گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 36

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 36

  


بعد کے ایام کا ذکر ہے کہ جب میں دہلی میں تھا تو ایک دن ہندوستان کے چیف جسٹس سرپیٹرک سپنس (اب لارڈ سپنس ) اور لیڈی سپنس کے ساتھ شکار کے لیے نکلا۔مقامی اہلکار ہمیں لے کر ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں ان کے خیال میں شکار بہت تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو پرندوں کے تحفظ کا علاقہ تھا اور وہاں کسی شخص کو شکار کھیلنے کی اجازت نہ تھی۔ مجھ سے جو حرکت نادانستہ طور پر سر زد ہوئی تھی میں اس پر نہایت شرمندہ ہوا۔ لیکن سر پیٹرک سے یہ بات کہنے کہ مجھے جرأت نہ ہوئی کیونکہ وہ مجھے ہرگز معاف نہ کرتے۔ آزادی کے کئی برس بعد جب سردار عبدالرب نشتر پنجاب کے گورنر تھے ایک گیم وارڈن انہیں شکار کیلئے ایک ایسے علاقے میں لے گیا جہاں شکار کھیلنا ممنوع تھا۔ انہیں جب یہ معلوم ہوا تو اہل کاروں پر خوب برسے ۔ یہ بیوقوف لوگ حکام سے غیر قانونی حرکات کا ارتقاب کراکر سمجھتے کہ ہم نے بڑی نیکی کی ہے۔ سر ولیم برڈوڈ کی بابت مشہور ہے کہ انہوں نے بہاول پور میں شکار کے دوران میں ایک تیتر مارا اور جب اُٹھا کر دیکھا تو اس کے پاؤں میں دھاگا بندھا ہوا تھا ۔ سرولیم نے بندوق وہیں پھینک دی اور سرجھکا کر گھر واپس آگئے۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 35 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہائیکورٹ میں میں نے بہت اچھا وقت گزارا۔ پارلیمنٹ کا رکن ہونے اور تقریر یں کرنے سے قانون کے پیشہ میں بہت مدد ملتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس سے مجمع کو خطاب کرنے کی تربیت ملتی ہے بلکہ اخباروں کے ذریعے شہرت بھی خوب ہوتی ہے۔ میں نے جنوری ۱۹۲۱ء سے جنوری ۱۹۲۷ء تک ، وزیر بننے سے پہلے، ہائیکورٹ میں پریکٹس کی تھی۔ میرا کام کافی نفع بخش تھا اور میں اس حیثیت میں تھا کہ حسبِ منشا فیس طلب کر سکتا تھا۔ میری فیس ہر مقدمہ کیلئے ایک ہزار روپیہ یومیہ تھی جو آج کے پانچ ہزار روپوں کے برابر ہے۔ اکثر مقدمے زیادہ محنت طلب نہیں ہوتے تھے بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی سے ان کا تعلق ہوا کرتا تھا۔ یعنی دیہات میں آپس کی عداوتیں ، مویشیوں کی چوری ، قتل اور اغوا کی وارداتیں جن میں مقامی پولیس دیہات کے بہترین آدمیوں کی زندگی بنا بھی سکتی تھی اور بگاڑ بھی سکتی تھی ۔ وہ لوگ پیسہ اینٹھنے یا حکام بالا کو خوش کرنے کیلئے معصوم آدمیوں کو ملوث کرنے کے فن میں کامل دستگاہ رکھتے ہیں۔ قدرتی بات ہے کہ ایمان دار پولیس والے بھی موجود ہیں۔ یہاں پوری پولیس سروس کی توہین مقصود نہیں۔

