نئے تھے مگر ہماری فلم کی تکمیل کے دوران ہی میں سُپرسٹار بن چکے تھے اور اتنے مصروف ہوگئے تھے کہ واقعی سر کھجانے کی فرصت نہ تھی۔ ہر ایک کے پاس کئی کئی فلمیں تھیں۔ کبھی کراچی‘ کبھی لاہور اور کبھی مری میں شوٹنگ ہوتی رہتی تھی اور یہ لوگ مسلسل ہوائی سفر میں رہتے تھے۔ اس کے باوجود اپنے اداکاروں کی طرف سے ہمیں د انستہ طور پر کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ پھر بھی ہم پریشان رہتے تھے اور اپنے اداکاروں سے لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔

ہم بتا چکے ہیں کہ فلم ’’کنیز‘‘ میں ایک ایک سین کے کرداروں کے لئے بھی ہم نے اس وقت کے بڑے سٹارز سے کام کرنے کی درخواست کی اور ہر ایک نے ہماری بات مان لی۔ یہاں تک کہ معاوضے کے طور پر ایک پیسہ بھی لینے کے روا دار نہ ہوئے۔ شاید اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ فلمی صنعت میں ہم شیطان کی طرح جانے جاتے تھے۔ ہر ایک سے ہمارے تعلقات تھے۔ بے تکلفی تھی۔ ہنسی مذاق تھا ۔ہو سکتا ہے وہ یہ سوچتے ہوں کہ اس کی پہلی فلم ہے چلو کچھ لحاظ کر لو۔ بہرحال سبب جو بھی رہا ہو۔ ا داکاروں کا تعاون اور اللہ کی مہربانی ہمارے شامل حال رہی۔ کسی نے بھی تو ہمیں ا نکار نہیں کیابلکہ خوشی خوشی ہماری خواہش کے مطابق کام کیا اور کبھی اس کے جواب میں کچھ طلب نہیں کیا۔

صابرہ سلطانہ اس زمانے کی ہیروئن تھیں۔ خوش شکل‘ خوش ادا‘ خوش گفتار‘ دراز قد‘ گورا رنگ‘ بڑی بڑی آنکھیں‘ ایک تعلیم یافتہ اور شریف گھرانے سے ان کا تعلق تھا۔ انہیں شعرو ادب کا ذوق بھی تھا بلکہ شاعری سے بھی شوق فرماتی تھیں۔ ان کے والد بھی ادب ذوق انسان تھے۔ انتہائی نفیس اور مرنجان مرنج تھے۔ ان کی والدہ ہمیشہ ساڑھی زیب تن کیا کرتی تھیں۔ صابرہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھیں۔ جب وہ شوٹنگ پر آتی تھیں تو والد اور والدہ دونوں ان کے ہمراہ ہوتے تھے۔ یہ ایک نیا دستور تھا۔ خاتون اداکاراؤں کے ساتھ ایک نگران کی موجودگی تو لازمی ہوتی تھی مگر یہاں تو ایک چھوڑ دو نگران تھے لیکن بہت جلد فلم سازوں کو اندازہ ہوگیا کہ صابرہ کے والدین انتہائی شریف اور معقول لوگ ہیں۔ ان دونوں کے ہمراہ آنے کا سبب یہ تھا کہ ان میں سے کوئی ایک گھر پر بالکل تنہا رہنا پسند نہیں کرتا تھا۔ ویسے بھی صابرہ ان کی لاڈلی بیٹی تھیں اور ان دونوں میں سے کوئی انہیں زیادہ عرصے تک آنکھوں سے اوجھل دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا۔

’’کنیز‘‘ میں صبیحہ خانم کی ماں کا کردار خاصا اہم تھا مگر صرف ابتدائی حصے میں چار پانچ سین پر مشتمل تھا۔ اس کردار کے لئے ہمیں ایک بہت اچھی اداکارہ کی ضرورت تھی مگر اتنے مختصر کردار کے لئے کوئی اچھی اداکارہ کیوں کر رضامند ہو سکتی تھی؟

