روس اور ترکی کے مابین شام میں جاری جنگ ختم کرنے کی کوششوں پر اتفاق

روس اور ترکی کے مابین شام میں جاری جنگ ختم کرنے کی کوششوں پر اتفاق
روس اور ترکی کے مابین شام میں جاری جنگ ختم کرنے کی کوششوں پر اتفاق

  

انقرہ (ڈیلی پاکستان آ ن لائن) روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ انقرہ میں  ملاقات کی جس میں دونوں رہنماوں نے شام میں امن کے قیام اور جنگ کے خاتمے پر اتفاق کیا ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ انقرہ میں ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک اس بات کے حامی ہیں کے شامی شہر ادلب سے دہشتگردوں کی سر گرمی ختم ہونی چاہیے جہاں جہادی قابض ہیں۔ پیوٹن نے اسی پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ماسکو اور انقرہ حکومتیں شام میں جاری خانہ جنگی کی صورتحال کے خاتمے کے لیے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں امن مذاکرات کی تجویز پیش کی ہے اور زوردیا ہے کہ شام میں جاری کشیدگی کو کم کیا جائے خاص طور پر ادلب پر فوکس کرنا ضروری ہے۔

روسی صدر ولادیمیرپیوٹن نے شامی تنازعے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا روس اور ترکی باہمی ہم آہنگی کو مضبوط کریں گے اور ان کے مطابق شام میں جاری چھ سالہ خانہ جنگی کے تنازعے کے خاتمے کے لئے اب صورت حال واضح ہونا شروع ہو گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کے خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مناسب شرائط کو سامنے لانا ضروری ہے اور انہی سے دہشت گردوں کو حتمی شکست دینے سے خانہ جنگی کا مکمل خاتمہ ممکن ہو گا۔پیوٹن کے مطابق شام میں جنگی حالات کے بہتر ہونے کی صورت میں شامی شہری پرامن زندگی گزار سکیں گے اور اپنے اپنے گھروں کی جانب واپس لوٹ سکیں۔ پریس کانفرنس میں روسی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شام میں تمام دہشت گردوں کا صفایا اور شامیوں کے لیے پرامن زندگی کا نیا آغاز کوئی آسان کام نہیں ہے۔

واضح رہے کچھ عرصہ قبل تک ترکی اور روس شامی تنازعے پر ایک دوسرے کے مخالف حریف تھے۔ روس صدر بشارالاسد کا حلیف ہے جب کہ ترکی باغیوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -اہم خبریں -