بے راہ روی کا نتیجہ؟ مغربی ممالک میں ویاگرا استعمال کرنے والے نوجوانوں کی تعداد میں بڑا اضافہ، تازہ سروے کا پریشان کن نتیجہ

بے راہ روی کا نتیجہ؟ مغربی ممالک میں ویاگرا استعمال کرنے والے نوجوانوں کی ...
بے راہ روی کا نتیجہ؟ مغربی ممالک میں ویاگرا استعمال کرنے والے نوجوانوں کی تعداد میں بڑا اضافہ، تازہ سروے کا پریشان کن نتیجہ
کیپشن:    سورس:   creative commons license

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) جنسی قوت کی گولی ویاگرا بنانے والی کمپنی کے زیرانتظام ایک تحقیقاتی سروے میں نوجوانوں کی جنسی صحت کے متعلق ایسا انکشاف سامنے آ گیا ہے کہ سن کر حیرت کی انتہاءنہ رہے۔ میل آن لائن کے مطابق حالیہ سالوں میں نوجوان نسل میں ویاگرا استعمال کرنے کی شرح انتہائی تیزی سے بڑھی ہے جس کے پیش نظر ’ویاگرا کنیکٹ‘ بنانے والی کمپنی ’Upjohn‘ کی طرف سے ایک تحقیقاتی سروے کرایا گیا ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ اس وقت 18سے 24سال کے 18فیصد نوجوان جنسی کمزوری کا شکار ہیں۔ یہ شرح گزشتہ دو دہائیوں میں اس قدر تیزی سے بڑھی ہے کہ 20سال قبل یہ صرف 2فیصد تھی۔ 

تحقیقاتی سروے کرنے والی ٹیم کی سربراہ اور سپیشلسٹ نرس لورین گروور کا کہناتھا کہ ”میں 27سال سے اس شعبے میں ہوں۔ میرے پاس عضو مخصوصہ کی ایستادگی کے جتنے مریض اس وقت سامنے آتے ہیں ان میں سے 20فیصد سے زائد لوگ 30سال سے کم عمر ہوتے ہیں۔ ایک دہائی پہلے تک اس عمر کے مریضوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی۔ اس وقت تو 16سال تک کی عمر کے نوعمر لڑکے بھی عضو کی ایستادگی کے مسئلے میں مبتلا ہو کر ہمارے پاس آ رہے ہیں جو کہ انتہائی پریشان کن امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل میں ویاگرا کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہمارے خیال میں نوعمر لڑکوں میں یہ مسئلہ زیادہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ فحش مواد کا انٹرنیٹ پر آسانی سے دستیاب ہونا ہے۔ 20سال پہلے تک یہ مواد اس قدر آسان دستیاب نہیں ہوتا تھا اور ہم جانتے ہیں کہ فحش فلمیں دیکھنا انسان کی جنسی صحت پر کس قدر منفی اثرات مرتب کرتا ہے، چنانچہ اب نوجوانوں میں یہ عارضہ عام دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی دیگر کئی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں تاہم اس کا حتمی سبب جاننے کے لیے ہمیں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔“

مزید :

تعلیم و صحت -