ہماری فضاؤں پر مغربی گِدھ منڈلا رہے ہیں!

ہماری فضاؤں پر مغربی گِدھ منڈلا رہے ہیں!
ہماری فضاؤں پر مغربی گِدھ منڈلا رہے ہیں!

  

جب دوسری عالمی جنگ ختم ہوئی تو اتحادیوں میں سے ماسوائے برطانیہ کے، کسی کو بھی خبر نہ تھی کہ یہ 6سالہ طویل اور خونریز جنگ اس طرح آناً فاناً ختم ہو جائے گی جیسے کہ وہ اگست 1945ء میں ختم ہوگئی۔ امریکہ  نے وسط جولائی 1945ء میں ایٹمی قوت کا کامیاب تجربہ کر لیا تھا۔ جب یہ اطلاع صدر امریکہ کو ملی تو پوٹسڈم (مقبوضہ جرمنی) میں ’تین بڑوں‘ کی کانفرنس جاری تھی۔ معاً ایک فلیش کوڈڈ پیغام صدر کو موصول ہوا جو یہ تھا: ”بچہ پیدا ہو گیا ہے“۔ (Baby is born)۔ جب کانفرنس میں وقفہ ہوا تو صدر امریکہ، وزیراعظم برطانیہ کو ایک طرف لے گیا اور بتایا کہ جوہری بم کا تجربہ کامیاب رہا ہے…… پھر 6اگست 1945ء کو ہیروشیما پر پہلا بم گرایا گیا…… اور اس کے بعد کی تاریخ سب قارئین کو معلوم ہے۔

البتہ جو باتیں کم معلوم ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ امریکہ اور سوویت یونین دو ایسے اتحادی تھے جن کے ہاں جنگ کے آخری دنوں میں ساز و سامانِ جنگ کے انبار لگے ہوئے تھے۔ روزانہ سینکڑوں طیارے، بحری جہاز، آبدوزیں، توپیں، ٹینک اور مختلف اقسام کا گولہ بارود وغیرہ جنگ کے محاذوں پر خرچ ہو رہا تھا۔ اس کو پورا کرنے (Replenish) کے لئے انہی انباروں سے کام لیا جا رہا تھا(یہ تفصیلات اس جنگ کی کسی بھی ملٹری ہسٹری میں دیکھی جا سکتی ہیں)۔ یہ سلاحِ جنگ اور ایمونیشن آنے والے کم از کم 10ماہ کے لئے کافی تھا۔ اسلحہ و ایمونیشن ساز کارخانے دن رات چل رہے تھے اور ختم شدہ یا ضائع شدہ اتلافات (Casualties)کی جگہ لے رہے تھے…… جب 15اگست 1945ء کو یہ دوسری عالمی جنگ جاپان میں بھی اچانک ختم ہو گئی تو بھاری اور ہلکے ہتھیار بنانے کے کارخانے یکایک بند کر دیئے گئے اور ان میں کام کرنے والی خواتین (اور مردوں) کی غالب نفری بیکار اور بے روزگار ہو گئی!

اب ایک دوسری حقیقت بھی جو کم قارئین کو معلوم ہے وہ یہ ہے کہ جرمنی اور جاپان اس جنگ میں اتحادیوں کے دشمن تھے۔ جرمنی نے تو یکم مئی 1945ء کو اتحادیوں کی سامنے سرنڈر کر دیا تھا۔  ہٹلر کی جرمنی کے دارالحکومت برلن پر اتحادیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ آدھا برلن روسیوں کے ہاتھ آیا اور آدھا امریکیوں و برطانویوں کے تسلط میں آیا۔ برلن اور جرمنی کے دوسرے بڑے بڑے شہروں میں زمین دوز اسلحہ ساز کارخانے بھی تھے اور ان کے گوداموں میں اسلحہ کے انبار بھی تھے۔ یہ دونوں اموالِ غنیمت اتحادیوں (روسیوں، برطانویوں اور امریکیوں) کے ہاتھ لگے۔

اس جنگ میں جرمنی نے تو یکم اپریل 1945ء کو ہتھیار ڈال دیئے لیکن دوسرے محوری ملک جاپان نے ایسا نہ کیا۔ وہ اکیلا ہی اتحادیوں کے ساتھ نبردآزما رہا اور4ماہ تک لڑتا رہا۔ ان چار مہینوں (اپریل تا جولائی 1945ء) میں خطہ ء بحرالکاہل میں اتنے بڑے سکیل کی بحری لڑائیاں لڑی گئیں کہ چشمِ فلک نے آج تک نہیں دیکھیں۔ کوئی قاری اگر بحری لڑائیوں (Naval Battles) کی است و بود جاننا چاہتا ہے تو اسے ان سمندری معرکوں کی تفصیلات ضرور پڑھنی چاہئیں۔جب جنرل میکارتھر نے جاپان پر قبضہ کر لیا تو صرف ہیروشیما اور ناگاساکی نام کے دو شہروں پر جوہری بمباری کے اثرات تھے۔ باقی تمام جاپان ”صحیح و سالم“ تھا۔ امریکی بمباری نے اگرچہ جاپانی مین لینڈ (Main Land) کا بہت سا نقصان کیا تھا لیکن اسلحہ و بارود سازی کے کارخانے اور گودام ویسے کے ویسے Intact تھے جن پر امریکہ نے قبضہ کر لیا۔

اسلحہ و بارود کے یہ تمام انبار جب اتحادیوں کے ہاتھ لگے تو ان کو لے جا کر اپنے پہلے سے تیار اسلحہ گوداموں میں جمع کر لیا گیا۔ ایمونیشن اور اسلحہ کے یہ ڈھیر اتنے زیادہ تھے کہ ان کو ’ٹھکانے‘ لگانے کے لئے جنگوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کرنا پڑا۔ جرمنی اور جاپان تو شکست خوردہ تھے۔ اس لئے اتحادیوں کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ ایک کو سوویت یونین (USSR) کہا گیا اور دوسرے کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ (USA)…… اندازہ کیجئے کہ انسان کس قدر ’ظلوماً جہولا‘ ہے کہ 6سال تک گھمسان کی جنگ کے بعد بھی اس کی ہوسِ خونریزی کم نہ ہوئی۔ چنانچہ 1950ء میں گزرے ہوئے کل کے پکے دوست، پکے دشمن بن گئے…… اور آج تک یہی حال ہے۔ کوریا کی جنگ کے بعد جنگوں کا ایک بڑا سلسلہ ہے جس سے اکثر قارئین واقف ہیں۔ میں ان صفحات میں ان جنگوں کا ذکر اکثر کرتا رہا ہوں۔

دوسری جنگِ عظیم کی تیسری حقیقت جو قارئین کو کم کم معلوم ہے وہ یہ ہے کہ اس جنگ کے خاتمے کے بعد فاتح اتحادیوں نے اپنے اسلحہ ساز کارخانوں اور فیکٹریوں کی تنظیمِ نو کی۔ لاکھوں مستریوں، ہنر مندوں، انجینئروں اور دفاعی سائنس دانوں کو بے روزگار کر دیا۔ ان میں اکثرلوگ  ’تلاش روزگار‘ کے سلسلے میں دوسرے ملکوں میں چلے گئے اور یہ بھی ایک بسیط موضوع ہے۔ دنیا کے جن ممالک نے ان ’بے روزگاروں‘ سے استفادہ کیا ان میں چین پیش پیش ہے…… پاکستان اس گراں قیمت نفری سے اس لئے فیض حاصل نہ کر سکا کہ اس کے پاس اپنی کوئی ایک بھی ڈیفنس پروڈکشن فیکٹری نہ تھی۔(POF واہ تو قیامِ پاکستان کے بعد قائم ہوئی)۔ اگر پاکستان کے پاس کوئی ایک بھی ایسی دفاعی اساس ہوتی تو ہم بھی آج چین اور دوسرے ممالک کی طرح دفاعی پیداوار کے سلسلے میں ایک نئے دور میں داخل ہو گئے ہوتے۔

اسی آمد و شد اور اُتھل پُتھل میں ایک اور واقعہ بھی رونما ہوا۔ امریکہ نے جولائی / اگست 1945ء میں جس جوہری ہتھیار کو آزمایا تھا اور وہ جس کارخانے میں بنایا گیا تھا اس کا نام ’پراجیکٹ مین ہٹن‘ تھا۔ جب جنگ ختم ہوئی تو اس پراجیکٹ میں بھی چھانٹی کی گئی اور ہزاروں سائنس دانوں، ہنروروں اور انجینئروں کو فارغ کر دیا گیا…… یہی لوگ تھے جو بحراوقیانوس پار کرکے روس، برطانیہ اور فرانس چلے گئے اور وہاں جا کر ’ڈاکٹر عبدالقدیر خان‘ بن گئے!

1945ء کے بعد اب دونوں سپرپاورز میں ایک اور طرح کی دوڑ شروع ہو گئی۔ امریکہ نے NATO بنالی اور سوویت یونین نے Warsaw Pact قائم کر لیا۔ اس طرح برسوں تک دوسری جنگ عظیم کے یہ اتحادی ایک دوسرے کے خلاف صف آراء رہے  ہیں۔ ہزاروں ایٹم اور ہائیڈروجن بم بنا لئے گئے اور سینکڑوں میزائلوں کے علاوہ ایسے طیارے اور بحری جہاز (آبدوز سمیت) بھی بنا لئے گئے جن سے جوہری بم دشمن پر گرائے جا سکتے تھے۔جاپان پر جوہری حملوں کے لئے تو B-29 بمبار استعمال کئے گئے تھے لیکن اب فضائی کے علاوہ زمینی اور بحری پلیٹ فارم بھی بنا لئے گئے…… پاکستان بھی جوہری اور میزائلی قوت بن گیا۔

درج بالا داستان میں نے اس لئے قارئین کے سامنے رکھی ہے کہ اب ایک عرصے سے دنیا میں کہیں زیادہ بڑے یا چھوٹے سکیل کی جنگ نہیں ہو رہی۔ ماضیء قریب میں مشرق وسطیٰ کی جنگوں سے آپ واقف ہیں۔ افغانستان میں امریکی افواج کی آمد گزشتہ 20برسوں میں ہمارے ہاں جو گُل کھلاتی رہی ہے، اس سے بھی کون واقف نہیں۔

پاکستان کی یہ ایک بڑی سٹرٹیجک کامیابی ہے کہ وہ اب تک کسی جنگ کے پھندے میں گرفتار نہیں ہوا۔ لیکن میرے ذہن میں جو سوال رہ رہ کر اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ تمام جدید اور ترقی یافتہ ممالک ایک عرصے سے جو سٹیٹ آف دی آرٹ اسلحہ اور گولہ بارود بناتے رہے ہیں اس کی گلوبل کھپت دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ، فرانس، برطانیہ، اٹلی، سویڈن، جنوبی افریقہ اور چین کو بڑی شدت سے ایسے ’گاہکوں‘ کی تلاش ہے جو ان کے دفاعی کارخانوں کی مصنوعات کو خرید کر ان کی ورک فورس کو بے روزگار ہونے سے بچائیں …… کبھی آپ نے سنایا کہیں پڑھا ہے کہ امریکہ نے فرانس کو، فرانس نے برطانیہ کو، برطانیہ نے روس کو اور روس نے امریکہ کو کوئی ایسا اسلحہ / گولہ بارود فروخت کیا ہو جس کی تعداد اور حجم قابلِ ذکر ہو؟

پاکستان کی LOC اور چین کی LAC پر آئے دن انڈیا کی طرف سے ترک تازیاں اور جارحیتیں ہوتی رہتی ہیں، ہم آئے روز انڈین ہائی کمشنر کو اپنے ہاں وزارت خارجہ میں طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کراتے رہتے ہیں اور آئے روز ہماری سرحدوں (مشرقی اور مغربی دونوں) پر ہمارے آفیسرز اور جوان شہید ہوتے رہتے ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟…… وہ گِدھ جن کو دنیا سپرپاورز کا نام دیتی ہے وہ تاک لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کے اسلحہ گودام ’نکونک‘ بھر چکے ہین، انہیں خالی کرنے کے لئے صرف عرب ریاستیں ہی ٹارگٹ نہیں جو ایک دوسرے سے برسرِ پرخاش تو ہیں، برسرِ پیکار نہیں۔ اور جب تک پیکار نہ ہو اسلحہ اور گولہ بارود کی کھپت کا سکیل بہت ’آہستہ خرام‘ رہتا ہے۔ ان گِدھ ممالک کی نظریں پاکستان، انڈیا اور چین پر ہیں۔ اگر ہماری Loc یا مغربی سرحد اور انڈو چائنا LAC پر کوئی بڑی جنگی پیشرفت ہوتی ہے تو یہ گِدھ فوراً آسمان سے اتر کر ہماری لاشوں پر آ بیٹھیں گے…… ان سے پوچھیں، یورپ کے کسی شہر یا خطے میں گزشتہ 75برسوں (1945ء تا حال) سے جنگوں کاوہ سلسلہ کیوں رکا ہوا ہے جو 17ویں صدی سے لے کر وسط 20ویں صدی تک جاری و ساری رہا تھا۔

پاکستان کو ہر قیمت پر جنگ سے گریز کرنا چاہیے۔ غنیم کے خلاف ہر طرح کی تیاریاں کرنا ایک بات ہے، وہ ہمیں ضرور کرنی ہیں لیکن جہاں تک ہو سکے مغربی گِدھوں کو پاکستانی (یا ہندوستانی) لاشوں پر منڈلانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ اسی میں پاکستان کا خوشحال مستقبل پوشیدہ ہے!

مزید :

رائے -کالم -