فوج جیسے آئینی ادارے کی مخالفت کا سوچ بھی نہیں سکتا ، 2023ءکے الیکشن میں نوازشریف نااہل نہ رہے تو پھر سے وزیراعظم ہوں گے ، خواجہ آصف کا دعویٰ

فوج جیسے آئینی ادارے کی مخالفت کا سوچ بھی نہیں سکتا ، 2023ءکے الیکشن میں ...
فوج جیسے آئینی ادارے کی مخالفت کا سوچ بھی نہیں سکتا ، 2023ءکے الیکشن میں نوازشریف نااہل نہ رہے تو پھر سے وزیراعظم ہوں گے ، خواجہ آصف کا دعویٰ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اورسابق وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ میں سیاسی کارکن ہوں ،کبھی فوج جیسے آئینی ادارے کی مخالفت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، اسٹیبلشمنٹ کا آئینی اداروں سے کوئی ٹکراؤ نہیں تھا،مارشل لاء شخصیات کے ٹکراؤ کی وجہ سے لگے، میری وزارت(دفا ع ) کے دوران اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ تعاون کیا، میری ذاتی رائے ہے، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں مزید توسیع نہیں ہونی چاہیے ، ملک بھر میں کرپشن کی بھرمار ہے ، حکومت پھر سے آئی ایم ایف کے پاس جا رہی ہے، اگر2023کے الیکشن میں میاں نوازشریف نااہل نہ رہے تو پھر سے وزیر اعظم ہوں گے ۔

 نجی ٹی وی کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ میاں صاحب ہمیشہ آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں،اسٹیبلشمنٹ کا آئینی اداروں سے کوئی ٹکراؤ نہیں تھا،مارشل لا شخصیات کے ٹکراؤ کی وجہ سے لگے،میری وزارت کے دوران اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ تعاون کیا،عدلیہ،میڈیا ،پارلیمنٹ سمیت تمام ادارے اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں، اہم معاملات میں بات چیت ہونی چاہیے،میں ذاتی طور پر بات چیت کے حق میں ہوں، میری ذاتی رائے ہے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں ہونی چاہیے ،افواج پاکستان نے ملک کےلئے جانیں قربان کی ہیں ، ہماری جتنی بھی اوقات ہے ہم اس کے مطابق حاضر ہیں،میں یہ بات واضح کردوں کہ بطور شہری ،بطور سیاسی کارکن میں کبھی بھی فوج جیسے آئینی ادارے کی مخالفت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین کی معیشت آنے والے آگے اڑھائی سال میں ٹھیک ہونے والے نہیں ، حکومت پھر سے آئی ایم ایف کے پاس جا رہی ہے ۔خواجہ آصف نے کہا کہ ملک بھر میں کرپشن کی بھرمار ہے ،ہم آنے والے دور میں شفاف الیکشن کی طرف دیکھ رہے ہیں ، میری جماعت جو فیصلہ ای وی ایم سے متعلق کرے گی میں اس کا پابند ہوں گا ،کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن شفاف ہوئے،ہر پولنگ سٹیشن پر گیا ہوں کوئی مداخلت نظر نہیں آرہی تھی، آج بھی اپوزیشن جماعتوں کا اگر اتحاد بنے تو قومی ایجنڈے پر ہونا چاہیے۔

۔لیگی رہنما نے کہا کہ شریف خاندان کے خلاف تحقیقات برطانیہ میں ہوں تو نتائج مختلف ہوتے ہیں مگر حکومت پاکستان میں نتائج اپنی مرضی سے چاہتی ہے ،میری رائے کے مطابق پاکستان میں عدالتیں آزاد اور منصف ہیں ،اگر2023کے الیکشن میں میاں نوازشریف نااہل نہ رہے تو پھر سے وزیراعظم ہوں گے ،اگر شریف خاندان آپس میں تنازعات کا شکار ہوتا تو شاہد خاقان عباسی کبھی بھی وزیراعظم نہ بنتے ،مسلم لیگ ن کوئی فاشسٹ جماعت نہیں بلکہ ایک جمہوری جماعت ہے،میاں نوازشریف فیصلہ کریں گے کہ اگلے الیکشن میں کون وزیراعظم ہوگا۔

مزید :

قومی -