اقوام متحدہ کااہلکاروں کو روہنگیا کا مسئلہ میانمارکے ساتھ اٹھانے سے روکنے کا انکشاف

اقوام متحدہ کااہلکاروں کو روہنگیا کا مسئلہ میانمارکے ساتھ اٹھانے سے روکنے ...
اقوام متحدہ کااہلکاروں کو روہنگیا کا مسئلہ میانمارکے ساتھ اٹھانے سے روکنے کا انکشاف

  

نیویارک(این این آئی)اقوامِ متحدہ اور امدادی کارکنوں نے بتایا ہے کہ میانمار میں اقوام متحدہ کی قیادت نے روہنگیا کے حقوق کے معاملات کو حکومت کے سامنے اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

لبنان ، احمد الاسیر سمیت کئی شدت پسندوں کو سزائے موت

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک سابق عہدے دار نے کہا کہ میانمار میں اقوام متحدہ کے سربراہ نے انسانی حقوق کے کارکنوں کو روہنگیا کے حساس علاقوں کا دورہ کرنے سے روکنے کی کوشش کی اوراس معاملے پر لوگوں کو آواز اٹھانے سے بھی روکاجبکہ عملے کے ان ارکان کو الگ تھلگ کر دیا جنھوں نے خبردار کیا تھا کہ وہاں نسل کشی کی جا رہی ہے،ایک امدادی کارکن کیرولین وانڈینابیلے نے اس سے قبل بھی اس قسم کے خطرے کے نشانات دیکھے تھے۔ انھوں نے 1993 اور 94 میں روانڈا میں ہونے والی نسل کشی کے موقعس پر وہاں کام کیا تھا اور کہا کہ جب وہ میانمار آئیں تو انھیں یہاں بھی اسی قسم کی پریشان کن مماثلت دیکھیں۔ کچھ برمی تارکینِ وطن اور تجارتی برادری کے لوگوں سے رخائن ریاست اور روہنگیا کے بارے میں بات کر رہی تھی کہ ان میں سے ایک نے کہاکہ ہمیں انھیں یوں قتل کر دینا چاہیے جیسے وہ کتے ہوں۔

اب میانمار میں اقوامِ متحدہ کے اندرونی طریقہ کار کی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ خود اس ادارے کے اندر بھی روہنگیا کے مسائل کو بالائے طاق رکھا جاتا رہا ہے۔میانمار میں امدادی کارکنوں کی برادری کے متعدد اراکین نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں روہنگیا کے حقوق کی پاسداری کے بارے میں برمی حکام سے بات کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -