حلف نامہ بقراط(Hippocratic Oath)

حلف نامہ بقراط(Hippocratic Oath)
حلف نامہ بقراط(Hippocratic Oath)

  

تحریر: ملک اشفاق

 قسط:28

مارٹی ایبانیز(Marti Ibanez) نے 1961ءمیں یونیورسٹی آف ایلڈلیڈ میںبقراط کے کام پر تحقیقی مقالہ شائع کیا۔ اس مقالے کے صفحہ 217 پر مارٹی نے لکھا کہ حلف نامہ بقراط طبی پیشے کی اخلاقیات کے حوالے سے بہت ہی شاندار دستاویز ہے۔ اس حلف نامے کو بقراط کا اہم ترین کام تسلیم کیا جاتا ہے۔ حلف نامہ بقراط مقبول ترین دستاویز ہے۔

1961ءمیں مارٹی ایبانیز نے حلف نامہ بقراط پر نئے سرے سے تحقیق کی اور ثابت کیا کہ یہ دستاویز بقراط نے ہی لکھی اور ترتیب دی تھی۔ یہ دستاویز طبی اخلاقیات کی بنیاد بھی ہے اور بہت سے طبی اقرارناموں اور قوانین کی بھی بنیاد ہے۔ اس دستاویز نے طبی پیشے کو بہترین بنانے میں طبی اخلاقیات کو استحکام بخشا ہے۔ اس حلف نامے کو آج بھی میڈیکل گریجوایٹس ڈگری حاصل کرتے وقت انہی الفاظ میں دھرا کر تجدید عہد کرتے ہیں۔

 کہا جاتا ہے بقراط سے پہلے علم طب صرف مخصوص خاندانوں تک محدود تھا۔ یہ علم سینہ بہ سینہ دادا سے باپ اور باپ سے بیٹے کو منتقل ہوتا تھا۔ لیکن بقراط نے علم طب پر کتابیں لکھیں اور اس علم کو عام کر دیا۔ اب اسے اندیشہ تھا کہ اس علم سے نااہل لوگ غلط اور خلاف اخلاق کام لیں گے اس لیے ضروری تھا کہ طب کے طالب علموں سے ایک ایسا حلف لیا جائے کہ فارغ التحصیل طبیب ایک اخلاقی دائرے کے اندر رہ کر عوام الناس کے لیے خدمات سرانجام دیں۔

 حلف نامہ بقراط کا متن

 باور رہے کہ بقراط نے خدا کے لیے لفظDevine استعمال کیا ہے یہ نام خدائی صفات کا احاطہ کرتا ہے۔ خدا جو کہ زندگی عطا کرنے والا ہے، وہی موت طاری کرتا ہے، وہ صحت عطا کرنے والا اور شفا کا خالق بھی ہے۔ خدا ہر بیماری کا علاج بھی وجود میں لایا ہے اس لیے میں اس کی عظمت کی قسم اٹھاتا ہوں، اس کے بعد اسقلی بیوس اور تمام دیوی دیوتاﺅں کی قسم اٹھا کر اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے عہد کو پورا کروں گا اور اس شرط کی پابندی پر ثابت قدم رہوں گا۔ میں اپنے استاد کو جس نے مجھے طب کی تعلیم دی اپنے باپ کی مانند جانوں گا۔ اپنے استاد کی ہر طرح کی خدمت کروں گااور اپنی جائز آمدنی میں سے استاد کا حصہ بھی رکھوں گا۔

 اگر استاد محترم کو میری مدد کی ضرورت ہوگی، خواہ مالی ہو یا جسمانی تو استاد کی یہ خدمت بجا لاﺅں گا۔ استاد کی اولاد کو اپنے حقیقی بھائیوں کی طرح سمجھوں گا اور ان کی تعلیم و تربیت کرنا میرا فرض ہوگا۔ میں استاد کی اولاد سے کسی قسم کی اجرت نہ لوں گا۔ میں اپنے استاد اور اپنے ہم مکتبوں کو بھی بھائیوں کی طرح سمجھوں گا میرے ہم مکتبوں نے جو میری طرح عہد کیا ہے میں ان کی عزت و احترام میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا۔

 طبی علوم و مسائل کی عزت قائم رکھنے میں استاد کی ہدایات پر جو عمل کرنے کی قسم اٹھائی ہے اس کو خلوص دل سے پورا کروں گا۔

 میں ہرممکن کوشش کروں گا کہ ہر ایک تدبیر علاج میں بیماروں کے فائدہ کے لیے کام کروں اور یہی میرا مقصد حیات ہوگا۔ میرے زیر علاج مریضوں کو جن چیزوں سے تکلیف یا نقصان ہونے کا خطرہ ہوگا، میں ان چیزوں اور کاموں سے دور رہوں گا۔

 میں مہلک دوا کسی کو نہ دوں گا، بے شک ایسی مہلک دوا مجھ سے مانگی ہی کیوں نہ جائے اور نہ ہی میں کسی مریض کو ایسی دوا بتاﺅں گا جو زہر قاتل ہو۔

 میں عہد کرتا ہوں کہ میں عورتوں کو اس طرح کی کوئی دوا نہ دوں گا جس سے ان کا حمل ضائع ہو جائے۔

 میں اپنے پیشے کا احترام قائم رکھوں گا اور دوا تجویز کرنے میں پوری طرح سوچ سمجھ کر کام کروں گا اور اپنی پاک دامنی کا پورا خیال رکھوں گا۔

 جس کے مثانہ میں پتھری وغیرہ ہو اس پر خود جراحی کا عمل نہ کروں گا بلکہ یہ کام ایسے قابل شخص کے سپرد کیا جائے گا جو اس میں مہارت رکھتا ہو۔ جس گھر میں جاﺅں گا مریض کے فائدے کے لیے کام کروں گا اور کسی برائی کا خیال دل میں نہ لاﺅں گا۔

 ہر کام میں میانہ روی کا پابند رہوں گا اور مریضوں کے راز کو کبھی کسی پر ظاہر نہ کروں گا۔ کسی مریض کی شرمناک حالت کا ذکر کسی سے نہ کروں گا۔ میرا پیشہ مقدس ہے اور اس عہد کی خلاف ورزی کا انجام طبیب کی بدنامی ہوگا۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -