طاقت کا اصل سرچشمہ کون؟

طاقت کا اصل سرچشمہ کون؟
طاقت کا اصل سرچشمہ کون؟

  

طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں والی بات تو بہت پرانی ہو گئی عوام کو طاقت کا سرچشمہ سمجھ کر ذوالفقار علی بھٹو نے جو غلطی کی تھی، اس کی سزا انہیں بھگتنی پڑی۔ آج کی صورتِ حال میں یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کہ عوام کو طاقت کا سرچشمہ سمجھ لیا جائے اور وہ بھی پاکستانی عوام کو، جو درجنوں بار دھوکے کھا کر بھی نہیں سنبھلے سب سے مظلوم اورمقہور طبقہ یہی بے چارے عوام ہیں جو اتنے لائی لگ ہیں کہ سوشل میڈیا پر کوئی ایک پوسٹ ان کا ذہن تبدیل کر دیتی ہے، شاید اسی لئے نوازشریف نے یہ نعرہ نہیں لگایا تھا کہ عوام کو عزت دو، کیونکہ وہ اس نعرے کا حشر دیکھ چکے تھے، انہوں نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ ایجاد کیا تاہم وہ بھی ان کے گلے پڑ گیا، اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ ماضی میں ووٹ کو عزت نہ دینے کا گناہ کرنے والوں میں وہ بھی شامل رہے تھے۔ بات آج کی ہو رہی ہے کہ پاکستان میں طاقت کا اصل سرچشمہ کون ہے؟ کہاں اس 22 کروڑ آبادی والے ملک کے فیصلے ہوتے ہیں اور سب کو بے چون و چرا تسلیم بھی کرنے پڑتے ہیں بس جتنا اس نکتے پر غور کرتا ہوں اتنا ہی الجھتا چلا جاتا ہوں۔ اس کے بعد ایک طاقتور میرے ذہن میں ہتھوڑے برساتا ہے اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس وقت اصل سکہ کس کا جما ہوا ہے۔

.

میری طرح سب پاکستانیوں نے یہ گردان بہت دفعہ سنی ہے کہ پاکستان میں آئین کی حکمرانی ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ جس برے طریقے سے پاکستان میں آئین کی بے حرمتی کی گئی ہے اور کی جا رہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ وطنِ عزیز میں سب سے کمزور شے ہمارا آئین ہے جس آئین کی ہر طاقتور اپنے حساب سے تشریح کرنے پر قادر ہو، اس آئین کو طاقتور کیسے مانا جا سکتا ہے۔ ہر معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑتا ہے کہ اس کے بارے میں آئین کیا کہتا ہے۔ کیا 1973ء کا آئین بنانے والوں نے واقعی اس آئین میں اتنے ابہام چھوڑ دیئے تھے کہ ہر کوئی اس کی من مانی تعبیر کرتا پھرے۔ آج نوازشریف لندن میں بیٹھ کر یہ دہائی دے رہے ہیں کہ پاکستان کو آئین کے مطابق نہیں چلایا جا رہا۔ آئین میں مختلف اداروں کی جو حدود متعین کر دی گئی ہیں ان سے تجاوز کیا جا رہا ہے۔ فوج انتخابی عمل میں بھی مداخلت کرتی ہے اور حکومتیں بنانے کے لئے  اپنی طاقت بروئے کار لاتی ہے، جس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں، ادھر فوجی ترجمان ایسے الزامات کو رد کرتے ہیں اور سیاست میں فوج کے کردار کی مکمل نفی کا بیانیہ سامنے لاتے ہیں سوال یہ ہے کہ جب سب چیزیں آئین میں واضح ہیں تو ایسے جھگڑے ایسے ابہام کیوں پیدا ہوتے ہیں کیا اس میں بھی طاقت کا فلسفہ کام دکھاتا ہے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے نظریئے پر عمل کیا جاتا ہے۔

ابہام تو اس وقت بھی دو چند ہو جاتا ہے جب اپوزیشن یہ الزام لگاتی ہے کہ نیب نے پورے ملک کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ کیا نیب ایسا کر سکتا ہے، کیا وہ ماورائے آئین ادارہ ہے کہ جو چاہے کرتا پھرے۔ ایسی باتوں سے تو شبہ اُبھرتا ہے کہ ملک میں طاقت کا سرچشمہ گویا نیب ہے، جس کے بارے میں سپریم کورٹ بھی منفی ریمارکس دیتی ہے اور بعض اوقات تو خود حکومت کی جانب سے بھی کہا جاتا ہے کہ نیب اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہے۔ ایسی باتوں سے لگتا ہے کہ پاکستان کسی آئین کے تحت نہیں بلکہ جنگل جیسے قانون کے تحت چلایا جا رہا ہے، جس میں سب سے اہم چیز طاقت ہوتی ہے اور وہی حکمرانی کرتی ہے۔ ایک طرف یہ الزامات لگتے ہیں تو دوسری طرف چیئرمین نیب یہ موقف لے کر سامنے آ جاتے ہیں کہ نیب آئینی حدود میں رہ کر اپنا کردار ادا کر رہا ہے، یہ کیسی آئینی حدود ہیں، جو سپریم کورٹ کو بھی سخت ریمارکس دینے پر مجبور کر دیتی ہیں اور اپوزیشن بھی چیختی ہے کہ نیب کے ذریعے آئینی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے سب یہی سمجھتے ہیں کہ ملک میں صرف عسکری ادارہ طاقت کا اصل سرچشمہ ہے لیکن جب سیاسی قوتیں مل کر اسے نشانہ بناتی ہیں تو وہ اپنی پوزیشن واضح کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے جیساکہ حال ہی میں ہوا ہے۔ اے پی سی میں فوج کے حوالے سے سخت زبان استعمال کی گئی تو اس کے ترجمان نے کسی ضد پر اڑنے کی بجائے صاف کہہ دیا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں یہ کام سیاستدانوں کا ہے اور پارلیمینٹ سپریم ہے، جہاں فیصلے ہونے چاہئیں۔ یوں بظاہر دیکھا جائے تو کوئی بھی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ وہ طاقت کا اصل سرچشمہ ہے بلکہ سب جان چھڑاتے نظر آئیں گے۔ حتیٰ کہ ان ادوار میں بھی کہ جب ملک پر فوجی جرنیلوں کی حکومت رہی کبھی کسی جرنیل نے خود کو طاقت کا سرچشمہ نہیں کہا بلکہ کھینچ کھانچ کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ آئین کے تحت حکمرانی کر رہا ہے۔ سبھی آمروں کو حقِ حکمرانی کے لئے سپریم کورٹ سے اپنے اقتدار کو قانونی قرار دلوانا پڑا۔

اب آتے ہیں اس نکتے کی طرف جو میرے ذہن میں کلبلا رہا ہے نجانے کیوں مجھے یوں لگتا ہے کہ اس ملک میں بظاہر تمام آئینی اداروں کی چمک دمک اور رعب داب کے، طاقت کا سرچشمہ کسی ایسے مافیا کے پاس ہے جو نظر نہیں آتا مگر سارے فیصلے وہی کرتا ہے یہ مافیا کبھی بھٹو کو منظر سے دور کر دیتا ہے اور کبھی آمروں کو بھی ایسے طبقات سے گٹھ جوڑ پر مجبور کرتا ہے جو عوام دشمن ہوتے ہیں۔ حالیہ زمانے میں اس کی مثال وزیر اعظم عمران خان کے دورِ حکمرانی سے دی جا سکتی ہے، جب وہ الیکشن مہم چلا رہے تھے تو لگتا تھا کہ ان کی حکومت آتے ہی ایک بڑا انقلاب برپا ہو جائے گا۔ لیکن سب دیکھ رہے ہیں کہ انہیں مافیاز نے چاروں شانے چت کر رکھا ہے۔ انقلاب تو دور کی بات، وہ عوام کے ان حقوق کا تحفظ بھی نہیں کر پا رہے، جو انہیں ماضی میں حاصل تھے، جب تک طاقت کا یہ سرچشمہ برقرار ہے، کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور یہی آج کا کڑوا سچ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -