ایک مسیحا سے ملاقات جو روشنی بانٹ رہا تھا

ایک مسیحا سے ملاقات جو روشنی بانٹ رہا تھا
ایک مسیحا سے ملاقات جو روشنی بانٹ رہا تھا

  

پچھلے دنوں مجھے بعض وجوہات کی بنا پر اپنے ایک محترم دوست ڈاکٹرمظہر اعوان صاحب کے آنکھوں کے ہسپتال میں ایک دن گزارنا پڑا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا کہ جسے قارئین کے ساتھ شیئر نہ کرنا ان کے ساتھ زیادتی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے میں نے اس روز کے تجربات اور مشاہدات کو آج کے سلسلہ رو زو شب کا موضوع بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب آئی اسپیشلسٹ ہیں۔انھوں نے اپنی ساری زندگی غریبوں اورمڈل کلاس کے لوگوں کوآنکھوں کے علاج کی وہ طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے وقف کررکھی ہے جس کا بوجھ اٹھانا صرف طبقہ امرا ہی کے لیے ممکن ہے۔ ڈاکٹر مظہر صاحب سے میرا ذاتی تعلق ایک دہائی سے زیادہ عرصے پر پھیلا ہوا ہے۔ تاہم بالواسطہ طور پر میں ان سے پہلے ہی سے واقف تھا۔انھوں نے میری والدہ کا موتیا کا آپریشن کیا تھا۔ وہ اس وقت ایک نجی ہسپتال میں بطور سرجن کام کررہے تھے، مگر اس کے باوجود ان کی طرف سے اس خوش اخلاقی اور نرم گفتاری کا معاملہ سامنے آیا تھا جو آج کل ڈاکٹروں میں عملی طور پر ناپید ہوتا جارہا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے بعد میں ملازمت کو خیر باد کہا اور کل وقتی طور پر اپنی زندگی غریبوں کو مفت اور مڈ ل کلاس کوبہت مناسب قیمت پرآنکھوں کے اعلیٰ ترین علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے وقف کردی۔ ہمارے بعض اہل خیر دوستوں کے تعاون سے انھوں نے میرے دفتر کے برابر ہی میں اپنا آئی کلینک شروع کیا ۔ ان کی نظر عنایت نے ان کی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے لیے بطور صدر اس خاکسار کا انتخاب کیا۔

چنانچہ تب ہی سے روزانہ کی بنیاد پر ڈاکٹر صاحب سے واسطہ پڑنے لگاجس کے بعد اندازہ ہوا کہ ملنساری اور نرم گفتاری ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا حصہ ہے جس کا اظہار اپنے پرائے سب لوگوں کے ساتھ یکساں طور پر ہوتا ہے۔ان کے اخلاص کو دیکھتے ہوئے اہل خیر ان کے ساتھ شامل ہوتے رہے اور اب ماشاء اللہ ان کے زیر نگرانی آنکھوں کا ایک بڑاہسپتال چل رہا ہے جس میں متعدد قسم کے پیچیدہ ٹیسٹوں اورجدیدآپریشن کا بھی انتظام ہے۔

پاکستان اورعلاج معالجے کی سہولیات

پاکستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ اپنے آغاز ہی سے یہ ایک فلاحی ریاست کے بجائے سیکیورٹی ریاست کی شکل اختیار کرگیا۔ اس کی سب سے بھاری قیمت پاکستان کے عوام کو دینا پڑی ہے۔ غیر معمولی وسائل کی حامل اس ریاست کے باشندوں کے لیے بنیادی طبی علاج اور بنیادی تعلیم بھی ایک خواب بن چکی ہے۔ تعلیم اور علاج کے نام پر جو کچھ حکومت کی طرف سے دستیاب ہے وہ انتہائی محدود اور غیر معیاری ہے۔اس برس یعنی سن 2017-18 کے 53 کھرب روپے کے بجٹ میں صحت کے شعبے میں صرف 49 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔اسی روش کا نتیجہ ہے کہ کراچی جیسے ڈھائی کروڑسے زیادہ کی آبادی پر مشتمل شہر کے لیے حکومتی سطح پر علاج فراہم کرنے کے ہسپتال انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔

اس وجہ سے ایک طرف تو سرکاری ہسپتالوں میں بے پناہ رش ہوتا ہے اور دوسری طرف وہاں تعینات عملہ غریبوں کے ساتھ جس طرح پیش آتا ہے وہ ان کی عزت نفس پر ایک تازیانے کا کام کرتا ہے۔ ظلم یہ ہے کہ طبی عملے کا یہ غیر انسانی اور غیر ہمدردانہ رویہ بہت سے پرائیوٹ ہسپتالوں میں بھی عام ہے۔ یہ ہمارے عمومی اخلاقی بحران کا ایک شاخسانہ ہے۔

ایسے میں جب کچھ فلاحی ادارے غریبوں کے لیے قائم کیے جاتے ہیں تو وہاں بھی کبھی مریضوں کی کثرت کی بنا پر اور کبھی عمومی اخلاقی بحران کی بنا پر مریضوں کو غیر ہمدردانہ رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وگرنہ خیراتی ہسپتال میں علاج کرانے کا لیبل تو بہرحال لگتا ہی ہے۔ لیکن غریب مجبور ہے کہ اسے بہرحال زندہ رہنا ہے اور اس کے لیے اپنا علاج کرانا اس کی ضرورت ہے۔

ایک منفرد تصور

ان فلاحی اور سرکاری ہسپتالوں سے برا بھلا غریبوں کا بہرحال معاملہ چل رہا ہے جبکہ پیسے والے لوگ اپنا معیاری علاج بڑے اور مہنگے پرائیوٹ ہسپتالوں میں کرالیتے ہیں۔ ایسے میں جو طبقہ سب سے زیادہ مشکل میں آتا ہے وہ مڈل کلاس کا ہے۔وہ بے چارے فلاحی یا سرکاری اداروں میں جائیں توذلت آمیز رویے کے ہاتھوں پریشان ہوتے ہیں۔ جبکہ مہنگے پرائیوٹ ہسپتالوں میں جانا ان کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔

یہ وہ صورتحال تھی جس میں ڈاکٹر مظہر صاحب نے غریبوں کے ساتھ مڈل کلاس کی مدد کے لیے کم از کم اپنے شعبے یعنی آنکھوں کے علاج میں ایک بالکل منفرد تصور متعارف کرایا ہے۔ انھوں نے جو ہسپتال قائم کیا ہے وہ ہر اعتبار سے ایک معیاری ہسپتال ہے جہاں کروڑوں روپے کی مالیت کی مہنگی مشینیں نصب ہیں جو صاحب خیر افراد کے تعاون سے خریدی گئی ہیں۔ تاہم یہاں آنے والوں کا علاج مفت نہیں کیا جاتا بلکہ ایک مناسب فیس لی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر شہر کے دوسروں نجی ہسپتالوں میں آنکھ کا جو آپریشن پینتیس چالیس ہزار کا ہوتا ہے یہاں صرف بارہ ہزار کا ہوجاتا ہے۔

اس فیس کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ ہسپتال کا معیار برقرار رکھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔اس معیار کے نتیجے میں شہر کے پوش علاقوں کے لوگ بھی اسی اطمینان سے علاج کرانے یہاں آتے ہیں جس اطمینان کے ساتھ مڈل کلاس یا غریب لوگ علاج کرانے آتے ہیں۔دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ہسپتال پر عوام کا وہ رش نہیں ٹوٹتا جس کے نتیجے میں معیار اور اخلاق دونوں کا قائم رکھنا عملاً ناممکن ہوجاتا ہے۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہاں غریب غربا کا علاج نہیں ہوتا۔ ہر روز یہاں ان لوگوں کا علاج اور آپریشن کیا جاتا ہے جو اپنا علاج کرانے کے لیے یہ رعایتی فیس دینے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔ جو لوگ کچھ فیس دینا برداشت کرسکتے ہیں،ان کا علاج ایسے ہی کیا جاتا ہے جیسے مکمل فیس دینے والو ں کا کیا جاتا ہے۔ ویلفیئر کے شعبے کے علاوہ ڈاکٹروں یا عملے کوبھی علم نہیں ہوتا کہ کون شخص پیسے دے کر آرہا ہے اور کون زکوٰۃ کی رقم سے علاج کروارہا ہے۔

