کیا مولانا محمد حنیف کو شہید کر کے مولانا فضل الرحمٰن کو پیغام دیا گیا

کیا مولانا محمد حنیف کو شہید کر کے مولانا فضل الرحمٰن کو پیغام دیا گیا

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

مولانا فضل الرحمن کے ”آزادی مارچ“ کے تناظر میں چمن دھماکے میں مولانا محمد حنیف کی شہادت نے بہت سے سوالات اٹھا دئے ہیں پہلا اور اہم سوال تو یہی ہے کہ کیا انہیں نشانہ بنا کر شہید کیا گیا کیونکہ جس موٹر سائیکل میں بم نصب تھا وہ ان کے دفتر کے باہر کھڑی کی گئی تھی، دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا دھماکہ کرنے والے مولانا اور ان کے ساتھیوں کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ ”اب بھی“ آزادی مارچ روک دیں ورنہ زیادہ نقصان بھی ہو سکتا ہے، لیکن دوسری جانب کیا مولانا اس ایک دھماکے سے خوف زدہ ہو کر اپنا آزادی مارچ منسوخ یا ملتوی کر دینگے جو اب تک کے تمام تر ”سنہری مشوروں“کے باوجود مارچ ملتوی کرنے پر تیار نہیں ہوئے حکومت میں اس وقت دو قسم کے لوگ ہیں جو اپنے اپنے انداز میں مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو تضحیک کا نشانہ بنا رہے ہیں ان میں ایک خاتون معاون خصوصی بار بار وزراء کالونی کے بنگلہ نمبر22کا ذکر کر رہی ہیں جہاں مولانا کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے مقیم تھے اس کمیٹی کا جو بھی چیئرمین رہا وہ کسی نہ کسی بنگلے میں ہی رہا، نوابزادہ نصر اللہ بھی وزراء کا لونی میں رہتے تھے، کمیٹیوں کے چیئرمینوں کو یہ استحقاق حاصل ہے ورنہ بہت سے مشیر اور معاون خصوصی بھی ادھر نظریں جمائے بیٹھے ہیں انہیں بنگلہ نہیں ملتا حالانکہ وہ اپوزیشن کورگیدنے کا کام تسلی بخش طریقے سے کر رہے ہیں، بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مولانا کو اگر کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا جائے اور اس حیثیت میں انہیں بنگلہ الاٹ کر دیا جائے تو وہ یہ مارچ ملتوی کر دینگے لیکن یہ تجویز دینے والے شاید یہ نہیں سوچتے کہ مولانا تو اس وقت قومی اسمبلی کے رکن ہی نہیں ہیں وہ کسی کمیٹی کے چیئرمین کیسے بن سکتے ہیں، انہوں نے تو ضمنی الیکشن بھی نہیں لڑا تھا کیونکہ ان کے خیال میں یہ الیکشن سرے سے ہی جعلی تھے اسی لئے انہوں نے اپوزیشن کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ اسمبلیوں کی رکنیت کا حلف نہ اٹھایا جائے ان کا خیال تھا کہ اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ایک سو کے قریب ارکان اگر حلف نہیں اٹھائیں گے تو کاروبار حکومت نہیں چل سکے گا لیکن دونوں بڑی پارلیمانی اپوزیشن جماعتیں حلف اٹھانے کے حق میں تھیں کیونکہ ان کے خیال میں اس طرح وہ حکومت مخالف سیاست بہتر انداز میں کر سکتی تھیں لیکن حالات نے ثابت کیا کہ ایسا نہیں تھا کیونکہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف سمیت اپوزیشن جماعتوں کے اہم ارکان یکے بعد دیگرے گرفتار ہوتے چلے گئے اور مزید گرفتاریوں کا خدشہ بھی ہے گرفتار ہونے والوں میں سے بعض کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جاتے ہیں اور بعض کے نہیں، اپوزیشن ارکان کا خیال ہے کہ سپیکر ایسا وزیر اعظم کی ہدایت پر کرتے ہیں۔ اب شیخ رشید احمد کی ایک مضحکہ خیز تجویز سامنے آتی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اگر آزادی مارچ ملتوی کر دیں تو حکومت انہیں ”فیس سیونگ“ دینے کے لئے تیار ہے، شیخ صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس انداز کو فیس سیونگ نہیں منہ پر کالک ملنا کہتے ہیں فیس سیونگ دینے کا طریقہ اس طرح نہیں ہوتا ویسے بھی مولانا اس کے طلبگار نہیں وہ تو کسی بھی اپوزیشن جماعت کی حمایت کے بغیر ہی آزادی مارچ کرنا چاہتے ہیں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی یہ مارچ موخر کرنا چاہتی ہیں اس کے باوجود مولانا اپنے فیصلے میں اٹل ہیں اور اب تک مولانا یہی کہہ رہے ہیں کہ کوئی ہمارے ساتھ آئے نہ آئے ہم اپنا مارچ طے شدہ پروگرام کے مطابق کرینگے، مولانا محمد حنیف کی شہادت کے بعد یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنا مارچ پروگرام کے مطابق کریں کیونکہ اگر اب انہوں نے مارچ ملتوی کیا تو جن لوگوں نے دھماکا کیا وہ اسے اپنی کا میابی سمجھیں گے اور یہ پروپیگنڈہ بھی ہو گا کہ مولانا کی ساری بہادری ایک دھماکے کی نذر ہو گئی مولانا حنیف کو شہید کرنے والے کون تھے افغان انتخاب کی وجہ سے دو روز کے لئے افغانستان کے ساتھ بارڈر تو بند تھا اس لئے یہ لوگ افغانستان سے تو نہیں آئے ہوں گے یہ مقامی لوگ ہی ہو سکتے ہیں جنہوں نے موٹر سائیکل دھماکہ کر دیا، اگر یہ افغان ہیں تو سرحد بند ہونے سے پہلے آئے ہوں گے ایسے دھماکے بلوچستان کے شہروں ہی میں ہوتے ہیں کہیں سائیکل اور کہیں موٹر سائیکل استعمال ہوتی ہے۔ تحقیقاتی اداروں کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے یہ دھماکہ کیا البتہ فیس سیونگ دینے والے اپنی اداؤں پر غور کریں تو بہتر ہو گا۔

پیغام

مزید : تجزیہ


loading...