مجھے انڈین سول سروس کے رکن مسٹر جسٹس ہیری سن یاد ہیں۔ جو جوانی میں میرے والد کے ساتھ ہی ضلع میں تعینات ہوئے تھے اور مجھ سے باپ کی سی شفقت کرتے تھے۔ ایک دن میں مسٹر جسٹس ہیری سن کے سامنے ضلع نٹگمری کے ایک مقدمہ کے سلسلے میں پیش ہوا۔ دراصل ایک اونٹ چوری ہو گیا تھا۔ بعد میں چور کا سراغ مل گیا اور اس نے اونٹ کی واپسی کا وعدہ بھی کر لیا ۔ لیکن وہ ڈرتا تھا کہ اگر خود اونٹ واپس کیا تو ممکن ہے دھرلیا جائے۔ آخر پولیس نے اس کے معتمد ساتھیوں میں سے ایک شخص کو تلا ش کیا اور اس سے کہا کہ اونٹ واپس پہنچا دے۔ وہ شخص اونٹ کو لے کر تھانہ کی طرف آرہا تھا کہ پولیس نے اسے راستے ہی میں دھر لیا اور مسروقہ مال رکھنے پر اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ بے چارے کو سزا ہو گئی۔ اس نے اپیل کی تو وہ بھی مستردکر دی گئی۔ میں نے نظرثانی کی درخواست دی اور مسٹرجسٹس ہیری سن کی عدالت میں یہ دلیل پیش کی کہ درخواست دہندہ نے اونٹ کو پولیس کی جانب سے اپنے قبضہ میں لیا تھا ۔ وہ تو محض ایک کارندہ تھا۔ مسٹر ہیری سن مسکرائے ، نظرثانی کی درخواست انہوں نے منظور کر لی اور بعد میں اس شخص کو رہا کر دیا۔

ایک دن ضلع ڈیرہ غازی خان کے ایک معزز بزرگ چھپتے چھپاتے ساڑھے تین سو میل کا فاصلہ پیدل طے کر کے میرے پاس پہنچے اور کہا کہ مقامی پولیس نے میرے دشمنوں کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کرلی ہے اور وہ سب مجھے گرفتار کرکے اور حوالات میں بند کرکے خواہ وہ ایک ہی دن کے لئے ہو بے عزت کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں قانون کی منصفانہ کارروائی سے گریز نہیں کرنا چاہتا، لیکن یہ بھی نہیں چاہتا کہ مجھے خواہ مخواہ ذلیل کیا جائے۔ میں نے مسٹر جسٹس موتی ساگر کی عدالت میں درخواست دی اور پانچ ہی منٹ کے اندر ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرالی کیونکہ تعزیرات ہند میں اس کی گنجائش موجود تھی۔

ایک مسٹر جسٹس براڈوے تھے۔ ان کے والد پولیس کی ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد سرگودھا میں مقیم ہوگئے تھے۔ جہاں میں بھی تین سال گزارچکا تھا اور انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ لاہور میں میرے بیٹے سے ضرور ملنا۔ بڑے میاں مسٹر براڈوے، کوئی 90 سال کے پیٹے میں تھے۔ خاصی لمبی داڑھی تھی اور ضلع شاہ پور کے سارے کسانوں کو جانتے تھے۔ جب میں مسٹر جسٹس براڈوے سے ملاقات کے لئے گیا تو اتوار کا دن اور صبح کا وقت تھا۔ وہ اپنے مکان کے دفتر میں بیٹھے تھے۔ پہلا سوال انہوں نے یہ کیا ’’اس ملاقات سے تمہارا مطلب کیا ہے؟‘‘

دوسرے لفظوں میں تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا ’’کچھ نہیں‘‘

چند منٹ بعد انہوں نے پھر وہی سوال دہرایا اور میں نے دہی جواب دیا۔ اور پھر جب انہوں نے تیسری بار پھر یہی بات کہی تو میں نے جواب دیا کہ میں صرف اس لئے ملاقات کو حاضر ہوا ہوں کہ آپ کے والد نے جن سے میری شناسائی ہے، مجھے آپ سے ملنے اور ہدیہ احترام پیش کرنے کا مشورہ دیا تھا، میری یہ بات انہوں نے ایک خوشگوار حیرت کے ساتھ سنی، فوراً ساتھ لے کر ڈرائنگ روم میں گئے اور ہم وہاں کوئی بیس منٹ تک باتیں کرتے رہے۔ یہ ان کے لئے ایک خوشگوار تجربہ تھا کیونکہ کوئی ہندوستانی کسی انگریز افسر سے کسی مطلب کے بغیر ملاقات کے لئے کبھی نہیں گیا تھا۔ میرے ہم وطن اتنے دانشمند نہیں تھے کہ پہلے دوستانہ مراسم پیدا کرتے اور دوسری بات ملاقات میں حرف مدعازبان پر لاتے۔ بہرحال اس سے بہتر بات یہ ہے کہ سرے سے کچھ طلب ہی نہ کیا جائے۔ یورپی افسر عام طور پر ہندوستانیوں کے ساتھ ایک خاص فاصلہ قائم رکھتے تھے کیونکہ یورپی افسر عام طور پر ہندوستانی کسی درخواست کے بغیر ملاقات کے لئے نہیں آتے۔(جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 37 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فادرآف گوادر


loading...