ایسے لوگوں کے علاج کی رقم ہسپتال نہیں دیتا بلکہ صاحب خیر افراد اپنے زکوٰۃ اور عطیات سے ادا کرتے ہیں۔ مریضوں کے احوال کی تحقیق کے بعد زکوٰۃ کی مد سے ان کا علاج اسی طرح کیا جاتا ہے جس طرح فیس دینے والوں کا۔ اس طرح یہ شاید واحد ہسپتال ہے جس میں پیسے والے لوگ، مڈل کلاس اور غریب لوگ یکساں طور پر اپنا علاج کراتے ہیں۔ پیسے والے معیار کی وجہ سے، مڈل کلاس معیار کے ساتھ مقابلتاً سستا ہونے کی بنا پر اور غریب لوگ مفت علاج کی سہولت کی بنا پر یہاں علاج کراتے ہیں۔

آپریشن تھیٹر میں

ڈاکٹر مظہر صاحب صبح کے وقت آپریشن کرتے ہیں۔ جبکہ دوپہر میں مریضوں کا معائنہ ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے ساتھ مجھے بھی دعوت دی کہ میں آپریشن تھیٹر میں چل کر یہ دیکھوں کہ آنکھ کے آپریشن کیسے کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ پہلے میں ان کے ساتھ آپریشن تھیٹر والے حصے میں گیا۔ یہاں جراثیم کا داخلہ روکنے کے لیے ہر ممکن اہتمام کیا گیا تھا۔ تمام جگہیں سیل پیک تھیں۔ تمام عملہ چپلیں باہر اتار کر صاف چپلیں پہن کر اندر داخل ہوتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا لباس تبدیل کرکے سرجری کرنے کا خاص لباس پہنا اور پھر خصوصی کیمیکل سے اپنے ہاتھ کہنیوں تک اچھی طرح دھوئے۔ اس سب کا مقصد مریض کو کسی بھی انفیکشن سے بچانا تھا۔

ابتدائی حصے میں مریضوں کے ساتھ آنے والے افرادبٹھائے جاتے تھے۔ یہ کمرہ عین آپریشن تھیٹر کے برابر میں تھا اوربیچ میں ایک شیشہ لگا ہوا تھا جس میں سے لوگ یہ دیکھ سکتے تھے کہ ڈاکٹر کس طرح ان کے مریض کا آپریشن کررہے ہیں۔ اس چیز سے مریض کا حوصلہ بھی بلند رہتا تھا اور مریض کے گھر والے بھی مطمئن رہتے تھے۔

ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میں بھی طبی عملے کا خصوصی لباس پہن کر اور منہ پر ماسک لگا کر آپریشن تھیٹر میں داخل ہوگیا۔ مجھے یہ ہدایت کردی گئی تھی کہ مجھے یہاں کسی چیز کو چھونا نہیں ہے۔ اندر طبی عملہ پہلے ہی سے موجود تھا جس نے مریض کی تمام تر ذہنی اور جسمانی تیاریاں مکمل کرلی تھیں جیسے اس کی آنکھ کو سن کرکے آپریشن کے لیے تیار کردیا گیا تھا۔ سامنے کمپیوٹر ڈسپلے پر مریض کے نام سے لے کر ،مرض کی تشخیص اوراس کی مادری زبان تک ہر چیز کی معلومات درج تھیں تاکہ آپریشن میں کسی بھی غلطی یا غلط فہمی کے امکان کو رد کیا جاسکے۔اس کے نیچے مریض کے دل کی دھڑکن، ای سی جی،خون میں آکسیجن کی مقدار وغیرہ ہر چیز لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ ہورہی تھی۔