حسن طارق صاحب کو اس معاملے میں ہمیشہ دور کی سوجھتی تھی۔ ابھی شوٹنگ شروع ہونے میں چند روز باقی تھے اور ہم دونوں اس سوچ میں تھے کہ صبیحہ خانم کی ماں کا کردار کسے سونپا جائے۔ ایک روز ہم اور طارق صاحب سٹوڈیو جا رہے تھے اور طارق صاحب کار چلاتے ہوئے حسب معمول رننگ کمنٹری میں مصروف تھے ۔ ان کی عادت تھی کہ کار چلاتے ہوئے سامنے کے واقعات پر تبصرہ کرتے رہتے تھے۔ مثلاً

’’او‘مار دیا۔ یہ تو غلط ہاتھ پر آ رہا ہے‘‘

’’یہ سڑک تو لگتا ہے بچّے دیتی ہے۔ کتنے بچے ایک دم کہیں سے نکل کر سامنے آ جاتے ہیں۔‘‘

’’یہ بس والا تو لگتا ہے نشے میں ہے‘‘

’’اوتانگے والے بھائی کیوں گھوڑے کو مروانے لگا ہے۔‘‘

اس طرح کے تبصرے کرتے کرتے اچانک انہوں نے کہا

’’آفاقی صاحب‘ صابرہ سلطانہ اس کیریکٹر میں کیسی رہے گی؟‘‘

’’کس کیریکٹر میں؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

’’صبیحہ بھابھی کی ماں کے کردار میں۔ ان دونوں کی شکل بھی آپس میں ملتی ہے اور وہ سچ مچ کسی نواب کی بیوی ہی لگے گی۔ ویسے بھی بہت گریس فل ہے۔‘‘

ہم پریشان ہوگئے ’’مگر طارق صاحب وہ ہیروئن ہے۔ صبیحہ بھابھی کی ماں کیوں بنے گی؟‘‘

’’ہیروئن تو ہے مگر صبیحہ کی ماں بننا بھی تو ایک بڑی بات ہے۔ لوگ یاد کریں گے۔‘‘

ہم خاموش ہوگئے۔ سوچ رہے تھے کہ یہ بات صابرہ سے کیسے کی جائے۔ صابرہ سے ہمارے اچھّے مراسم تھے۔ اس کے گھر میں آنا جانابھی تھا۔ ان کے والدین بھی ہمارے ساتھ مشفقانہ برتاؤ کرتے تھے۔ صابرہ سلطانہ نے جب سے سنا تھا کہ ہم بھی فلم بنا رہے ہیں تو انہوں نے فوراً ہم سے فرمائش کر دی کہ انہیں بھی فلم میں ضرور رکھا جائے۔ وہی نہیں فلمی صنعت کے سب ہی اداکاروں کو ہم سے یہی توقع تھی کہ ہم انہیں اپنی پہلی فلم میں ضرور رکھیں گے۔ مگر ایک فلم میں کتنے کردار ہو سکتے ہیں اور فلمی دنیا کے سارے اداکاروں کا ایک فلم میں کام کرنا کیوں کر ممکن ہے؟ یہی وجہ ہے کہ بیش تر اداکاروں کو ہم سے شکایت ہوگئی تھی اور وہ ہم سے ناراض ہو گئے تھے۔ بڑی مشکل سے ہم نے انہیں سمجھا بجھا کر منایا تھا کہ بھئی یار زندہ‘ صحبت باقی‘ زندگی رہی اور فلمیں بناتے رہے تو ان کی باری بھی آ جائے گی۔ ہماری یہ دلیل کارگر ہوئی اور ہم نے سب کو منا لیا۔

مگر یہ بات کچھ عجیب سی لگی کہ ہم صابرہ سلطانہ سے فرمائش کریں کہ وہ ہماری فلم میں صبیحہ خانم کی ماں کا مختصر سا کردار کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ مگر نہ جانے کیا نفسیاتی مسئلہ تھا کہ ہم طارق صاحب کی کوئی بات ٹالتے ہی نہیں تھے۔ وہ تو ایک بار کہہ کر چپ ہو جاتے تھے مگر ہم اس تگ و دو میں لگ جاتے تھے کہ ان کی فرمائش کیسے پوری کی جائے؟

اسی شام ہم سمن آباد میں صابرہ سلطانہ کے گھر پہنچ گئے۔ (جاری ہے )

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 227 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -