بے حیائی کی انتہا

بے حیائی کی انتہا
بے حیائی کی انتہا

  

میرے ایک دوست نے ہمارے معاشرے کے دو بڑے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس ملک میں جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر اور گلی گلی پھرتی بے حیائی ہمارے ملک کے سب سے بڑے مسائل ہیں۔ میرے دوست نے کوڑے کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔ لیکن مقام شکر کہ بے حیائی کی تشہیر معہ تصاویر نہیں کی۔ 

یہ خاکسار اس وقت سے سوچ رہا ہے کہ ان مسائل کا حل کیسے ڈھونڈا جائے، جہاں تک میری سوچ کی پہنچ ہے اس کے مطابق صفائی کے متعلق میرا خیال یہ ہے کہ اول کوڑے کو ٹھکانے لگانے یا اس کو ریسائیکلنگ کا بندوبست کیے بغیر ہم اس ملک کو صاف نہیں کر سکتے ہیں۔ اور یہ کام حکومت کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اربوں روپے کا منصوبہ ہے۔ اگر حکومت اس مسلے کو حل کرنے میں سنجیدہ ہو تو کسی ایسے ملک جہاں ریسائکلنگ کا کام ہو رہا ہے کی کسی فرم کے ساتھ معائدہ کر لے پنجاب کی  سابقہ حکومت نے ترکی کی کسی فرم کے ساتھ معائدہ کیا تھا۔ لیکن اس معائدے میں کرپشن کا الزام لگا اور پاکستان کو اربوں کا نقصان پہنچایا گیا، ایسے معائدے شفاف ہونے چاہئیں۔ اس بابت دوئم یہ کہ اپنی قوم کی ہر سطح پر تربیت کی جائے اور ان کو صفائی پسند قوم بنایا جائے اس کام کا آغاز  مساجد اور تعلیمی اداروں سے کیا جائے پھر تمام عوامی مقامات پر ملازم کھڑے کیے جائیں جو لوگوں کو سمجھائیں کہ کوڑا بایر پھینکنے کی بجائے کوڑے دان کے اندر پھینکیں، ظاہر ہے اس کے لیے شہر میں جگہ جگہ کوڑے دان بھی لگانے ہوں گے اور ان کو وقت پر خالی بھی کرنا ہوگا۔

اب آتے ہیں بیحیائی کی طرف  وطن عزیز میں بہت لوگ  بے حیائی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ اور آئے روز اس کے خلاف آواز بھی اٹھاتے ہیں۔ مولوی حضرات تو ہر مسلے کی جڑ بھی اسی مسلے کو سمجھتے ہیں۔ ہاں واقعی اب یہ ملک بے حیائی کا مسکن بن  چکا ہے۔ جدھر جائیں بے حیائی آگے پر پھیلائے کھڑی نظر آتی ہے۔ اس کا خاتمہ بے حد ضروری ہے۔ لیکن بے حیائی کا جن اب قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ کیونکہ بے حیائی  ہمارے معاشرے کے ہر شعبے میں سرایت کر چکی ہے۔ ہر دفتر میں رشوت لینا سب سے بڑی بے حیائی ہے۔ اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا بے حیائی ہے۔ سیاستدانوں کا اپنا کام چھوڑ کر اداروں میں مداخلت کرنا بے حیائی ہے۔ عدالتوں کا عوام کو انصاف نہ دینا بے حیائی ہے۔ پیسے لیکر یا ذاتی مفاد کے لیے ووٹ دینا بے حیائی ہے۔ اپنی بہن بیٹیوں کا احترام نہ کرنا بے حیائی ہے۔ خواتین کو ان کے حقوق نہ دینا بے حیائی ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک میں جس قدر بے حیائی ہے اس کی دنیا میں کہیں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ سڑکوں پر تمام گاڑیاں ننگی پھرتی اور ننگی جارحیت کرتی نظر آتی ہیں۔ اور جا بجا موٹر سائیکل گاڑی کو چھیڑ رہے ہوتے ہیں ان کو تو ذرا برابر بھی شرم نہیں آتی ہے۔

دوسروں کی زمینوں پر قبضے کرنا بے حیائی ہے۔ تعلیمی اداروں میں امتحانات کے موقع پر نقل لگانا بے حیائی ہے۔ سرکاری ملازمین کا کام چوری کرنا بے حیائی ہے۔ ملک میں چوریاں اور ڈکیتیاں کرنا بہت بڑی بے حیائی ہے ہر چیز میں ملاوٹ کرنا بے حیائی ہے گدھوں کو بکرے کر کے بیچنا بے حیائی ہے۔ اپنے ذاتی مفاد کو قومی پر ترجیح دینا بے حیائی ہے۔ بچوں سے کام لینا، ان پر تشدد کرنا اور ان کی تعلئم کا بندوست نہ کرنا بڑی بے حیائی ہے ملک سے بندوں کو اٹھا کر غائب کر دینا بے حیائی ہے۔ چیف جسٹس صاحبان کا عدالتی نظام ٹھیک کرنے کی بجائے از خود نوٹس لینا اور  دوسرے اداروں پر چھاپے مارنا، حکومت اور اپوزیشن سے لیکر عام آدمی تک بات بات پر جھوٹ بولنا بے حیائی ہے۔ مدرسوں کے اندر قرآن پڑھانے کی آڑ میں معصوم بچوں کا ریپ سب سے بڑی بے حیائی ہے۔ موٹر وے پر کھڑی گاڑیوں سے خواتین کو بچوں سمیت زبردستی اغوا کرنا اور بچوں کے سامنے ان کی ماں کا ریپ کرنا اس سے بڑی بھی کوئی بے حیائی ہو سکتی ہے؟؟ ہماری قومی اسمبلی کے اندر جب بھی کسی مسلے پر بحث ہوتی ہے تو وہاں سب اس قدر بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کہ شریف لوگ اسمبلی کی کاروائی دیکھ کر خود کو معصوم سمجھنے لگتے ہیں۔ ٹیکس چوری کرنا بے حیائی ہے۔کسی پر ظلم ہوتا ہوا دیکھ کر خاموشی اختیار کی رکھنا بے حیائی ہے۔ جھوٹی گواہیاں دینا بے حیائی ہے۔  ملک کے چپے چپے پر مانگنا بے حیائی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے لیڈران کا آدھی رات کو ممبر سازی کرنا بے حیائی ہے۔ فوج کا سیاسی معاملات میں طاقت کے زور پر مداخلت کرنا بے حیائی ہے۔ 

بحیثیت مجموعی ہم بے حیا قوم بن چکے ہیں۔ اب اس بے حیائی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے۔ اس کے لیے کوڑا اٹھانے اور ریسائکلنگ کرنے سے پہلے اس بے حیائی کی ریسائکلنگ زیادہ ضروری ہے۔ اس کے لیے ملک کا نظام بدلنا ہوگا، اداروں پر چیک اینڈ بیلنس کا درست انتظام نہ کیا جانا بے حیائی ہے۔  

معاشرتی اقدار تبدیل ہو گئی ہیں، اب تو بے حیائی کو بے حیائی کہنے والے کم ہو گئے ہیں۔مجموعی طور پر معاشرتی برائیوں کو روکنا ہوگا اور اس کے لئے ہم سب کو مل کر کوشش کرنا ہوگی۔

مزید :

رائے -کالم -