اس آپریشن میں چونکہ مریض ہوش میں ہوتا ہے اس لیے اس سے گفتگو کے لیے ڈاکٹر صاحب اور عملے کوپاکستان کی تمام زبانوں سے واقفیت تھی تاکہ مریض کو پرسکون رکھا جاسکے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہاں آپریشن کے لیے عالمی معیار کی انتہائی جدید مشینیں اور ٹیکنالوجی موجود ہے۔اس جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے آپریشن کو نہ صرف بہت جلد اور مہارت کے ساتھ کردیا جاتا ہے بلکہ مریض ایک دن بعد ہی اپنے معمولات سر انجام دینے کے قابل ہوجاتا ہے۔

خدائی نعمت

ڈاکٹر صاحب نے میرے سامنے کئی مریضوں کے موتیا کے آپریش کیے۔ وہ مجھے دکھاتے بھی رہے کہ کس طرح وہ آنکھ کے لینز پر بہت ہی باریک کٹ لگاکر پہلے موتیا کو باہر نکالتے تھے اور پھر ایک مصنوعی لینز کو اسی زخم سے آنکھ میں لگادیتے تھے۔

میں یہ دیکھ رہا تھا اور اللہ کی اس عظیم نعمت کا شکریہ ادا کررہا تھا کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانیت پریہ عظیم احسان کیا ہے کہ آج کے انسان اندھے پن سے بچ کر اپنی زندگی نارمل لوگوں کی طرح گزارسکتے ہیں۔ہر چشمہ پہننے والا اپنا چشمہ اتار کر یہ تجربہ کرسکتا ہے کہ اللہ نے کس طرح اس کے جزوی اندھے پن کو دور کررکھا ہے۔ جبکہ موتیا وغیرہ کے مریض بھی اس وقت سے گزرتے ہیں جب ان کی آنکھیں ان کا ساتھ چھوڑنے لگتی ہیں اور پھر ایک نازک آپریشن کے بعد وہ نابینا سے بینا ہوجاتے ہیں۔بلاشبہ ہمارے اندر احساس ہو تو ہمیں سب سے بڑھ کر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں ایسے دور میں پیدا کیا جس میں علاج کی ایسی غیر معمولی سہولیات موجود ہیں اور اس ہسپتال کی شکل میں بعض اہل خیر کے تعاون سے اب غریبوں کی پہنچ میں بھی ہیں۔ یہ سہولیات نہ ہوتیں تو نجانے کتنے لوگ اندھے پن کے ساتھ زندگی گزارتے۔ مگر میں یہ سوچتا ہوں کہ اندھا پن نظر ہی کا نہیں ہوتا، دل کا بھی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر مظہر صاحب نے دوران گفتگو مجھے ایک واقعے کی شکل میں اساتذہ کے اخلاقی انحطاط کا معاملہ ایک ذاتی مثال سے بتایا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو اسلامیات کے استاد سے کوئی سوال کرنا تھا۔استاد نے بچے کو سوال کا جواب دینے کے بجائے جھاڑ دیا۔ بچے نے یہ واقعہ والد کو سنایا اور کہا کہ دیکھیے اب میں یہ سوال اپنی کلاس فیلو لڑکی کے ذریعے سے کرتا ہوں۔ تھوڑی دیر میں بذریعہ ایک نسوانی وجود سوال کا جواب آگیا۔ ڈاکٹر صاحب کو اس پر بہت دکھ تھا کہ یہ واقعہ اسلامیات کے استاد کے حوالے سے پیش آیا۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ اس حوالے سے ہمارا زوال ہمہ گیر ہے، اسلامیات یا کسی دوسرے سبجیکٹ کی کوئی قید نہیں ہے۔ ہاں لوگ اہل دین سے بہتر رویہ کی توقع رکھتے ہیں۔ مگر اہل دین نے جب ایمان و اخلاق کی دعوت کو موضوع نہیں بنایا تو نہ دوسرے بہتر ہوسکتے ہیں نہ وہ بہتر ہوسکتے ہیں۔ ہمارے مسائل کاحل یہی ہے کہ ایمان واخلاق پر مبنی ایک زبردست دعوتی تحریک اٹھے جو لوگوں کو بنیادی اخلاقیات میں اسی طرح حساس بنائے جس طرح قرآن مجید چاہتا ہے۔اس کے سوا ہر دوسرا راستہ تباہی کی طرف جاتا ہے۔

