ملتان کے عوام کی بیرونی حملہ آوروں کےخلاف جنگ10 ماہ تک جاری رہی

 ملتان کے عوام کی بیرونی حملہ آوروں کےخلاف جنگ10 ماہ تک جاری رہی
 ملتان کے عوام کی بیرونی حملہ آوروں کےخلاف جنگ10 ماہ تک جاری رہی

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:58 

جب مولراج نے بغاوت کا فیصلہ کر ہی لیا تو پھر اس نے بہادری کا ثبوت دیتے ہوئے بے جگری کے ساتھ باغیوں کی راہبری کی۔ اس کے تمام اطراف پیغام بھیجنے پر ہندو، مسلمان اور سکھ مذہبی گروہ بندیاں چھوڑ کر لڑا ئی میں کود پڑے جو لوگوں اور انگریزوں کے درمیان آزادی کی جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ انگریزوں کے خلاف ملتان کے عوام کی یہ جنگ بیرونی حملہ آوروں کے خلاف عوامی جنگ کی شکل اختیار کر گئی اور تقریباً 10 ماہ تک جاری رہی۔ 

ملتان کی بغاوت کی اطلاع ملتے ہی ریذیڈنٹ نے گورنر جنرل اور کمانڈر انچیف سے ملتان پر چڑھائی کےلئے برطانوی افواج بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن گورنر جنرل اس بغاوت کو مزید علاقوں تک پھیلنے کا انتظار کرتا رہا تاکہ اسے معاہدہ بھیرو وال سے منحرف ہونے کا بہانہ مل سکے اور سارے پنجاب پرقبضہ کرنے کا جواز پیدا ہو جائے۔ اس وقت لاہور، فیروز پور اور جالندھر میں برطانوی فوج کے 3 متحرک فوجی بریگیڈ موجود تھے جن کی مدد سے ملتان پر فوراً کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ لیکن گورنر جنرل اور کمانڈر انچیف نے موسم کی خرابی کا عذر کرکے افواج روانہ کرنے سے انکار کر دیا۔ گورنر جنرل نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا۔”آپریشن کرنے سے پہلے پھوڑا پکنے کا انتظار کرنا چاہئے۔“

کچھ نہ کچھ کارروائی کا مظاہرہ کرنے کےلئے فریڈرک کری نے ایک طرف ڈیرہ اسماعیل خان سے لیفٹیننٹ ایڈورڈز کو اور دوسری طرف جنرل کورٹ لینڈ اور نواب بہاولپور کو اپنی افواج سمیت ملتان پہنچنے کا حکم دیا۔

لیفٹیننٹ ایڈورڈز اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان میں تھا۔ اس نے مذہبی تضادات کا حربہ استعمال کرتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان کے پٹھانوں کو ہندوﺅں اور سکھوں کے خلاف بھڑکایا۔ پٹھان رنگروٹ بھرتی کیے اور مقامی غداروں کو لے کر ملتان کی طرف کوچ کر دیا۔ انگریزوں کا ساتھ دینے والوں میں سردار فوجدار خان علی زئی(جسے ملتان پر قبضہ کرنے کے بعد خطاب، پنشن اور جاگیر ملی) غلام سردار خان خاکوانی اور ملتان کے افغان سردار غلام مصطفی خان وغیرہ شامل تھے۔ نواب بہاول خان والئی بہاولپور نے بھی اس جنگ میں انگریزوں کی مدد کی۔ اس کا سپہ سالار فتح محمد غوری8 ہزار سپاہی، 11 بڑی توپیں اور300 چھوٹی توپوں سمیت انگریزوں کی مدد کےلئے ملتان آیا۔ ملتان پر حملہ آور فوج انگریز افسروں کے سوا زیادہ تر دیسی سپاہیوں پر مشتمل تھی۔

لیفٹیننٹ ایڈورڈز نے پہلے ڈیرہ غازی خان میں مقامی غداروں کو ساتھ ملا کر ملک کی آبرو کے محافظوں کو شکست دی اور دریائے سندھ کے پرلے علاقے پر قابض ہوگیا۔ ڈیرہ غازی خان کی شکست سے لڑائی کا پانسہ پلٹ گیا۔ اگر یہ علاقہ مولراج کے قبضے میں رہتا اور شمالی علاقے کے باغی دیوان مولراج سے آن ملتے تو ممکن تھا کہ دونوں مل کر لاہور کے دروازے تک فوجیں لے جانے میں کامیاب ہو جاتے۔

18 جون1846ءکو لیفٹیننٹ ایڈورڈز نے امیر بہاولپور کی افواج کی مدد سے مولراج کو کنیری کے مقام پر شکست دے کر قلعہ بند ہونے پر مجبور کر دیا۔20 جون کو شجاع آباد کے قلعہ دار نے انگریز فوج کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔ اب ملتان کو ایک طرف لیفٹیننٹ ایڈورڈز کی فوجوں نے اور دوسری طرف جنرل وہش اور راجہ شیر سنگھ کی فوجوں نے محاصرے میں لے لیا۔ ان کے پاس قلعہ کی دیواروں کو مسمار کرنے کے ذرائع نہیں تھے اس لیے محاصرے کا وقت طویل ہوگیا۔7 ستمبر کو ملتان کا پہلا محاصرہ شروع ہوا تھا لیکن جب راجہ شیر سنگھ نے اپنے والد کی بغاوت کی خبر سن کر اپنی فوج انگریز کیمپ سے الگ کرلی تو یہ محاصرہ بھی اٹھا لیا گیا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -