"کوئی بھی محب وطن پاکستانی نوازشریف کی حمایت نہیں کر سکتا" جلیل شرقپوری اور نشاط ڈاہا کے بعد ایک اور لیگی رہنماء کھل کر پارٹی قیادت کیخلاف بول پڑا

"کوئی بھی محب وطن پاکستانی نوازشریف کی حمایت نہیں کر سکتا" جلیل شرقپوری اور ...

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی تقریر کے بعد سیاسی ماحول گرم ہے ، ایک طرف کچھ لیگی رہنمائوں کی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی تصاویر وائرل ہیں تو دوسری طرف جلیل شرقپوری، نشاط ڈاہا کے بعد اب خانیوال سے مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی نے فیصل خان نیازی بھی بول پڑے اور قرار دیا ہے کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی  نوازشریف کی حمایت نہیں کر سکتا۔

مقامی ویب سائٹ کے مطابق  فیصل خان نیازی نے تقریر سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں نواز شریف کے اس بیانیے کی پرزور مذمت کرتاہوں اور اعلانیہ طور پر کہتا ہوں میں اس کی حمایت نہیں کرتا، یقین ہے کہ میرے جیسے کئی محب وطن لیگی ارکان اسمبلی اور کارکن اس تقریر سے ناخوش ہیں۔ان کا مزید کہناتھاکہ نواز شریف کا موجودہ بیانیہ پاکستان مخالف قوتوں کے بیانیے کا عکس ہے اور یہ پاکستان کی حفاظت کرنے والوں کے خلاف ہے، یہ بیانیہ پاکستان کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی توہین ہے۔

یادرہے اس سے قبل نجی ٹی وی سماء سے گفتگو کرتے ہوئے نشاط ڈاہا نے کہا میاں نواز شریف نے افواج پاکستان کے خلاف جو بات کی ہے کیا وہ صحیح بات ہے؟ میاں نواز شریف سے بندہ پوچھے کہ آپ اپنے دور میں ایمرجنسی صورتحال میں فوج کو کیوں بلاتے تھے؟ فوج ہماری حکومت کا حصہ ہے، کوئی بھی مشکل وقت ہو تو ہم فوج کو ہی بلاتے ہیں،  فوج کو نہ بلایا جائے تو وہ مداخلت نہیں کرتی، میاں نواز شریف جو باتیں کر رہا ہے یہ منافق ہے اور غدار ہے۔

نواز شریف کو منافق اور غدار قرار دیے جانے پر اینکر پرسن نے نشاط ڈاہا سے سوال پوچھا کہ اگر وہ یہ سب ہیں تو آپ ان کی سیٹ کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟اس پر نشاط ڈاہا نے کہا کہ اگر سیٹ چھوڑ دوں تو اسمبلی میں اس کے خلاف کون بولے گا؟اینکر پرسن نے تجویز دی کہ آپ ن لیگ کی سیٹ چھوڑ کر دوبارہ الیکشن لڑ کر واپس اسمبلی میں آجائیں ۔ اس پر نشاط ڈاہا نے کہا میں اتنا امیر آدمی نہیں ہوں، الیکشن کیلئے پیسے چاہئیں، جب ہم حلف اٹھاتے ہیں تو لکھا ہوتا ہے کہ پاکستان کا وفادار رہوں گا اور میں اپنے حلف کی پاسداری کر رہا ہوں۔خیال رہے کہ نشاط ڈاہا الیکشن کے بعد سے ہی اپنی پارٹی ن لیگ کے خلاف نظر آتے ہیں، وہ ان اراکین اسمبلی میں سے ہیں جنہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کی تھی۔

ادھر پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی جلیل شرقپوری کی طرف سے  نواز شریف کا بیانیہ مسترد کیے جانے  کے بعد ن لیگ کی طرف سے لیگی ایم پی اے کی رکنیت معطل کی جاچکی ہے ، سابق وزیراعظم کی طرف سے اے پی سی میں پاک فوج مخالف تقریر کرنے پر جلیل شرقپوری نے میاں نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حالیہ اے پی سی میں پاک فوج مخالف تقریر قومی مفاد کے سراسر خلاف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھ سمیت محب الوطن پاکستانیوں کی کثیر تعداد ایسے منفی موقف سے اعلان برات کرتی ہے۔ افواجِ پاکستان ملکی سلامتی کی خاطر سرحدوں پر اپنا تن، من، دھن قربان کرنے پر تیار ہیں۔لیگی ایم پی اے کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) فوج پر نواز شریف کی جانب سے سیاسی معاملات میں مداخلت کا بیان دشمن کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے ۔ ن لیگی قیادت نے اے پی سی کے فورم اور سوشل میڈیا کے ذریعے انڈیا اور مودی کی زبان بولی۔ ایسے ملک دشمن بیانات سے میرا اور دیگر کئی ن لیگی ارکانِ کا کوئی تعلق نہیں۔ 

مزید :

اہم خبریں -قومی -سیاست -