ٹیم ورک

میں نے آپریشن تھیٹر میں یہ بھی دیکھا کہ کس طرح آپریش ٹیم ورک کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی ساری توجہ آپریشن پر تھی جس کے لیے بڑی مہارت کی ضرورت تھی۔ مگر باقی ہر چیز کی ذمہ داری ان کے طبی عملے نے اٹھارکھی تھی۔ مریض کی آنکھ کو سن کرنا، ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ پھیلانے پر ہر ضرورت کی چیز ان کے ہاتھ میں تھمادینا، لینز لگنے کا موقع آنے سے قبل ہی کہے بغیر لینزکو تیار کرکے رکھنا یہ وہ چیزیں تھیں جو اگر ٹھیک طرح نہ کی جائیں تو سرجن کا دھیان بٹانے کا سبب بنیں گی اور آپریشن ناکام ہوسکتا ہے۔

یہی چیز ہر اجتماعی معاملے میں ہوتی ہے۔ہر جگہ صف اول کے لوگوں کے پیچھے صف دوم کے لوگ خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں۔ اگر وہ اپنا کام نہ کریں تو کوئی اجتماعی کام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ قومیں جس طرح اعلیٰ ترین لوگوں کی محتاج ہوتی ہیں اس طرح صف دوم کے لوگوں کی بھی محتاج ہوتی ہیں۔

تجارتی معاملات میں صف اول اور صف دوم دونوں طرح کے لوگ معاوضے کے عوض دستیاب ہوجاتے ہیں، مگر غیر تجارتی معاملات میں صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ یہاں صف اول کے لوگ خدا کے قانون کے مطابق اکا دکا پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن صف دوم کے لوگوں کو صورتحال کو سمجھ کر ان کا ساتھ دینے کے لیے خود آگے آنا پڑتاہے۔ وہ اگر آگے نہیں آتے تو بڑی سے بڑی صلاحیت کا شخص ناکام ہوجاتا ہے۔

زندہ خلیے اور شعور سازی پر انفاق کی ضرورت

میں تین چار آپریشن دیکھنے کے بعد دوبارہ ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں انتظار کے لیے آگیا۔وہاں نثار صاحب جو ادارے کے مینیجر ہیں ان سے کچھ گفتگو ہوئی۔ انھوں نے اپنے بیرون ملک قیام کے کچھ واقعات سنائے۔ان میں سے ایک واقعہ نوے کی دہائی کا تھا جب سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد وسط ایشیائی مسلم ریاستیں آزاد ہوئی تھیں۔ اس زمانے میں بہت سے پاکستانی تعلیم اور تجارت کے لیے وہاں جانا شروع ہوئے۔اس زمانے میں بہت سے پاکستانی جو وہاں گئے انھوں نے وہاں کی خواتین سے جو سرخ و سفید رنگ اور اچھے قد وقامت کی بنا پر، پرکشش ہوتی تھیں، کافی تعداد میں شادیاں کیں مگر پھر ان کو چھوڑ کر پاکستان لوٹ آئے۔ نثار صاحب نے اپنے سامنے کا ایک ایسا ہی ایک واقعہ بتایا جب ایک پاکستانی ایک مقامی لڑکی کوواپس آکر لے جانے کا وعدہ کرکے روتا ہوا چھوڑ آیا۔ جہاز میں نثار صاحب نے اس سے پوچھا تو اس نے کہاکہ وہ تو پہلے ہی بال بچوں والا ہے اور اس نے یہ شادی ٹائم پاس کرنے کے لیے کی تھی۔

بعد میں ڈاکٹر مظہر صاحب آپریشن سے فارغ ہوکر تشریف لے آئے تو ہمارے اخلاقی زوال پر بات ہونے لگی۔ میں نے اس موقع پر یہ توجہ دلائی کہ جس طرح میں نے اپنی کتاب عروج و زوال کا قانون میں لکھا ہے کہ اس اخلاقی زوال کے باوجود ہمارے ہاں بڑی تعداد میں اعلیٰ لوگوں کے پیدا ہوتے رہنے کا سبب یہ ہے کہ ہم اپنی قومی زندگی کے ابتدائی دور میں ہیں۔ گویا کہ ہماری کیفیت ایک نوجوان کی ہے جسے امراض نے گھیر لیا ہے ۔ مگر مسلسل زندہ خلیے پیدا ہوکر بیماری کا مقابلہ کررہے ہیں۔ تاہم اگر بیماری زیادہ بڑھی تو پھر یہ زندہ خلیے بھی ایک ایک کرکے مر جائیں گے۔ اس صورتحال کوروکنے کا طریقہ یہی ہے کہ ایمان و اخلاق کی دعوت بڑے پیمانے پر برپا کی جائے تاکہ بڑی تعداد میں زندہ لوگ پیدا ہوکر اس اخلاقی زوال کا خاتمہ کرسکیں۔

دوران گفتگو یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ ہمارے ہاں لوگ بڑی تعداد میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ مگر اس کا بہت بڑا حصہ مساجد کی تعمیر اور ان میں اعلیٰ ترین سہولیات کی فراہمی پر خرچ ہوجاتا ہے۔ اب اے سی ، جنریٹر، قالین، گنبد وغیرہ پر بہت پیسے خرچ ہوتے ہیں۔ حالانکہ اس وقت سب سے زیادہ خرچ کی ضرورت شعور سازی اور انسان سازی کے کام پر کرنے کی ہے۔ اس وقت ہمارے ہاں پیدا ہونے والے ڈاکٹر مظہر صاحب جیسے اعلیٰ لوگ کسی تربیتی ادارے کا نتیجہ نہیں بلکہ خدائی قانون کے تحت پیدا ہورہے ہیں۔ لیکن اگر شعور سازی اور تربیت کا عمل شروع کیا جائے اور ایمان واخلاق کی دعوت کے فروغ کا کام کیا جائے تو بڑی تعداد میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زندگی کے ہر شعبے میں خیر اور معاشرے کی ترقی کا باعث ہوں گے۔

ایک شاندار ادارہ

دوپہر کا کھانا بھی ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کھایا۔ یہ بھی ایک دلچسپ مرحلہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میں کیفے ٹیریا گیا۔ یہاں اصول ہے کہ تمام اسٹاف کا کھانا ہسپتال کی طرف سے مفت فراہم کیا جاتا ہے اور صفائی کا بھی غیر معمولی اہتمام ہے۔ سب لوگ کھانا کھاکر اپنے برتن وغیرہ خود دھوتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنے اسٹاف کا بے حد خیال کرتے ہیں۔ اسی لیے میں نے یہ دیکھا ہے کہ جن لوگوں نے برسہا برس پہلے ان کو جوائن کیا تھا وہ آج کے دن تک ان کے ادارے میں موجود ہیں۔

میں شام تک اس ادارے میں رہا۔ دل سے ڈاکٹر صاحب اور ان لوگوں کے لیے دعائیں نکلیں جنھوں نے اپنی زندگی اور مال کو ان کاموں کے لیے وقف کردیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر مظہر صاحب نے ایک قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔ ہمارے ملک کو ڈاکٹر صاحب جیسی شخصیات اور ان کے ہسپتال جیسے اداروں کی بہت ضرور ت ہے۔ اللہ نے چاہا تو خیر کا یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہے گا۔

جہاں رہیں اللہ کے بندوں کے لیے باعث رحمت بن کر رہیں۔اللہ نگہبان۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -