یوں محسوس ہوا کہ جیل سے نکال کر عمر بھر کی قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے

 یوں محسوس ہوا کہ جیل سے نکال کر عمر بھر کی قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے
 یوں محسوس ہوا کہ جیل سے نکال کر عمر بھر کی قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:4 

بطور بیٹا:

جب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ صدیق سالک بطور بیٹا کیسے تھے تو ہمیں انداز ہ ہوتا ہے کہ وہ بے حد سعادت مند اور بے انتہا محبت کرنے والے بیٹے تھے۔ چونکہ صرف اڑھائی سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تھے اس لیے باپ کی جگہ پر بھی ماں ہی ان کی محبت کا محور تھیں اگرچہ ان کی والدہ بھی ان سے بہت محبت کرتی تھیں لیکن والدہ سے ان کی محبت غیرمعمولی تھی۔وہ اپنی والدہ کی 3بیٹیوں کے بعد آنے والے پہلے اور آخری بیٹے تھے اس لیے وہ والدہ کو بہت عزیز تھے۔

صدیق سالک نے اپنی پہلی کتاب ”ہمہ یاراں دوزخ“ کا انتساب اپنی والدہ کے نام کیا ہے صدیق سالک جب بھارت کی قید سے رہا ہو کر وطن واپس پہنچے تو اس سے صرف 9دن پہلے ان کی والدہ سفر آخرت پر روانہ ہو گئیں اس کرب کو انہوں نے بڑے رقت آمیز پیرائے میں بیان کیا ہے:

”مجھے یوں لگا کہ ارض و سما چکر ا گئے ہیں سلسلہ کائنات میں خلل پڑ گیا ہے اس تیز گردباد میں ‘ میَں ایک ادنیٰ اور بے بس ذرے کی طرح تھپیڑے کھا رہا ہوں۔طوفان ذرا تھما تو یوں محسوس ہوا کہ مجھے جیل سے نکال کر عمر بھر کی قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے ایک ایسی قید تنہائی جو کلکتہ سیل سے کہیں زیادہ تاریک ‘ طویل اور گھمبیر ہے۔کیا میں اس قید کا بوجھ سہار سکوں گایا ہمت ہار کر دم توڑدوں گا؟“ 

دراصل صدیق سالک کےلئے ان کی والدہ صرف ماں نہیں باپ کا نعم البدل بھی تھیں کیونکہ والد کا سایہ سرسے اٹھ جانے کے بعد وہ انھیں ماں کی محبت بھی دیتی تھیں اور زمانے کے سرد گرم سے بھی بچاتی تھیں۔ والدہ ان کےلئے ایسے گھنے درخت کی مانند تھیں جس کی گھنی چھاﺅں میں راحت بھی ملتی ہے اور موسم کی سختی سے تحفظ بھی۔

بیگم زرینہ سالک جو صدیق سالک کے ماموں کی بیٹی ہیں ان کی والدہ سے غیرمعمولی محبت کے بارے میںبتاتی ہیں:”میری پھپھو صدیق سے بہت محبت کرتی تھیں وہ مستقل ہمارے ساتھ شہر میں نہیں رہتی تھیں کیونکہ وہ شہر کی زندگی کو پسند نہیں کرتی تھیں۔ جب شادی کے بعد وہ ہمارے پاس رہنے آتیں تو صدیق ان کےلئے بستر اپنے کمرے میں ہی لگواتے وہ کہا کرتے تھے کہ میری ماں گاﺅں میں بھی اکیلی سوتی ہے بیٹے کے پاس آ کر بھی اکیلی سوئے یہ مجھے اچھا نہیں لگتا پھر جب بچے ہو گئے تو انھیں بچوں کے کمرے میں سلاتے کہ کبھی انہیں احساس تنہائی نہ ہو-“

بطور شوہر:

بیگم زرینہ سالک ان کے بارے میںبتاتی ہیں:”وہ بہت سادہ‘ ہمدرد اور خیال رکھنے والے انسان تھے انھیں غصہ بہت کم آتا تھا لیکن وہ اس کا اظہار بول کر نہیں کرتے تھے بلکہ خاموش ہو جاتے۔ گھریلو معاملات میں زیادہ مداخلت نہیں کرتے تھے یہ شعبہ انہوں نے کلّی طور پر مجھ پر چھوڑا ہوا تھا اگر میں ان سے گھر کے کسی معاملے یا ملازم کے بارے میں بات کرتی تو وہ کہتے تھے گھر کے معاملات خود نپٹایا کرو مجھ سے ذکر مت کیا کرو بلکہ مذاقاً کہتے تھے کہ یہ ذمے داری تمہاری ہے اگر کوئی مسئلہ ہے تو ملازم کے بجائے تمہیں تبدیل کر دیتے ہیں‘ملازموں سے ان کا رویہ بہت نرم ہوتا تھا فوجی ملازمت کی وجہ سے ابتداءسے ہی گھر پر بٹ مین ہوتا تھا لیکن وہ اپنے کام اس کے بجائے مجھے کہتے تھے۔“

بطور والد:

صدیق سالک کی سب سے بڑی صاحبزادی صحیفہ سالک ان کے بارے میں بتاتی ہیں:”مجھے ان کی شخصیت میں جو بات بہت پسند ہے وہ یہ کہ اتنے اعلیٰ منصب پر پہنچنے کے بعد بھی وہ اپنے عزیزوں رشتے داروں کی چھوٹی سے چھوٹی خوشی اور غموں کو یاد رکھتے تھے۔ زیادہ تر لوگ مصروفیت کا بہانہ بنا کر اس سے دامن بچاتے ہیں لیکن ابو نے کبھی ایسا نہیں کیا ان کی ملازمت کی نوعیت ایسی تھی کہ وہ بہت مصروف رہتے تھے لیکن مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی انہوں نے کسی عزیز رشتے دار کی خوشی ‘ غمی کا کوئی موقع Missکیا ہو۔“

صدیق سالک کے اکلوتے بیٹے سرمد سالک اپنے والد کے بارے میں کہتے ہیں:”ابو کا رویہ ہم سب بہن بھائیوں سے بہت دوستانہ تھا واحد نرینہ اولاد ہونے کی وجہ سے وہ مجھ سے خاص محبت رکھتے تھے لیکن جنس کی بناءپر وہ اولاد میں کوئی تخصیص نہیں کرتے تھے ہماری تعلیم پر بہت دھیان دیتے تھے ان کی خواہش تھی کہ ہم سب بہن بھائی اعلیٰ تعلیم حاصل کریں وہ ہم سے کہا کرتے تھے کہ اتنی محنت کرو کہ اعلیٰ اداروں میں تمہیں میرٹ پر داخلہ مل جائے مجھ سے کبھی یہ توقع مت رکھنا کہ میں سفارش سے تمہیں کسی مقام پر پہنچاﺅں گا۔ انھیں خود بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش تھی جو بوجوہ پوری نہ ہو سکی وہ میرے ذریعے اس خواہش کی تکمیل چاہتے تھے لیکن ان کی اچانک موت کی وجہ سے یہ خواہش پھر پوری نہ ہو سکی۔“ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -