جارحیت اور مدافعت کے رنگ

جارحیت اور مدافعت کے رنگ
جارحیت اور مدافعت کے رنگ

  

جنگ یا لڑائی کی کوئی بھی قسم ہو، اس میں حملے کا کوئی بھی انداز ہو، ہدف کا نقصان بنیادی مقصد ہوتا ہے، مگر دو تین عشرے قبل دہشت گردی کی لہر کے دوران حملے کی نئی قسم روشناس ہوئی جس میں ہدف کا نقصان تو غیر یقینی تھا مگر حملہ آور کا خاتمہ لازمی تھا۔ یہ تھا خود کش حملہ …… ان حملوں میں بلا شبہ اہداف کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا مگر حملہ آوروں میں سے کوئی بچا نہیں۔ پاک فوج کی قربانیوں اور حکومتی حکمت عملی میں تبدیلی کے نتیجے میں خدا خدا کر کے خودکش حملوں کا سلسلہ تو رکا،  مگر ”خود کش حملے“ کی اصطلاح نے ہماری سماجی و سیاسی زندگی میں مستقل جگہ بنا لی ہے۔ جب بھی کوئی بندہ یا بندی جذبات میں، غصے میں یا فرسٹریشن میں اپنے سے تگڑے یا تگڑی کے سامنے، نا قابل برداشت ”ان کہی“ ببانگ دہل کہہ ڈالے تو اسے خودکش حملہ کہہ دیا جاتا ہے جس میں تگڑے کا تو بگڑتا کچھ نہیں اور بندے کا بچتا کچھ نہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال کل پارٹی کانفرنس میں سابق وزیر اعظم اور قائد مسلم لیگ (ن) میاں نوازشریف کی تقریر کہی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں اپنی سیاست کا خاتمہ کر لیا ہے۔ اب وہ کبھی وطن واپس نہیں آ سکیں گے۔ ان کا حال ایم کیو ایم کے بانی قائد الطاف حسین والا ہوگا۔ وہ بھی لندن میں ہیں۔ اسی طرح کی مقتدرہ مخالف تقاریر کے نتیجے میں ان کی پاکستان میں سیاست ختم ہو گئی۔ جہاں ان کے اشارے پر لوگ جیتے مرتے اور مارتے تھے وہاں ان کا نام لینا مشکل ہو گیا۔

 دوسری رائے یہ ہے کہ مقتدرہ نے ان کا کیا کر لیا؟ انہیں پکڑوا سکے نہ برطانیہ سے نکلوا سکے، وطن واپس لا سکے نہ سزا دلوا سکے۔ اسی طرح میاں نوازشریف کا کیا بگاڑ لیں گے؟ اس حوالے سے دلائل اپنے اپنے ہیں، مگر دل لگتی بات یہ ہے کہ دونوں باتیں پوری طرح درست نہیں ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ الطاف حسین ہوں یا نوازشریف، دونوں ”سیاسی پرندے“ (Political Birds) ہیں۔ سیاست کے بغیر ان کی زندگی کوئی زندگی نہیں۔ ملک میں تاجر، صنعتکار، مالدار سینکڑوں ہزاروں ہیں۔ الطاف حسین کی جو اہمیت تھی، وہ سیاسی حیثیت کی وجہ سے تھی۔ اسی طرح اگر میاں نواز شریف کی کوئی اہمیت ہے تو ان کی سیاسی پوزیشن اور پارٹی کی وجہ سے ہے۔ اگر ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) تتر بتر ہو جائے، ان کے ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ کر گوشہ نشین ہو جائیں یا راستہ بدل جائیں تو نوازشریف نام کا آدمی بھی لندن، دبئی، پیرس میں برگر شرگر  ہی کھاتا پایا جائے گا۔ ”تیرے جانثار، بے شمار بے شمار“ کے نعرے ”کبھی ہوتا تھا“ جیسے تبصروں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ اس کا انتظام شروع بھی کر دیا گیا ہے۔ کامیاب اے پی سی میں انقلابی خطاب کر کے میاں نواز شریف نے جو میلہ لوٹا تھا، اس کے اثرات زائل کرنے اور سابق وزیراعظم کو مزید سبق سکھانے کے اقدامات سامنے آنے لگے ہیں۔

اے پی سی سے چار پانچ دن قبل ہونے والی ملاقاتوں کو طشت از بام کر کے ”انقلابیت کی ساری ہوا نکال دی گئی ہے۔ جارحانہ موڈ میں آئے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں کو مدافعانہ رویہ اختیار کرنا پڑا ہے۔ وہ حملے کرنے کی بجائے اپنی وضاحتیں پیش کرنے میں لگ گئے ہیں۔ تردید کر نہیں پا رہے،  وضاحتیں جچ نہیں رہیں۔بس آئیں بائیں شائیں سے کام چلایا جا رہا ہے۔ ادھر مریم نواز نے ان ملاقاتوں کو غلط اور بلا جواز قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ ملاقات کرنے والوں کو نہیں جانا چاہئے تھا۔ ملاقات کرنے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور مریم نواز کے چچا میاں شہباز شریف بھی شامل تھے۔ مریم نواز خود ان کی نائب صدر ہیں تو کیا انہوں نے پارٹی صدر اور اپنے چچا کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا ہے؟ کیا ان کے اس دو ٹوک مؤقف کے بعد چچا بھتیجی کا اکٹھے چلنا ممکن رہے گا؟ اور کیا شیخ رشید کی پیشگوئی پوری ہونے جا رہی ہے کہ (ن) اور (ش) لیگیں الگ ہو رہی ہیں؟

دوسری بات یہ ہے کہ ناقدین کے مطابق اس ”خودکش حملے“ میں ہدف کا کچھ نہیں بگڑے گا، صرف حملہ آور ہی انجام کو پہنچے گا تو یہ بات بھی پوری طرح درست نہیں۔ وطن عزیز کی تاریخ میں اب تک جن جن سیاسی گروہوں یا پارٹیوں نے ”مقتدرہ“ کو ہدف تنقید بنایا، ان کا تعلق زیادہ تر خیبرپختونخوا، بلوچستان یا سندھ سے رہا۔ انہیں آسانی سے غدار اور وطن دشمن قرار دیا جاتا رہا۔ نوازشریف پہلے سیاسی رہنما ہیں جن کا تعلق پنجاب سے ہے اور وہ مقتدرہ کے خلاف کھل کر بول رہے ہیں۔ 1993ء سے ان کا موقف یہی ہے کہ عوام کے منتخب سویلین نمائندوں کو مکمل اختیار کے ساتھ کام کرنے دیا جائے اور مقتدرہ اپنے آئینی دائرہ کار میں رہے۔ پنجاب نصف پاکستان ہے اس کی مقبول قیادت کو ”حرف غلط“ قرار دینا اتنا آسان شائد نہ ہو پنجاب میں ہمیشہ پاکستانیت اور اپنی مسلح افواج کی حمایت غیر متزلزل رہی ہے اور اب بھی ہے،  مگر ایک فرق محسوس کیا جا رہا ہے کہ دو تین عشرے قبل جن اداروں کو مقدس گائے قرار دے کر تنقید یا تبصرے سے بالا تر سمجھا جاتا تھا، اب پنجاب میں بھی ان کی کارکردگی اور پالیسیوں پر کھلے عام تبصرے ہو رہے ہیں اور لوگ ماضی کی طرح ”بدمزہ“ نہیں ہوتے۔ نوازشریف ہوں یا شہباز شریف، مریم نواز ہوں یا بلاول بھٹو  زرداری، عمران خان ہوں یا قمر جاوید باجوہ سب انسان ہیں اور عارضی ہیں۔ آج ہیں کل نہیں ہوں گے، مگر ادارے مستقل ہیں انہیں ا چھی شہرت کے ساتھ سلامت رہنا چاہئے۔ ان کی ساکھ کو بہتر بنانا سبھی کی ذمہ داری ہے، خصوصاً جو ذمہ دار مناصب پر تعینات ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -